قانون کی حکمرانی یقینی بنانے کا عزم

قانون کی حکمرانی یقینی بنانے کا عزم

وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ماضی کی حکومتوں نے ملکی بہتری کے لئے اقدامات نہیں کئے ہر طرف کرپشن کا بازار گرم تھا، طاقتور طبقہ بچتا رہا ہے، لیکن ہم قانون کی حکمرانی یقینی بنائیں گے۔ وہ بہاولپور میں یوتھ لون سکیم کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیراعظم کی طرف سے کرپشن کے خاتمے اور قانون کی حکمرانی قائم کرنے کا عزم لائق صد تحسین ہے۔ اگر یہ کام ہوجائے تو وزیراعظم نواز شریف کو قوم اپنا سب سے بڑا لیڈر تسلیم کر لے گی، لیکن وزیراعظم کو یہ سب کچھ اوپر والے طبقے سے شروع کرنا ہو گا۔ میگا کرپشن کا شوق اعلیٰ حکومتی حلقوں سے ختم ہو جائے تو پھر نچلی سطح پر بھی کرپشن ختم ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ سابقہ حکمرانوں کی طرف سے بھی لوٹی ہوئی قومی دولت واپس قومی خزانے میں لانے کا انتظام کیا جا سکتا ہے۔ اگر موجودہ حکومت نیب، ایف آئی اے اور احتساب کے ذمہ دار دوسرے اداروں سے سابقہ حکمرانوں کے خلاف چلنے والے مقدمات میں صحیح اور منصفانہ تحقیقات اور فیصلے کروا سکے تو اس سے جہاں قومی خزانے میں قوم کے لوٹے ہوئے کھربوں روپے واپس آ سکتے ہیں وہاں آئندہ کے لئے بھی اس طرح کی کرپشن کے راستے بند ہو سکتے ہیں۔ اگر یہ نہیں ہوتا تو حکومت اور اپوزیشن کی قوم کو لوٹنے کے سلسلے میں ملی بھگت کھل کر قوم کے سامنے آ جائے گی۔ جب ایک بار وزیراعظم کی طرف سے خود یہ اعتراف کر لیا جاتا ہے کہ گزشتہ دور میں کرپشن کا بازار گرم رہا اور طاقتور طبقہ بچتا رہا ، اس کے بعد یہ ان کی ذمہ داری بن جاتی ہے کہ وہ اس کرپشن میں ملوث ہونے والوں کو قانون کے پنجے میں لائیں۔ ماضی کے ساتھ ساتھ انہیں حال کی بھی خبر رکھنی چاہئے۔ یہ دیکھنا چاہئے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ حال کے اس طاقتور طبقے کے طور اطوار بھی ویسے ہی ہوں اور وہ اپنی طاقت اور اقتدار کے بل بوتے پر کرپشن کے بعد وہ بھی بچ رہے ہوں؟

قانون کی حکمرانی قائم کرنے کا مطلب عام شہریوں کو لوٹ کھسوٹ، رشوت، چوری ، ڈاکے، اغوا، بھتوں اور چھینا جھپٹی سے نجات دلانا بھی ہے اور قانون کی حکمرانی کا مطلب غریب کی طرح امیر اور صاحب اقتدار لوگوں کی طرف سے بھی قانون کی سختی کے ساتھ پابندی ہے۔ قانون کی حکمرانی اسی وقت قائم ہو سکتی ہے جب عام آدمی کو سستا اور فوری انصاف مہیا ہو سکے۔ اگر لوگ پولیس کو حفاظت کرنے والے ادارے کے بجائے ڈاکوﺅں اور جرائم پیشہ لوگوں کے سرپرست کے طور پر پہنچانیں اور عدالتوں میں جائیں تو ان کی پوری زندگی عدالتوں کے چکر لگانے اور خوار ہونے میں گزر جائے تو اس طرح کی صورت حال کو لوگ قانون اور آئین کی خواری ہی تصور کریں گے نہ کہ حکمرانی۔ قانون کی حکمرانی قائم کئے بغیر کوئی ملک بھی دنیا کی نظروں میں باوقار نہیں ہو سکتا۔ کسی حکومت کو بھی عزت اور اچھی شہرت نہیں مل سکتی۔ قانون کی حکمرانی قائم ہونے تک عام آدمی اپنی عزت نفس کے تحفظ کا احساس نہیں کر سکتا۔ قانون کی حکمرانی قائم ہوئے بغیر کسی معاشرے کو مہذب معاشرہ نہیں کہا جا سکتا۔

وزیراعظم کی طرف سے قانون کی حکمرانی قائم کرنے کی بات بہت خوش آئند ہے ، امید کرنی چاہئے کہ وہ اس راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کریں گے، جس طرح ملک سے تھانہ کلچر اور پٹواری کلچر ختم کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ اسی طرح موجودہ کچہری کلچر ختم کرنے کی بات بھی ہونی چاہئے۔ کچہریوں میں عام آدمی کو عزت اور سہولت کا احساس ہونا چاہئے۔ رشوت خوروں ، ٹاﺅٹوں اور بدعنوان افسروں سے لوگوں کو نجات ملنی چاہئے۔ پھر شہروں سے اربوں روپے جمع کرنے والے تہہ بازاری کے بھتہ خوروں پر بھی قانون کی نظر ہونی چاہئے، جنہوں نے اپنے گھر بھرنے کے لئے فٹ پاتھوں اور سٹرکوں پر قبضے خود کرائے ہوئے ہیں اور عام شہری کی زندگی کو عذاب بنا رکھا ہے۔ اِسی طرح انکم ٹیکس اور کسٹمز کے عملے پر بھی قانون کا ہاتھ پڑنا چاہئے ۔ یہ محکمے دراصل ٹیکس کولیکشن کے بجائے ٹیکس خرد برد کرنے والے محکمے بن چکے ہیں۔کرپشن کا خاتمہ بلا شبہ قانون کی حکمرانی کے لئے بنیادی حیثیت رکھتا ہے ، لیکن موجودہ حکومت کی طرف سے اس سمت میں کوئی مثبت اقدامات نظر نہیں آ رہے۔ کوئی اصلاحات اور ان پر عمل درآمد دیکھنے میں نہیں آ رہا۔ سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے سستے اور فوری انصاف کی فراہمی کے سلسلے میں حکومت کو بھیجی گئی سفارشات ابھی تک حکومتی سرد خانے میں پڑی ہیں ۔ جن پر جلد از جلد عمل درآمد کی ضرورت ہے۔

مزید : اداریہ


loading...