جنگی جنون میں مبتلا بھارتی فوج بنیادی سہولتوں سے محروم

جنگی جنون میں مبتلا بھارتی فوج بنیادی سہولتوں سے محروم
جنگی جنون میں مبتلا بھارتی فوج بنیادی سہولتوں سے محروم

  

جنگی جنون میں مبتلا دفاعی ہتھیاروں پر سالانہ اربوں ڈالر خرچ کرنیوالے بھارت کی فوج کو بنیادی ضروریات کی شدید قلت پیدا ہوگئی اور قائمہ کمیٹی دفاع کو پیش کردہ رپورٹ میں لاکھوں کی تعداد میں بوٹ، گرم ٹوپیوں اور کمبلوں کی قلت کا انکشاف کیا گیا ہے۔رپورٹ میں 2 لاکھ 17 ہزار 388 بوٹ ، 4 لاکھ 47 ہزار گرم ٹوپیوں اور 65 ہزار 978 کمبلوں کی کمی بتائی گئی ہے۔ بھارتی انٹی گریٹڈ ڈیفنس سٹاف کے سربراہ ایئرمارشل پی پی ریڈی کے مطابق بھارت کو چین اور پاکستان کے دونوں محاذوں پر جنگ کے لئے تیار رہنے کی ضرورت ہے، تاہم بھارتی فوج کو اس وقت اونچی ایڑھیوں والے بوٹ، سردی سے بچاؤ کی ٹوپیاں اور گرم کمبلوں کی کمی ہے اور اس کی لاکھوں کی تعداد میں ضرورت ہے۔یوں تو بھارت سرکار اپنی فوجی قوت میں اضافہ کے لئے دن رات کوشاں ہے اور دنیا کے ہر کونے سے جدید سے جدید جنگی ٹیکنالوجی اور اسلحہ خرید رہا ہے اور خود اس کے اسلحہ ساز بھی فارغ نہیں بیٹھے ہوئے۔ حالانکہ مزے کی بات یہ ہے کہ اس کے پڑوسیوں میں سے کوئی بھی مشتعل مزاج نہیں، نہ ہی کسی کے جارحانہ اور غاصبانہ عزائم ہیں، مگریہ ساری خصوصیات خود بھارت میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں ،جن کی تسکین اور تکمیل کے لئے وہ ہمہ وقت کوشاں رہتا ہے اور اپنی فوج کی وسعت بھی اس کے ایجنڈے میں شامل ہے، تاکہ علاقے میں اپنی چودھراھٹ قائم رکھ سکے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک مسئلہ بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے۔

بھارتی فوجی مقبوضہ کشمیر میں طویل ڈیوٹیوں اور بنیادی سہولتوں کی کمی سے تنگ آ کر زندگیوں سے ہی ہاتھ دھونے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ایک دوسرے پر حملوں اور لڑائی جھگڑے کے واقعات میں بھی اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ سپاہیوں کیساتھ ساتھ افسران نے بھی خودکشیاں شروع کر دیں ۔ اس رجحان میں خطرناک حد تک اضافے نے حکام کو نئی تشویش میں مبتلا کر دیاہے۔متعدد اہلکار اور افسران نفسیاتی مریض بن گئے ۔سیلاب میں لاپتہ ہونے والے چار اہلکاروں کا تاحال کوئی سراغ نہ مل سکا۔ ایک میجر نے ضلع جموں میں خود کشی کر لی۔29سالہ میجر ڈاکٹر رمن بھاگلہ نے اکھنور کے علاقے پلن والہ میں پھندا لگا کر خودکشی کی۔ میجر کی لاش واش روم میں لٹکی ہوئی پائی گئی جس کے بعد متعلقہ افسروں اور پولیس کو اطلاع دی گئی۔بنیادی سہولیات کی کمی کی وجہ سے بھارتی فوج اور افسران کرپشن کے عادی ہوگئے ہیں۔ نہ صرف کرپشن ،بلکہ ذہنی امراض اور خودکشیوں کا بڑھتا ہوا رجحان یقیناًبھارت کے لئے ایک چیلنج کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔بھارتی فوج میں روپے پیسے کے لئے غبن سے لے کر جنسی سیکنڈلز تک مختلف واقعات آئے روز کا معمول بنتے جا رہے ہیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ ان واقعات میں فوج کے بڑے عہدیداروں کا نام بھی تسلسل سے آ رہا ہے۔

2001ء میں تہلکہ ٹی وی نے کرپشن کا ایک مشہور کیس پکڑا تھا جس میں لاکھوں ڈالرز کی رشوت کھائی گئی تھی جب انکوائری ہوئی تو اس میں وزیر دفاع جارج فرنینڈس کے علاوہ سی بی آئی کے انچارج جیا جیٹلے اور نیول چیف آف سٹاف ایڈمرل سوشیل کمار ملوث پائے گئے۔ اسی کیساتھ 6 ارب روپے کی کرپشن کا ایک اور کیس بھی سامنے آیا۔

پچھلے تین چار برس سے بھارتی بری فوج مالی و اخلاقی کرپشن کے اسکینڈلوں کی زد میں ہے۔ نچلے فوجی افسروں کو تو چھوڑیے، لیفٹیننٹ جنرل اور میجر جنرل جیسے اعلیٰ افسر کسی نہ کسی بے ایمانی میں ملوث ہو کر بھارتی فوج کی بے عزتی کا سبب بن گئے تھے۔ کسی نے سرکاری زمین فروخت کی، تو دوسرے نے ماتحت خاتون کی بے حرمتی کر ڈالی۔ تیسرا سرکاری رقم میں خردبرد کا مجرم نکلا۔ غرض بھارتی فوجی افسروں نے اپنے مذموم کرتوتوں کی بدولت فوج کی مٹی پلید کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ان سکینڈلوں نے نہ صرف عام فوجیوں کا جوش و جذبہ کم کیا، بلکہ بھارتی عوام کو بھی صدمہ پہنچایا۔ دراصل بھارتی سمجھتے تھے کہ ان کی فوج کرپشن سے پاک واحد قومی ادارہ ہے۔ لہٰذا یکے بعد دیگرے فوجی افسروں کے سکینڈل آئے تو عوام میں بھارتی فوج کے وقار کو ٹھیس پہنچی اور یہ احساس جاتا رہا کہ فوجی افسر دیانت دار، محب وطن اور بااصول ہیں۔ ہتھیاروں، راشن اور بقیہ ضروریات زندگی کی خرید میں کرپشن کے علاوہ بھارتی فوج کا سب سے بڑا المیہ اس وقت دور دراز علاقوں میں خدمات سر انجام دینے والے ٹروپس میں پست مورال، بھگوڑا پن، خود کشیاں، اپنے آفیسرز پر حملہ آور ہونا اور جنسی سکینڈل ہیں اور یہ سب کچھ اخلاقی اقدار کے انحطاط کا نتیجہ ہے۔ اخلاقی اقدار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بھارتی فوج کے میجر جنرل اے کے لال کو اچانک اسے کمان سے ہٹا لیا گیا۔ پتہ چلا کہ وہ اخلاقی طور پر دیوالیہ ہو چکا تھا۔ اپنے ہی ڈویڑن کی ماتحت خواتین آفیسرز کو ریپ کرنے کی کوشش میں ملوث پایا گیا۔ اسکے علاوہ بھارتی فوج کے افسران فرضی جنگی لڑائیاں اور فرضی بہادری کے کیسز بتا کر انعامات اور تمغے حاصل کرنے میں بھی ماہر ہو گئے ہیں۔ ہر آفیسر اور ہر جوان چھاتی پر تمغے سجانے کی شدید خواہش میں اس طرح کے من گھڑت واقعات لکھ کر اپنے افسران کو پیش کرتے ہیں جو کہ سراسر جھوٹ اور فراڈ کے زمرے میں آتے ہیں۔

بھارتی فوج میں بڑھتے ہوئے ڈسپلن کے مسائل کی کئی وجوہات ہیں۔ اس مسئلے کی جڑ جوانوں کا اتنا عرصہ اپنی فیملیز سے دور رہنا ہے۔ جوانوں کو بہت زیادہ چھٹیاں دینا ممکن نہیں اور نہ ہی یونٹوں کو ہر دو یا تین ماہ بعد فرنٹ لائن سے پیچھے لایا جا سکتا ہے۔پھر انہیں ضروری راشن بھی میسر نہیں۔ کھانے پکانے کے علاوہ دیگر ضروریات زندگی کی بھی شدید کمی ہے، لہٰذا بھارتی فوج مجموعی طور پر نہ صرف مالیاتی طور پر ،بلکہ اخلاقی طور پر بھی دیوالیہ ہو چکی ہے۔

مزید : کالم