امریکہ کیلئے ’خطرناک‘ قیدی بگرام جیل سے رہا کرنے کا اعلان

امریکہ کیلئے ’خطرناک‘ قیدی بگرام جیل سے رہا کرنے کا اعلان

 کابل ( مانیٹرنگ ڈیسک) افغان صدر حامد کرزئی نے ناکافی ثبوت اور بلاوجہ خطرہ سمجھ کر امریکہ کی طرف سے قید کیے جانے والے افراد کو رہا کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ امریکہ ان افراد کی رہائی کے حق میں نہیں اور عالمی نشریاتی اداروں کا خیال ہے کہ اس اقدام  سے افغان صدر اور امریکی انتظامیہ میں تناﺅ بڑھ جائے گا ۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق افغان صدر حامد کرزئی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے سکیورٹی خطرہ قرار دیے جانے والے ایسے قیدیوں کو رہا کر دیا جائے گا جن کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے ثبوت کافی نہیں ہیں اورہم جانتے ہیں کہ بدقسمتی سے ایسا بگرام میں ہو رہا ہے لیکن یہ غیر قانونی ہے اور افغانستان کی سالمیت کی خلاف ورزی ہے اور ہم اس کی مزید اجازت نہیں دے سکتے، ’ہم معصوم افغان شہریوں کو ان کے خلاف مقدمہ چلائے بغیر مہینوں اور برسوں تک بلاوجہ قید میں رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ بی بی سی کے مطابق نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے امریکہ اور افغانستان کے درمیان اختلافات میں مزید اضافہ ہوگا۔واشنگٹن کے ساتھ سکیورٹی معاہدے پر دستخط نہ کرنے کی وجہ سے پہلے ہی دونوں ممالک کے تعلقات تناو¿ کا شکار ہیں۔امریکہ ان قیدیوں کی رہائی کے سخت خلاف ہے اور اس کا موقف ہے کہ یہ قیدی امریکی اور نیٹو افواج کے اہلکاروں کو زخمی یا قتل کرنے میں ملوث ہیں۔گزشتہ ہفتے کابل کا دورہ کرنے والے امریکی سینیٹروں کا کہنا تھا کہ ان قیدیوں کی رہائی سے کابل اور واشنگٹن کے ’تعلقات کو ناقابل تلافی نقصان‘ ہوگا اور اس سے رواں سال کے آخر میں نیٹو افواج کے انخلا کے بعد امریکی افواج کے افغانستان میں قیام کے منصوبے کو بھی نقصان پہنچے گا۔امریکہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ یہ بگرام جیل کا کنٹرول افغان حکام کے حوالے کرتے وقت کیے گئے معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی۔

مزید : بین الاقوامی


loading...