کالاباغ سمیت بڑے ڈیم فوری تعمیر کرنا ہونگے‘عبدالباسط

کالاباغ سمیت بڑے ڈیم فوری تعمیر کرنا ہونگے‘عبدالباسط

لاہور(کامرس رپورٹر)لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق سینئر نائب صدر اور پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین عبدالباسط نے کہا ہے کہ اگر ہم پاکستان کو صحرا بننے اور اپنی آئندہ نسلوں کو فاقہ کشی سے بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں فوری طور پر کالاباغ ڈیم سمیت بڑے ڈیم تعمیر کرنے ہونگے ورنہ وہ وقت دور نہیں جب تمام خدشات حقیقت کا روپ دھار جائیں گے۔ کالاباغ ڈیم پاکستان کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند ہے اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ بھارت اِس ڈیم کی مخالفت کرنے کے لیے پاکستان میں لوگوں کو فنڈز دے رہا ہے۔ تاجروں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کا شمار اُن ممالک میں ہوتا ہے جہاں پانی کی قلت کا مسئلہ ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سال 1950کے دوران پاکستان میں پانی کی فی کس دستیابی 5000کیوبک میٹر تھی جو سال 2010ءمیں کم ہوکر صرف 1000کیوبک میٹر رہ گئی ہے جبکہ ہر سال 35ملین ایکڑ فٹ بغیر استعمال کیے سمندر میں پھینک کر ضائع کردیا جاتا ہے جبکہ پاکستان میں 9ملین ہیکٹر زمین پانی نہ ہونے کی وجہ سے بالکل بیکار پڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ آبی ذخائر میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 26فیصد تک کم ہوچکی ہے۔ عبدالباسط نے کہا کہ پاکستان میں بڑے آبی ذخائر کی تعمیر کے خلاف شور مچانے والوں کو بھارت بھاری فنڈز دے رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کالاباغ ڈیم کی مخالفت کرنے والے دراصل بھارت کے ایجنٹ ہیں جو بھارت کی خواہش پر پاکستان کو تباہ و برباد کرنے کے درپے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان بھارتی ایجنٹوں کی وجہ سے آج پاکستان کی بقاءداﺅ پر لگی ہے لیکن کسی بھی حکومت نے بھارتی سازش کا خاتمہ کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ عبدالباسط نے مزید کہا کہ سابق چیئرمین واپڈا شمس الملک کے مطابق کالاباغ ڈیم کی مدد سے خیبر پختونخواہ کی آٹھ لاکھ ایکڑ زمین کو زیرِکاشت لائی جاسکتی ہے جو دریائے سندھ کی سطح سے سو ڈیڑھ سو فٹ بلند ہے۔ یہ زمین اُسی صرف میں زیر کاشت لائی جاسکتی ہے جب دریا کی سطح بلند ہو اور یہ کالاباغ ڈیم کی صورت میں ہی ممکن ہے۔

 لاہور چیمبر کے سابق سینئر نائب صدر نے کہا کہ پاکستانی حکومتوں کی نااہلی اور بھارتی ایجنٹوں کو کھلی چھوٹ دینے کی وجہ سے بھارت پاکستانی پانیوں پر بھی تسلط جما رہا ہے اور اگر بھارتی سازش کا توڑ نہ کیا گیا تو وہ مکمل طور پر پاکستانی پانی پر قبضہ جما لے گا اور ہماری ایٹمی قوت کے باوجود ہمیں اپنا محکوم بنانے میں کامیاب ہوجائے گا۔ عبدالباسط نے کہا کہ پانی کی قلت کی وجہ سے زرخیز زمین بنجر ہوجائے گی، زرعی اجناس کی شدید قلت ہوجائے گی، توانائی کا بحران بدترین صورت اختیار کرجائے گا، لاکھوں لوگ فاقہ کشی کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جائیں گے اور اس سب کی ذمہ داری اُن سیاستدانوں پر عائد ہوگی جو غریب اور ان پڑھ لوگوں کو اپنے ساتھ ملاکر کالاباغ ڈیم کی مخالفت کرنے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کی پاکستان سے وفاداری کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے آج تک کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے ، لاکھوں بے گناہ کشمیروں کی شہادت اور متنازعہ بگلہیار ڈیم کی تعمیر کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں کہا لیکن کالاباغ ڈیم کی مخالفت پوری شدت سے کررہے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں اپنی تمام سیاسی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ دے اور فوری طور پر کالاباغ ڈیم، بھاشا دیامیر ڈیم اور دیگر بڑے آبی ذخائر تعمیر کرے ورنہ آئندہ نسلیں اُسے کبھی معاف نہیں کریں گی۔

مزید : کامرس