مدارس کے حوالے سے حقیقت پسندانہ رویئے کی ضرورت

مدارس کے حوالے سے حقیقت پسندانہ رویئے کی ضرورت
مدارس کے حوالے سے حقیقت پسندانہ رویئے کی ضرورت

  

پاکستان میں مدارس کے حوالے سے ویسے تو ایک لمبے عرصے سے ایک بحث جاری ہے، لیکن اس بحث میں اضافہ 9ستمبر 2001ء کے واقعے کے بعد دیکھنے میں آیا ہے۔ قیام پاکستان کے فوراًبعد مدارس کے نصاب میں اصلاح یا عصری مضامین کو شامل کرنے کے حوالے سے بحث و تمحیص کا جو سلسلہ شروع ہوا، اس کی نوعیت سیاسی سے زیادہ علمی تھی، اگرچہ اصلاح کی کوئی کوشش صحیح معنوں میں کامیابی سے ہمکنار نہ ہو سکی۔ میرے نزدیک اس کی بنیادی وجہ نوکر شاہی کی نااہلی، اس کا معاندانہ رویہ اور غیر موثر منصوبہ بندی تھی۔

لیکن 9ستمبر 2001ء کے واقعے کے بعد مدارس کے حوالے سے جو بحث شروع کی گئی اس کی نوعیت علمی سے زیادہ سیاسی ہے۔ ملکی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ میں بڑی شدت سے یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ بالخصوص پاکستان کے مدارس دہشت گردی اور انتہا پسندی کے مراکز ہیں اور ان اداروں سے فارغ التحصیل طلباء مختلف ریاست مخالف سرگرمیوں میں مشغول ہیں۔ 16 دسمبر 2014ء کو پشاور کے فوجی سکول میں دہشت گردی کا جو واقعہ رونما ہوا، اس کی شدت 16دسمبر 1971ء کے سانحے سے کم نہیں تھی، چھوٹی بڑی عمر کے پھول جیسے 143بچے اور اساتذہ نے جام شہادت نوش کیا۔ ان کا دکھ پوری قوم نے محسوس کیا جو لوگ خود اولاد جیسی نعمت سے واقف ہیں، انہیں معلوم ہے کہ چھوٹی عمر میں اپنی اولاد کو کھونا اور ان کے لاشے اٹھانا کتنا درد ناک اور تکلیف دہ عمل ہے، اس واقعے کی شدت اور حدّت کو محسوس کرتے ہوئے ہماری قیادت نے جو قومی لائحہ عمل ترتیب دیا، اس میں مساجد اور مدارس کا ذکر بھی ہوا۔ مورخہ 5 جنوری کو منعقدہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں آرمی ایکٹ اور 1971ء کے آئین میں جو ترامیم تجویز کی گئیں، ان پر رائے شماری کو صرف اس لئے ملتوی کرنا پڑا کہ اس پر بعض مذہبی جماعتوں کو کچھ اعتراضات تھے۔ مذہبی سیاسی جماعتوں کو ان ترامیم میں مذہب، مسجد یا فرقہ جیسے الفاظ کا اندراج قابل قبول نہ تھا، اگرچہ اگلے روز قومی اسمبلی اور اس کے فوراً بعد سینٹ نے مجوزہ ترمیمی بل منظور کرلیا، لیکن اس عمل میں تین سیاسی جماعتیں شریک نہ ہوئیں۔ یوں سانحہ پشاور کے نتیجے میں پیدا ہونے والی یکجہتی ہوا میں تحلیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف اس وقت تک کامیابی نہیں ہو سکتی، جب تک ملک کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں متحد نہ ہوں۔ جب قومی لائحہ عمل کے اعلان کے وقت تمام مذہبی جماعتیں حکومت کے ساتھ متحد تھیں تو پھر آخر کیا وجہ ہے کہ آئینی ترامیم کے وقت ان کو ساتھ رکھنے کی حکمت عملی وضع نہیں کی گی، کہیں ایسا تو نہیں کہ جیسے 2010ء میں اٹھارویں آئینی ترمیم کے وقت دوسیاسی جماعتوں نے بائیکاٹ کی دھمکی دے کر اپنی مرضی کے نکات شامل کرائے، اسی طرح آج بھی ایسی سیاسی جماعتیں اپنی مرضی کے مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہوں، اگر ایسا ہے تو پھر نفع کی بجائے نقصان کا زیادہ احتمال ہے۔

پاکستانی معاشرہ آج جس صورت حال سے دوچار ہے۔ دہشت گردی کی کارروائیوں نے جس طرح پوری قوم کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے، اس صورت حال کا تقاضا ہے کہ اس کے خلاف متفقہ لائحہ عمل اپنایا جائے اور تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں متحد ہو کر قوم کو اس تکلیف دہ صورت حال سے نجات دلائیں۔ ایسی ہی ایک کاوش وزارت مذہبی امور اور وفاقی وزارت تعلیم کی طرف سے کی گئی جب دونوں وزارتوں کے اعلیٰ حکام اور اتحاد تنظیمات مدارس کے نمائندوں کا ایک اجلاس 30 دسمبر کو اسلام آباد میں منعقد کیا گیا، جس میں وزیر مملکت برائے تعلیم انجینئر محمد بلیغ الرحمن، وزیرمذہبی امور جناب سردار محمد یوسف اور وزیر مملکت برائے مذہبی امور جناب پیر سید حسنات نے بھی شرکت کی۔بدقسمتی سے ذرائع ابلاغ نے اس پیش رفت کی صحیح تصویر پیش نہیں کی۔ اس اجلاس میں شرکاء میں مدارس کے حوالے سے بیشتر امورپر اتفاق رائے پایا گیا۔

اس اجلاس میں اتحاد تنظیمات مدارس کے نمائندوں نے جہاں مدارس پر لگائے گئے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے الزامات کی تردید کی وہیں پر ان بہت سارے نکات پر عملدرآمد کے لئے رضا مندی کا اظہار کیا جو وقتاً فوقتاً حکومت کی طرف سے پیش کئے جاتے ہیں، اس اجلاس میں موجود بہت سے شرکاء کے لئے یہ بات باعث حیرانی بھی تھی اور باعث پریشانی بھی کہ مدارس کے حوالے سے وزارت داخلہ اور اتحاد تنظیمات مدارس کے مابین اکتوبر 2010ء میں طے پانے والے معاہدے پر عملدرآمد کے لئے کوئی پیش رفت نہیں کی گئی۔ اتحاد تنظیمات مدارس کے نمائندوں کا یہ شکوہ تھا کہ ایک طرف سے تو خود حکومت کی طرف سے عرصہ دس سال مدارس کی رجسٹریشن پر پابندی رہی، اس وقت ہزاروں درخواستیں معرضِ التوار میں ہیں،لیکن دوسری طرف مدارس پر رجسٹریشن نہ کرانے کا الزام لگایا جاتا ہے، اسی طرح مختلف بینک بھی مدارس کے اکاؤنٹ کھولنے سے انکاری ہیں، جبکہ مدارس پر زور ڈالا جاتا ہے کہ وہ اپنے ذرائع آمدنی سے حکومت کو آگاہ کریں، اگر مدارس کے اکاؤنٹ کھول دیئے جائیں تو ان کے ذرائع آمدنی خود بخود حکومت کے علم میں آ جائیں گے، ان کا یہ بھی بجا طور پر صحیح مطالبہ تھا کہ مدارس کی طرح ملک میں کام کرنے والی ہزاروں غیر سرکاری تنظیموں کو بھی اپنے ذرائع آمدنی ظاہر کرنے کا پابند کیا جائے۔ خاص طور پر ایسی تنظیمیں جو غیرملکی ایجنڈے کی تکمیل میں مصروف ہیں۔ ان کے بقول ایسی تنظیموں کو بعض حکومتی ادارے اور وزارتیں خود حفاظتی چھتری فراہم کرتی ہیں، اس اجلاس میں جہاں ایک طرف شرکاء نے وفاقی حکومت اور بالخصوص وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کے اس بیان کا خیرمقدم کیا کہ ملک کے بیشتر مدارس صحیح طور پر کام کررہے ہیں، صرف دس فیصد مدرسے ایسے ہیں جو دہشت گردی یا انتہا پسندی میں مصروف ہیں، وہیں پر ان نمائندوں نے اس بات کا شکوہ بھی کیا، دس فیصد مدارس کو دہشت گردی میں ملوث قرار دینے سے تمام مدارس کی حیثیت مشکوک ہو جاتی ہے۔ یہ بات تمام مدارس کے لئے الجھن اور خوف و ہراس کا باعث ہے۔ وفاقی حکومت کی طرف سے ان ممالک کی صحیح تعداد اور واضح نشاندہی ہونی چاہیے جو ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ صوبائی اور مرکزی حکومت کی خفیہ ایجنسیوں کی موجودگی میں ایسے مدارس کی نشاندہی کوئی مشکل کام نہیں ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت ملک میں تقریباً 23000مدارس کام کررہے ہیں۔ ان کا دس فیصد تئیس سو بنتا ہے۔ اگر ایک مدرسے میں اوسطاً پچاس طلباء بھی ہوں تو ایسے طلباء کی کل تعداد ایک لاکھ سے کہیں متجاوز ہے۔ یہ تعداد ناصرف قرین قیاس نہیں، بلکہ خلاف حقیقت بھی ہے۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ مدارس کے بارے میں ایک صحیح اور حقیقت پسندانہ رویہ اپنایا جائے۔ صحیح اعدادوشمار اور معروضی حالات کی روشنی میں ایک ٹھوس لائحہ عمل ترتیب دیا جائے۔ کچھ مدارس کے الفاظ سے تمام مدارس کے کردار پر حرف آتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ اتحاد تنظیمات مدارس کے نمائندگان اس بات پر صدق دل سے تیار ہیں کہ مدارس میں ابتدائی اور ثانوی سطح کے عصری مضامین متعارف کرائے جائیں، بلکہ بہت سارے مدارس میں یہ کام پہلے سے ہو رہا ہے۔ وزارت داخلہ اور اتحاد تنظیمات مدارس کے مابین 2010ء میں طے پانے والے معاہدے کی روشنی میں اس عمل کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

تیسری اہم بات یہ کہ اس وقت مدارس کے معاملات دیکھنے کے لئے کم از کم تین وزارتیں کام کررہی ہیں۔ اس تقسیم کار سے نہ صرف مدارس مشکلات کا شکار ہیں، بلکہ خود حکومت کے لئے بھی کام کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے، اس لئے اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ مدارس کے حوالے سے تمام تر ذمہ داریاں صرف ایک وزارت کے سپرد کی جائیں۔ ماہرین کے خیال میں اس کام کے لئے وزارت تعلیم زیادہ موزوں ہے، کیونکہ مدارس مذہبی ادارے نہیں ہیں، بلکہ مذہبی تعلیم کے ادارے ہیں اور حکومت کی خواہش یہ ہے کہ مدارس کے نصاب میں عصری مضامین شامل کئے جائیں۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ مدارس کے حوالے سے تمام ذمہ داری وزارت تعلیم کو تفویض کی جائے۔ چوتھی بات یہ کہ مدارس کو مرکزی دھارے میں لانے اورمدارس کے نصاب میں عصری علوم متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ مدارس میں پڑھنے والے 30لاکھ کے قریب طلباء کو خواندگی اور شرح داخلہ کے شمار میں شامل کیا جائے۔ اس سے ایک تو بین الاقوامی سطح پر خواندگی کی ایک بہتر تصویر ابھرے گی اور دوسرا عصری مضامین کاتعارف آسان ہو جائے گا، اگر ملک بھر میں پھیلے غیر معیاری نجی سکولوں سے ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے توسط سے سرکاری رقومات تقسیم کی جا سکتی ہیں تو اس کار خیر میں ان مدارس کو شامل کیا جائے جو عصری مضامین اپنے نصاب میں شامل کرنے کے لئے تیار ہیں۔ (جاری ہے)

مزید : کالم