دہشت گردی اور بھا رتی عزائم

دہشت گردی اور بھا رتی عزائم
دہشت گردی اور بھا رتی عزائم

  

تضا دات پر مبنی پا لیسیوں سے قوموں کو وقتی طور پر بھلے ہی فائدہ ہوتا ہو، مگر تاریخی حقیقت یہی ہے کہ تضادات پر مبنی ان پالیسیوں کے حتمی نتائج انتہائی بھیانک روپ میں سامنے آتے ہیں۔امریکہ سمیت دنیا کا کوئی بھی ملک اس اصول سے مبرا نہیں رہا۔ امریکہ کو بھی 9/11 کی صورت میں تضادات پر مبنی پالیسیوں کے نتائج بھگتنے پڑے۔ خود پاکستان میں آج جس دہشت گردی کا عفریت اپنا منہ کھولے کھڑا ہے، اگر ہم تا ریخ کو اپنے سامنے رکھ کر اس کا تجزیہ کریں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ دہشت گردی میں ہما رے حکمران طبقا ت کی تضا دات پر مبنی پالیسیوں کا گہرا تعلق ہے۔اب ہمارے حکمران طبقات زبانی کلامی تو تضادات پر مبنی پالیسیوں کو ختم کرنے کی با ت ضرور کر رہے ہیں، مگر اپنی پالیسیوں سے حقیقی معنوں میں تضادات کو ختم کرنے کے لئے عملی طور پر کیا اقدامات اٹھائے جاتے ہیں، اس بارے میں آنے والا وقت ہی بتا ئے گا، تاہم آج میرا موضوع ملکی تضادات پر مبنی پالیسیاں نہیں ہیں، بلکہ پڑوسی ملک بھارت میں ابھرنے والی ایک پالیسی ہے، جس کو فورتھ جنریشن وار کا نام دیا جا رہا ہے۔

اس فورتھ جنریشن وار فئیر پالیسی کا اعلانیہ اظہار بھارتی وزیراعظم کے قومی سلامتی امور کے مشیر اجیت دودل کی جانب سے 2 جنوری کو سامنے آیا ۔ اجیت دودل نے تامل ناڈو کے شہر تھانجاور میں قائم ساسترا یونیورسٹی میں دو گھنٹے سے بھی زائد خطاب کیا، جس میں وزیراعظم کے قومی سلامتی امور کے مشیر کے طور پر انہوں نے بھارت کو درپیش خارجی چیلنجز اور ان سے نمٹے کے لئے بھارتی حکومت کی پالیسی کو پیش کیا۔ ظاہر ہے کہ کسی بھی ملک میں قومی سلامتی امور کے کسی بھی مشیر کی جانب سے مختلف فورمز پر اس نوعیت کے خطابات ایک معمول کی کارروائی ہی ہو تی ہے، مگر اجیت دوول کے اس خطاب میں کئی باتیں انتہائی لرزہ خیز تھیں۔ اجیت نے کہا کہ پاکستان کو ڈیل کرنے کے لئے ہمیں اس کی کمزوریوں پر نظر رکھنی ہو گی۔ پاکستان اس وقت انتہا ئی مشکلات میں گھرا ہوا ہے۔ طالبان پاکستانی فوج، معیشت اور سیاسی استحکام کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ طالبان پاکستانی فوجیوں کے گلے کا ٹ رہے ہیں۔ فوجی دستوں پر حملے کرکے پاکستانی افواج کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ہمیں (اجیت کے الفاظ میں) اس بات کا بھرپور فائدہ اٹھانا ہے۔ ہم (بھارت) طالبان کو اپنے مطابق ڈیل کر سکتے ہیں۔ طالبان بھارت میں موجود دیو بندیوں کو اچھی طرح سنیں گے۔

بھارت کو پاکستان کی ان با توں پر ہرگز کان نہیں دھرنے چاہیے کہ اگر طالبان کو پاکستان میں نہ روکا گیا تو کل کو یہ بھارت کے لئے بھی خطرہ بن جائیں گے، ایسا ہرگز نہیں ہو گا۔ ہمیں (بھارت) پاکستان کو طالبان مسئلے میں الجھا ئے رکھنا ہے۔ اجیت ددول کے مطابق ہم پاکستان کے خلاف جارحیت کا راستہ اس لئے اختیار نہیں کر سکتے، کیونکہ اس کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں، جبکہ اب تک ہم پاکستان کے ساتھ دفاعی طریقے سے ہی نمٹ رہے تھے، مگر اب ہم پاکستان کے حوالے سے اپنی پالیسی کو دفاعی جارحیت کی جانب لے کر آ رہے ہیں۔ اب اگر پاکستان ہم پر ممبئی حملہ کرے گا تو اسے بلوچستان کھو دینا ہو گا۔ اب پاکستان کے ساتھ معاملات فورتھ جنریشن کی جانب جائیں گے ۔۔۔(اگر کوئی بھی صاحب بھارتی وزیراعظم کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کایہ پالیسی خطاب سننا چاہتے ہوں تو وہ گوکل میں ۔۔۔How to tackle Pakistan: A talk by Ajit Doval ۔۔۔لکھ کر اس خطاب کو خود سن سکتے ہیں)۔۔۔ اجیت کی جانب سے ان باتوں کی اہمیت اس لئے بہت زیادہ ہے، کیونکہ یہ باتیں بھارت کی کوئی انتہا پسند سیاسی جماعت یا تنظیم، یا کوئی پا کستان مخالف صحافی نہیں کر رہا، بلکہ یہ باتیں ایک ایسا شخص کر رہا ہے کہ جو اس وقت بھارتی وزیراعظم کا قومی سلامتی کا مشیر ہے ۔ اجیت دوول کا یہ خطاب جہاں ایک طرٖف بہت سے خطرات کی جانب اشارہ کر رہا ہے، وہیں دوسری طرف اس خطاب میں بہت سی با تیں ان لوگوں کے لئے بھی باعث حیرت ہوں گی کہ جو بھارت کی داخلی اور خا رجی پالیسیوں پر نگاہ رکھتے ہیں۔

اگر ہم پاکستان کے حوالے سے بھارت کی پالیسی کو دیکھیں تو ہمیں معلوم ہوگا، بھارت پاکستان میں اپنے لئے جن(proxies) پراکسیز کو استعمال کرتا رہا ہے، وہ سیکولر اور قوم پرست عناصر پر مشتمل ہوتے تھے۔ بشمول بلوچستان جہاں پر بھارت ایسی تنظیموں کی مدد کر رہا ہے کہ جو اپنے آپ کو سیکولر قرار دیتی ہیں۔۔۔(اجیت دیول اس خطاب میں جب یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر اب کوئی ممبئی حملہ ہوا تو پاکستان بلوچستان کھو دے گا تو اس کا واضح مطلب یہی ہے کہ وہ خود بلوچستان میں اپنی مداخلت کو تسلیم کر رہے ہیں )۔۔۔ ماضی میں بھی جن قوم پرست عناصر پر بھارت نواز ہونے کے جھو ٹے سچے الزامات لگتے رہے، ان میں سے اکثر عناصر سیکو لر تھے۔ بھارت نے پاکستان کے خلا ف کسی اسلامی بنیاد پرست تنظیم کو واضح طور اس لئے اپنی پراکسی بنا کر اس کی عسکری مدد نہیں کی، کیونکہ کل کو یہ اسلا می بنیاد پرست یا جہادی عناصر کہیں اس کے لئے ہی خطرہ نہ بن جائیں، مگر اب اجیت ددول یہ کہہ رہے ہیں کہ بھارت اپنے طور پر طالبان سے معاملات طے کرے گا تو اس سے یہی ظاہر ہو رہا ہے کہ اب بھارت کو طالبان یا اینٹی پاکستان جہادی عناصر سے بھی معاملات طے کرنے میں اسے کوئی مضائقہ نہیں ہوگا۔

اجیت ددول کے اس خطاب میں کی گئی باتیں اس لئے بھی حیرت کا باعث ہیں کہ خود بھا رتی حکمران طبقات یہ دعویٰ کرتے آئے ہیں کہ دہشت گردی سے بھارت کو بہت نقصان ہوا ہے۔ اس دعویٰ میں ٰصداقت بھی ہے،کیونکہ موہن داس کرم چند گاندھی، اندرا گا ندھی، راجیو گاندھی سمیت بہت سے بھارتی سیاست دان، نسلی ،لسانی اور مذہبی دہشت گردی کی ہی بھینٹ چڑھے۔ بھارت کی درجن سے زائد ریاستیں بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر دہشت گردی کا شکار رہیں، جب 1980ء کی دہائی کے آخر میں بھارتی پنجاب اور کشمیر میں مسلح تحریک اپنے زوروں پر تھی تو بھارتی حکمران ،ریڈیو ، ٹی وی، فلمیں اور اخبارات یہی موقف اپناتے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، دہشت گردی صرف دہشت گردی ہی ہوتی ہے اور کسی بھی مذہب عقیدے، نسل کو بنیاد پر بناکر دہشت گردی کو جواز فراہم نہیں کیا جا سکتا، اگر تب پاکستان نے اپنی پالیسی کے باعث بھارت میں جاری تحریکوں کو امداد فراہم کی تو یقیناً بعد میں پاکستان کو ایسی پالیسیوں سے نقصان بھی ہوا، اب اگر گزشتہ دس سالوں سے پاکستان دہشت گردی کے عفریت کی لپیٹ میں آیا ہوا ہے تو ایسے میں بھارت کو خود اپنا ماضی دیکھتے ہوئے ۔۔۔(جب بھارت بھی دہشت گردی کی لپیٹ میں تھا)

پاکستان کی مدد نہ سہی، مگر ہمدردی تو ضرور ہونی چاہیے تھی، مگر اجیت دوول کی با توں سے تو یہی ظا ہر ہو رہا ہے کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کا خا تمہ تو دور کی بات، اس میں بڑ ھاوا ہی چاہتا ہے۔ اجیت ددودل کا یہ تجزیہ انتہائی بچگانہ اور ناسمجھی پر مبنی ہے کہ ہمیں پاکستان کی ان با توں پر کا ن نہیں دھرنا چاہیے کہ اگر طالبان کو پاکستان میں نہ روکا گیا تو کل کو یہ بھارت کے لئے بھی خطرہ بنیں گے۔ اجیت کے مطابق طالبان بھارت کے لئے خطرہ نہیں بنیں گے۔ اجیت کا یہ دعویٰ اس لئے مضحکہ خیز ہے کہ تاریخ ثابت کرتی ہے کہ جو مما لک مختلف پراکسیز کو امداد مہیا کرکے اپنے دشمن ملکوں کے مقابلے کے لئے تیار کرتے ہیں تو کچھ عرصے کے بعد یہی پراکسیز انہی ممالک کے گلے پڑ جاتی ہیں۔ یہی تو حکمرانوں کی تضادات پر مبنی پالیسیاں ہوتی ہیں کہ جن کی قیمت عام انسانوں کو دہشت گردی کی صورت میں ادا کرنی پڑتی ہے۔ اجیت دوول کی باتوں سے تو یہی لگتا ہے کہ اب مستقبل قریب میں پاک بھارت تعلقات بہتر ہونے کا کوئی امکان نہیں ۔ ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر کشیدگی سے بھی یہ ظا ہر ہو رہا ہے کہ بھا رت جانتا ہے کہ پاکستانی فوج طالبان کے خلاف ضرب عضب لڑ رہی ہے، ایسے میں مشرقی سرحدوں پر اس کو مصروف رکھ کر طالبان کے خلاف جاری آپریشن کو غیر موثر کیا جائے۔ بھارت تضادات پر مبنی، جس پالیسی پر عمل پیرا ہے، اسے بھی آگے چل کر تضادات پر مبنی پالیسیوں کی قیمت ادا کرنی ہی پڑے گی، کیونکہ تضادات پر مبنی پالیسیوں سے قوموں کو وقتی طور پر بھلے ہی فا ئدہ ہوتا ہو، مگر تا ریخی حقیقت یہی ہے کہ تضادات پر مبنی ان پالیسیوں کے حتمی نتا ئج انتہائی بھیا نک روپ میں سامنے آتے ہیں۔

مزید : کالم