ایک بہادر پولیس افسر کی شہادت

ایک بہادر پولیس افسر کی شہادت

کراچی میں سینکڑوں دہشت گردوں اور خوفناک مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے اور ایشیا میں سب سے زیادہ پولیس مقابلے کرنے والے پولیس افسر اور سی آئی ڈی کے انسداد انتہاءپسندی سیل کے سربراہ ایس ایس پی چودھری اسلم بالآخر ایک بم حملے میں شہید ہو گئے۔ ان کی شہادت کا باعث بننے والے دھماکے کے سلسلے میں ابھی تک صورت حال واضح نہیں ہو سکی۔ اسے خود کش دھماکہ بھی کہا جا رہا ہے اور ان کے راستے میں نصب کئے جانے والے بم کا پھٹنا بھی سمجھا جا رہا ہے۔ ایک خبر کے مطابق ان کی بلٹ پروف گاڑی سے ایک بارود سے بھری گاڑی ٹکرا دی گئی، جس سے ان کی گاڑی اُچھل کر 50فٹ دور جا گری۔ ان کے تین ساتھی بھی شہید ہوئے، جبکہ11 افراد زخمی ہو گئے۔ لیاری گینگ اور دوسرے انتہاءپسندگروپ، دہشت گرد، بھتہ خور اور جرائم پیشہ فراد ان کی کارروائیوں سے سخت پریشان تھے۔ انہوں نے متعدد جگہوں پر چھاپے مار کر بھاری اسلحہ برآمد کیا تھا۔ اپنی شہادت سے چند گھنٹے قبل بھی وہ ایک جگہ سے گولہ بارود کی بھاری مقدار برآمد کر چکے تھے۔ بعض اطلاعات کے مطابق دہشت گردوں نے ان کے سر کی بھاری قیمت مقرر کر رکھی تھی۔ چودھری اسلم اپنی شاندار کارکردگی پر بہت سے قومی اعزازات بھی حاصل کر چکے تھے۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ چودھری اسلم کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔ سندھ حکومت نے چودھری اسلم کے ورثا کو دو کروڑ روپے اور دوسرے شہید ہونے والے اہلکاروں کے ورثاءکو 20،20 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔ چودھری اسلم پر اس سے قبل بھی دو قاتلانہ حملے ہو چکے تھے ۔ ان کو مسلسل دھمکیاں بھی مل رہی تھیں۔ انہوں نے اس کے باوجود فرض شناسی اور جرا¿ت کا ثبوت دیتے ہوئے مجرموں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں۔

ایک رائے یہ ہے کہ چودھری اسلم کی سیکیورٹی میں رخنہ ڈالنے کے ذریعے ملک دشمن انہیں شہید کرنے میں کامیاب ہو سکے۔ دہشت گردوں نے عیسیٰ نگری کے قریب لیاری ایکسپریس وے پر ان کے قافلے کو نشانہ بنایا۔ اس مقصد کے لئے 100 کلوگرام دھماکہ خیز مواد استعمال ہوا۔ وزیراعلیٰ سندھ اور صدر پاکستان سمیت تمام بڑے قائدین نے چودھری اسلم کی شہادت پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے بھی چودھری اسلم کی دہشت گردی کے خلاف شاندار خدمات کا اعتراف کیا ہے اور کہا ہے کہ ملک سے دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کے لئے قوم متحد ہے۔ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ کسی آرمی چیف کی طرف سے ایک پولیس افسر کی شہادت پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔ چودھری اسلم کا واسطہ دہشت گردوں، بھتہ خوروں اور ٹارگٹ کلرز کے منظم گروہوں سے تھا اور انہوں نے نتائج کی پرواہ کئے بغیر ان سے مقابلے کے لئے نہایت محنت و جانفشانی اور دلیری سے کام کیا، جس کے بہت مثبت نتائج سامنے آئے۔

قانون شکنوں کے مختلف گروہوں اور بڑے مجرموں کے متعلق انہوں نے تمام حقائق جمع کر رکھے تھے اور وہ ان کے ٹھکانوں سے واقف تھے۔ چودھری اسلم کی شہادت کے بعد ان کی جگہ لینے والے افسرکے لئے یہ ضروری ہو گا کہ وہ ان کے کام کو آگے بڑھانے کے لئے ان کی معلومات اور پروگرام کے متعلق پوری آگاہی کے بعد انہی جیسی محنت و جانفشانی اور بے مثل جرا¿ت و دلیری کے ساتھ کام کرے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ دہشت گردوں اور ملک دشمنوں کے حوصلوں کو پست کرنے کے لئے چودھری اسلم کی جگہ انہی جیسے اوصاف والے ایک کے بجائے کئی ایک افسر تعینات کر کے انہیں اپنا کام تیزی سے آگے بڑھانے کی ہدایات کی جائیں، تاکہ چودھری اسلم کی شہادت پر بغلیں بجانے والے ملک دشمنوں کو مہلت پا کر عوام کو لوٹنے اور خود کو مضبوط کرنے کا موقع نہ مل سکے اور کراچی میں امن و امان قائم کرنے کاجوکام شروع ہوچکا ہے وہ مکمل ہو سکے۔ چودھری اسلم ہر طرح کے قانون دشمنوں اور دہشت گردوں کے خلاف سرگرم تھے ، ملک کا ہر دشمن ان کا دشمن تھا۔ اب تک تمام قانون دشمن گروہ ان کے خلاف متحد ہو چکے تھے۔ ایسے اتحاد کو توڑنے کے لئے کسی ایک گروہ سے نرمی یا درگذر کا انہوں نے کبھی نہیں سوچا۔ ملک اور قانون کے ہر دشمن کو انہوں نے اپنا دشمن جانا۔ اس سلسلے میں وہ کھلے اور بے باک انسان تھے۔ وہ قانون دشمنوں کو کھلے عام للکارنے والے بہادر انسان تھے۔ ان کی دلیری کے ان کے وہ دشمن بھی قائل تھے، جو اپنے ارادوں کی تکمیل کی راہ میں انہیں ایک بڑی رکاوٹ سمجھتے تھے۔ ان حالات میں یہ ضروری ہے کہ کراچی کے دہشت گردوں اور قانون دشمنوں کو یہ احساس ہرگز نہ ہونے پائے کہ ایک چودھری اسلم کے ہٹ جانے کے بعد ان کی راہ کی تمام رکاوٹیں ہٹ گئی ہیں۔ اس کے فوری بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس بہادر انسان کی شہادت کا بدلہ لینے کے لئے سرگرم ہونا چاہئے۔ ان کی طرف سے جن گروہوں کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی تھیں اور جو لوگ ان کی زندگی لینے کی مسلسل کوششیں کرتے رہے ہیں ان کے معاملات اور ان کے ٹھکانوں سے حکومت کے لوگ یقینا بے خبر نہیں ہیں۔ ان کے خلاف ایک بڑا آپریشن کئے جانے کی ضرورت ہے تاکہ ہر کسی کو معلوم ہو سکے کہ ان کا مقابلہ ایک انسان سے نہیں پوری حکومتی مشینری اور پوری قوم سے ہے۔ پوری قوم اپنے بہادر سپاہیوں اور افسروں کے پیچھے کھڑی ہے اور ملک دشمنوں کے خلاف چودھری اسلم کا عزم اور دلیری پوری قوم کے عزم اور دلیری کی علامت ہے۔

مزید : اداریہ


loading...