سخت فیصلے

سخت فیصلے
سخت فیصلے

  

بڑی قومیں وہی ہوتی ہیں جن کے لیڈر بڑے فیصلے کرتے ہیں، ایسے فیصلے جو سخت ہوتے ہیں لیکن اپنی قوم کو ہمیشہ کے لئے امر کر جاتے ہیں۔ میاں محمد نوازشریف تین بار اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم منتخب ہوئے اور تینوں بار انہیں انتہائی سخت فیصلے کرنا پڑے۔ پاکستان کی پوری تاریخ میں کوئی اور نہ تو تین بار وزیر اعظم منتخب ہوا اور نہ ہی اسے اپنے ہر دور میں قوم کی خاطر اتنے سخت فیصلے کرنا پڑے۔ یہ اعزاز صرف وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف کو ہی حاصل ہو سکا ہے اور شائد آئندہ بھی کسی اور کو یہ اعزاز نصیب نہ ہو سکے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف کے ہر سخت فیصلے کے بعد قوم انتہائی متحد ہوئی اور ملک سے انتشار اور بد امنی کا خاتمہ ہوا۔ پاکستان کے کروڑوں عوام کو بار بار متحد کرنے والے وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف کو صحیح معنوں میں ایک سٹیٹسمین کہا جا سکتا ہے۔

میاں محمد نوازشریف پہلی بار 1990ء کے اواخر میں وزیر اعظم بنے تو دوسرے مسائل کے علاوہ ایک بہت ہی اہم اور توجہ طلب مسئلہ کراچی میں پائی جانے والی شدید بدامنی تھی۔ وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف کے پاس دو راستے تھے، ایک یہ کہ دوسرے حکمرانوں کی طرح آنکھیں بند کر لیتے اور شہر میں روزانہ گرنے والی لاشوں کو نظر انداز کر دیتے، ان کے پاس دوسرا راستہ یہ تھا کہ شہر میں بلا امتیاز آپریشن کرتے اور کسی بھی سیاسی یا نسلی وابستگی کو خاطر میں لائے بغیر بلا تفریق ایسے تمام عناصر کے خلاف آپریشن کرتے جس سے شہر میں امن قائم ہو سکتا۔ یہ ایک مشکل فیصلہ تھا لیکن ہر قسم کی مخالفت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف نے ملک وقوم کی خاطر ایک سخت فیصلہ کیا اور کراچی میں بلا امتیاز اور بلا تفریق آپریشن کیا جس کے بعد شہر میں امن لوٹ آیا۔ اگر ان کے بعد آنے والے حکمران بھی وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف کی بلا امتیاز پالیسیاں جاری رکھتے تو آج کراچی امن کا ایک گہوارہ ہوتا۔

میاں محمد نوازشریف دوسری بار 1997ء میں وزیر اعظم بنے تو اگلے سال ہی جنگی جنون میں مبتلا بھارت نے ایٹمی دھماکے کر دیئے۔ وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف پر پوری دنیا سے سخت دباؤ ڈالا گیا اور انہیں طرح طرح کی پیشکشیں کی گئیں۔ اس موقع پر بھی وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف کے پاس دو راستے تھے، ایک یہ کہ امریکہ، بہت سارے یورپی ممالک اور جاپان کی طرف سے کی گئی اربوں ڈالر کی پیشکش قبول کرتے اور بزدلی کا راستہ اختیار کرتے ہوئے بھارت کے آگے ناک رگڑتے، ان کے پاس دوسرا راستہ یہ تھا کہ ہر قسم کے دباؤ اور لالچ کی پرواہ کئے بغیر پاکستان کو ایک ایٹمی طاقت بناتے اور اقوام عالم میں ملک کا نام، مقام اور سر اونچا کرتے خواہ اس کے نتیجہ میں انہیں کچھ بھی بھگتنا پڑتا۔ یہ بھی ایک مشکل فیصلہ تھا لیکن ہر قسم کی مخالفت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف نے ملک وقوم کی خاطر ایک سخت فیصلہ کیا اور ملک کو ایٹمی طاقت بنا دیا۔ امریکی صدر بل کلنٹن نے ایٹمی طاقت بننے سے باز رہنے کے لئے وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف کو پانچ ٹیلی فون کئے جس کا جواب وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف نے چھ ایٹمی دھماکے کر کے دیا۔ پاکستان اگر آج دنیا کی ساتویں اور عالم اسلام کی پہلی اور واحد ایٹمی طاقت ہے تو اسی وجہ سے ہے کہ میاں محمد نوازشریف نے وزیر اعظم بن کر نہیں بلکہ ایک سٹیٹسمین بن کر پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا اور سب سے سخت فیصلہ کیا۔

میاں محمد نوازشریف دوسری بار 2013ء میں وزیر اعظم بنے تو پاکستان کے بیس کروڑ عوام کو دہشت گردی کے عفریت کا سامنا تھا جو پچاس ساٹھ ہزار یا اس سے بھی زائد ہموطنوں کو نگل چکا تھا۔ وطنِ عزیز کی پوری تاریخ میں اس سے زیادہ مشکل وقت نہیں آیا تھا کہ ملک کا چپہ چپہ اور کونہ کونہ معصوم پاکستانیوں کے مقدس لہو سے رنگین تر تھا۔ ایک سٹیٹسمین کی طرح وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف نے پہلے امن کے راستے کو ایک موقع دیا اور سنجیدگی سے کوشش کی کہ دہشت گردی کے مسئلہ کو مذاکرات کی میز پر حل کر لیا جائے۔ جب ایسا نہ ہوا اور دہشت گردوں نے وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف کی امن قائم کرنے کی سنجیدہ کوششوں کا خاطر خواہ جواب نہ دیا تو وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف کے پاس ایک مرتبہ پھر دو ہی راستے تھے، ایک یہ کہ پہلے کے حکمرانوں پرویز مشرف اور آصف علی زرداری کی طرح آنکھیں بند کر لیتے اور ملک کے طول و عرض میں روزانہ گرنے والی ہزاروں لاشوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اگر مگر سے کام چلاتے، ان کے پاس دوسرا راستہ یہ تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرتے ہوئے انہیں نیست و نابود کر دیتے۔ یہ ایک مشکل فیصلہ تھا لیکن ہر قسم کے اندیشوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف نے ملک قوم کی خاطر ایک سخت فیصلہ کیا اور شمالی وزیر ستان میں آپریشن ضربِ عضب شروع کر کے دہشت گردوں کے ٹھکانے، پناہ گاہیں، ٹریننگ کیمپس اور اڈے تیزی سے ختم کرنے شروع کر دیئے۔

سولہ دسمبر 2014ء کو دہشت گردوں نے ایک کاری وار کرتے ہوئے پشاور میں قوم کے ڈیڑھ سو نو نہالوں کو پشاور کے آرمی پبلک سکول میں شہید کر دیا تو وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف نے ایک بار پھر سخت فیصلہ کیا اور سزائے موت پر برسوں سے جاری پابندی کو نہ صرف ختم کیا بلکہ بہت سے دہشت گردوں کو پھانسیاں دینے کا سلسلہ بھی شروع کر دیا۔ یہ بھی ایک مشکل فیصلہ تھا لیکن ہر قسم کی مخالفت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف نے ملک وقوم کی خاطر ایک سخت دو ٹوک فیصلہ کیا اور دہشت گردوں کو ایک واضح پیغام دیا کہ اب انہیں کہیں جائے پناہ نہیں ملے گی۔ بد قسمتی سے پاکستان کے عدالتی نظام میں اس طرح کے سقم موجود ہیں جن کی وجہ سے دہشت گرد قرار واقعی سزا سے نہ صرف بچ جاتے ہیں بلکہ سول عدالتوں سے بری ہو جانے کے بعد دوبارہ سے معصوم عوام کے خون سے ہولی کھیلنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایک بڑے سٹیٹسمین کی طرح وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف نے اس کمزوری پر قابو پانے کے لئے تمام سیاسی اور عسکری قائدین کو ایک ٹیبل پر اکٹھا کیا اور اس وقت تک اجلاس ختم نہ کیا جب تک ملک سے دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کے لئے ایک نیشنل ایکشن پلان نہیں بن گیا۔ سول عدالتوں کی کمزوری اور قانونی مراحل میں پائے جانے والے سقم کی وجہ سے وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف نے تمام سیاسی اور عسکری قائدین کو قائل کیا کہ دہشت گردی کا علاج صرف فوجی عدالتوں کے ذریعے ہی ممکن ہے اور یہی و ہ طریقہ ہے جس کے ذریعے دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ اس بڑے اور سخت فیصلہ کے بعد وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف نے فوجی عدالتوں کے قیام میں درکار ضروری قانون سازی کی ہدایت کی تاکہ اگلے دو سال قائم رہنے والی یہ عدالتیں فوری سماعت کر کے ملک سے دہشت گردوں کا قلع قمع کر دیں۔ وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف کی قیادت میں بنائے جانے والے نیشنل ایکشن پلان سے دہشت گردی کی تاریک رات ختم ہو گی اور ترقی و خوش حالی کا ایک نیا سورج طلوع ہوگا۔ وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف کا یہ عزم کہ وہ ملک کو روشن پاکستان بنا کر رہیں گے، ان کے ایک عظیم سٹیٹسمین ہونے کی غمازی کرتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ بڑی قومیں وہی ہوتی ہیں ،جن کے لیڈر بڑے فیصلے کرتے ہیں، ایسے فیصلے جو سخت ہوتے ہیں لیکن اپنی قوم کو ہمیشہ کے لئے امر کر جاتے ہیں۔ *

مزید : کالم