قومی اداروں کی نج کاری کی منظوری

قومی اداروں کی نج کاری کی منظوری

نجکاری کمیشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے پی آئی اے سمیت تین اہم اداروں کو نجی ملکیت میں دینے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان اداروں کے ملازمین کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔ ان اداروں میں ہیوی کمپلیکس اور نیشنل پاور کنسڑکشن کمپنی بھی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ دوسرے اداروں کے 10فیصد سے 15فیصد حصص بھی فروخت کئے جائیں گے۔ نجکاری کے مخالفین کی طرف سے اس عمل کی اس لئے شدید مخالفت کی جا رہی ہے کہ اس طرح قومی اداروں کو پرائیویٹ ہاتھوں میں دیا جائے گا، بہت سی صورتوں میں ٹرانسپرنسی نہ ہونے کی بناءپر عوام کو قومی مفادات کے خلاف اداروں کو اونے پونے پسندیدہ لوگوں کو دینے کے شبہات باقی رہ جاتے ہیں۔ ان شکوک کا ازالہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ اس سارے عمل کو سو فیصد ٹرانسپرنٹ بنایا جائے اور نیلام عام کے ذریعے نجکاری کی جائے۔ نجکاری کے لئے اداروں کے تمام اثاثہ جات اور نجکاری کی شرائط اور دیئے جانے والے حصص وغیرہ کے متعلق ہر بات واضح کی جائے۔ ان اداروں میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو نیلامی میں حصہ لینے اور معاملات طے کرنے کے سلسلے میں کسی طرح کی شکایات نہیں ہونی چاہئیں۔ قوم کی تسلی و تشفی کے لئے یہ سب کچھ بے حد ضروری ہے۔ صرف اسی طرح نجکاری کرتے ہوئے حکومت کسی طرح کی بدنامی مول لینے سے بچ سکتی ہے۔ قوم کو اپنے قومی اثاثہ جات کے محفوظ ہونے کا احساس ہو سکتا ہے۔

مزید : اداریہ


loading...