نکاح ثانی عمران خان کا اور تبصرے سب کے!

نکاح ثانی عمران خان کا اور تبصرے سب کے!
نکاح ثانی عمران خان کا اور تبصرے سب کے!

  

ایک بڑے میاں کو شادیوں کا شوق تھا، وہ زیادہ عمر کے ہونے کے باوجود ایک کے بعد دوسری شادی کرنے جا رہے تھے تو ان کے ایک دوست نے پوچھا کہ ان کو کیا ضرورت ہے کہ وہ ایسا کررہے ہیں، جواب ملا، نکاح کے بعد جب دلہن والوں کی طرف سے آواز آتی ہے ’’ہُن مُنڈے نُوں اندر لیاؤ‘‘ تو میں جوان ہو جاتا ہوں، تحریک انصاف کے چیئرمین محترم عمران خان کے بارے میں بہرحال بڑھاپے کی تو بات نہیں کی جا سکتی کہ وہ ساٹھ کے ہو گئے تو کیا ابھی تو جوان ہی ہیں، روزانہ ورزش کے عادی ہیں، حتیٰ کہ دھرنے سے اُٹھ کر بنی گالا اپنے گھر چلے جاتے اور ورزش کے بعد واپس کنٹینر پر آتے تھے۔ یوں بھی وہ ابھی تک سمارٹ اور کسی پچیس تیس سال کے نوجوان جیسے ہیں۔

عمران خان ایک بڑے لیڈر کے طور پر ابھرے ہیں تو ان کی شادی بھی بڑی خبروں میں سے خبر ہے اور اسی کے مطابق ان کو کوریج بھی بہت ملی ہے۔اب صحافی حضرات زور لگا لگا کر خبریں بنا رہے ہیں، حتیٰ کہ اس دکان دار تک جا پہنچے جہاں سے دلہن کے لئے شادی کا جوڑا خریدا گیا اور دکان دار سے کہلوا لیا کہ اس نے ایک لاکھ تیس ہزار کا جوڑا ساٹھ ہزار میں دیا اور یوں 70ہزار روپے ڈسکاؤنٹ دیا ہے، یقیناًدکان دار نے نقصان تو نہیں کیا ہوگا اتنی رقم اپنے منافع ہی میں سے منہا کی ہوگی۔ یوں خبر بناتے بناتے یہ بھی پتہ چل گیا کہ بڑے لوگ جب شادی بیاہ کی خریداری کرتے ہیں تو دکاندار کی شرح منافع کیا اور کتنی ہوتی ہے۔

عمران خان اور دلہن ریحام خان ہر دو کی یہ دوسری شادی ہے جسے پہلی کی طرح شہرت ملی بلکہ دیکھا جائے تو اتنی پبلسٹی تو جمائما والی شادی کے موقع پر بھی نہیں ملی تھی جو اب ملی ہے کہ اب عمران خان کی پوزیشن مختلف ہے، ویسے ایک عرض ہے کہ اس حوالے سے ہمارے پاکستان کے صحافی مار کھا گئے کہ ریحام خان دو سال سے پاکستان میں صحافت سے منسلک ہیں، عمران خان کنٹینر پر کھڑے ہو کر اپنی شادی کی بات کرتے تھے لیکن کوئی بھی ان دونوں کے رومانس کی خبر بریک نہ کر سکا اس کا کریڈٹ بھی برطانیہ والے لے گئے، ہمارے دوست اب بھاگ دوڑ کر رہے ہیں اور ہرایک سے سوال پوچھ لیتے ہیں۔

ان دوستوں نے اپنے مولانا فضل الرحمن سے بھی پوچھ لیا ، انہوں نے بڑی انکساری سے کہا، میں عمران خان سے چھوٹا ہوں (عمر میں) میری دوسری شادی کی خواہش نہیں، کہتے ہیں اس پر قہقہہ لگا، ہمیں پھر افسوس ہے کہ ہمارے نوجوان دوست یہاں بھی غچہ کھا گئے اور مولانا سے استفسار نہ کر سکے کہ وہ تو دوسری شادی کی خواہش کب سے پوری کر چکے ہوئے ہیں اور ماشاء اللہ دو بیویوں کے شوہر ہیں، اب اگر ہمیں غلطی نہیں لگتی تو ان کی دوسری اہلیہ ملتان میں ہوتی ہیں، لہٰذا ان کو دوسری کی خواہش کیسے ہو سکتی ہے، تیسری کی بات کرتے تو الگ بات تھی۔(اگر واقعی مغالطہ ہوا تو معذرت۔ اسلام میں چار جائز ہیں)

عمران خان کو کرکٹ کو خیرباد کہے اور سیاست کو گلے لگائے بہت سال ہو گئے(وہ خود کہتے ہیں سولہ سال ہو گئے) وہ ابھی تک کپتان کہلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں لیکن شادی کے معاملے میں وہ اپنے جونیئر کپتان سے پیچھے رہ گئے۔ ان کو مبارکباد دینے والوں میں سابق کپتان وسیم اکرم نے پہل کی اب انضمام الحق اور دوسرے سینئر کھلاڑیوں نے بھی خوشی کا اظہار کیا ہے۔ سب خوش ہیں وسیم اکرم زیادہ مسرور ہوئے کہ وہ اس میدان میں اپنے کپتان سے بازی لے گئے ہوئے ہیں کہ انہوں نے نہ صرف کپتان سے پہلے دوسری شادی کی بلکہ اب ایک بچی کے باپ بھی ہیں۔

کپتان عمران خان اور ان کی اہلیہ ریحام خان پختہ عمر کے بچوں والے میاں بیوی ہیں کہ اللہ نے اولاد کی نعمت سے ان کو پہلے ہی نوازا ہوا ہے تاہم ایک صحافی خاتون سے طلاق کے بعد پھر سے صحافی خاتون سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہو جانے سے معلوم ہوتا ہے کہ خان صاحب کوصحافت سے کتنی دلچسپی ہے اور وہ اس پیشہ سے کس حد تک واقف ہوں گے جنگ جیو والے یونہی ان سے اپیل کرتے رہے کہ وہ اپنے کارکنوں کو روکیں اور وہ بھی ہتھ ہولا رکھنے کو کہہ دیتے رہے، جس پر عمل نہ ہوا کہ شاید وہ سنجیدگی سے نہیں کہتے تھے یا پھر وہ جانتے تھے کہ کہہ دینے میں کیا حرج ہے جو کچھ بھی کرنا ہے وہ تو کارکنوں نے کرنا ہی ہے۔عمران خان نے دھرنے کے دوران اور باتوں کے علاوہ اپنی دوسری شادی کو بھی موضوع بنائے رکھا اور وقتاً فوقتاً ذکر کر دیا کرتے تھے اور معنی خیز انداز سے بات کرتے تھے کسی کو اندازہ نہ ہوا کہ وہ کتنے سنجیدہ ہیں اور غلط بات نہیں کرتے کہ وہ ریحام خان کی الفت کے اسیر ہو چکے ہوئے تھے۔

عمران خان کی دوسری شادی کے بعد بہت خبریں بنیں اور بہت تبصرے ہوئے، بہرحال مسئلہ ان کی سیاست کا ہے تو ان کی اہلیہ نے پہلے ہی روز ان کی راہ میں مزاحم ہونے سے انکار کیا اور خود اپنے بارے میں یہی کہا کہ وہ سیاست میں تو نہیں آئیں گی البتہ اپنا پیشہ صحافت جاری رکھیں گی۔ عمران خان نے دوسری شادی کر لی، اچھا کیا۔ چھپ کر نہیں اعلانیہ کی اور اس سے پہلے کوئی سکینڈل بھی نہیں بنا، یقیناًان کی اہلیہ کے ساتھ بات ہو چخی ہو گی اور وہ سیاست جاری رکھیں گے، چنانچہ 18جنوری کا جلسہ یادگار ہوگا کہ عمران کے ٹائیگر اور سنی ٹائیگر مبارک دینے کو بے تاب ہوں گے اور ڈی چوک کا جلسہ پھر ایک بڑا جلسہ ہوگا ان کی شادی ہنی منو کا تقاضا تو کرتی ہے لیکن کیا پتہ وہ عمران خان ہیں ہنی مون کے لئے ملک سے باہر جاتے ہیں یا پھر 18جون ہی کو آغاز ہنی مون قرار دے کر ایک نئی مثال قائم کرتے ہیں، ہم بھی ان کو مبارکباد دیتے ہوئے، ہر دو کے بچوں کے لئے بھی نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں۔

مزید : کالم