دہشت گردی کے خلاف قومی لائحہ عمل

دہشت گردی کے خلاف قومی لائحہ عمل
دہشت گردی کے خلاف قومی لائحہ عمل

  

ملک کے طو ل و عرض میں پھیلی ہوئی دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے‘ جو16 دسمبر 2014 ء کو اپنے نقطہ عروج پر پہنچ گئی تھی‘ایک بیس نکاتی لائحہ عمل اختیار کیا جارہا ہے جو آئین پاکستان میں کی جانے والی اکیسویں ترمیم کا مرہون منت ہے۔ بلا شبہ سانحہ پشاور نے پوری قوم کو دکھ اور غم و غصے کی انتہا تک پہنچا دیا تھا۔ اس صورت حال سے نمٹنے کیلئے مناسب تادیبی اقدامات اٹھانا ایک فطری رد عمل ہے۔لیکن بعض اوقات غم و غصے کی کیفیت میں انسان جو اقدامات کرتا ہے ان کے منفی نتائج برآمد ہوتے ہیں۔اس کی تازہ ترین مثال 9/11 کے بعدامریکہ کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات ہیں، جن کی رو سے انہوں نے افغانستان پر دھاو ا بول کر قبضہ کر لیا لیکن اسے سوائے تباہی ‘ بربادی اور ندامت کے کچھ نہ ملا۔مسئلہ یہ ہے کہ ’’امریکہ کی پالیسی کا محوردو غلط نظریات تھے‘ایک یہ کہ اس کے خیال میں تمام مسائل سے عسکری طاقت کے بل بوتے پر نمٹا جا سکتا ہے اور یہ کہ امریکی پالیسی سازوں نے جو حکمت عملی مرتب کی ہے وہ حتمی طور پر درست تھی۔‘‘ ہمارے قائدین نے جو لائحہ عمل اختیار کیا ہے، وہ بھی ایسی ہی سوچ کا عکاس ہے۔

اس قومی لائحہ عمل میں طاقت کا مرکز فوج کو قرار دیا گیا ہے جس کی خدمات کسی تعارف کی محتاج نہیں لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت نے اپنی نااہلی اور خرا ب کارکردگی کا کھلے عام اعتراف کر لیا ہے۔کارکردگی کے حوالے سے جو خلاء پیدا ہوا ہے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ‘ وسیع سے وسیع تر ہوتا جائے گا اور نتیجتاً 1976 اور 1998جیسے حالات پیداہو سکتے ہیں‘ جب منتخب حکومتوں نے مجبور۱فوجی عدالتیں قائم کیں،مگر جلد ہی عدلیہ نے انہیں ختم کر دیا۔ لیکن جب فوج نے حکومت پر شب خون مارا تو اسی عدلیہ نے فوجی حکومت کے قیام کو ’’نظریہ ضرورت‘‘ قرار دیا تھا۔آج فوج پر پہلے ہی بڑی ذمہ داریوں کا بوجھ ہے۔ حالیہ اقدامات سے فوج پراضافی بوجھ ڈال دیا گیا ہے اور یہ اضافی بوجھ فوج اور حکومت دونوں کی ساکھ کو متاثر کر سکتا ہے۔فوجی عدالتوں پر ہی سارا زور صرف کیا جا رہا ہے حالانکہ اس میں ذرا شک نہیں کہ فوج قوم کے اعتما د پر پورا اترے گی‘ لیکن دیگر انیس(19) نکات کا کیا ہو گا؟ ان پر کس طرح عمل درآمد ہوگا؟ قوم کی امیدوں کو زندہ رکھنے کیلئے فرشتے تو معاملات سدھارنے نازل نہیں ہوں گے!

فوج کو دیے جانے والے اختیارات ‘ عدلیہ کی سبکی کے مترادف ہیں۔ضرورت اس امر کی تھی کہ قومی لائحہ عمل میں ایسے اقدامات تجویزکئے جاتے جن سے عدل و انصاف کی فراہمی کے نظام میں بہتری آتی اور کرپشن پر قابو پانے میں مدد ملتی لیکن اختیارکئے جانے والے اقدامات سے تو الٹا دونوں اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔چونکہ یہ عدلیہ کی آزادی کا معاملہ ہے‘ اور اگراعلی عدلیہ اسے آئین کے بنیادی ڈھانچے اور اصولوں سے متصادٍ م سمجھتی ہے تووہ اس آئینی ترمیم کے خلاف کاروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

پارلیمنٹ نے آل پارٹیز کانفرنس کے سامنے سر تسلیم خم کر تے ہوئے ‘ اسے اختیار دے دیا کہ وہ آئین میں کی جانے والی اکیسوں ترمیم کا مسودہ تیار کرے اور پھر اس ترمیم کو ایک ہی نشست میں بغیر کسی بحث کے منظور بھی کر لیاگیا۔اگر کسی جانب سے مخالفت کا خدشہ تھا تو ایسے لوگوں کو اجلاس سے غیر حاضر رکھنا ہی مناسب سمجھا گیا۔ بلاشبہ اس قسم کے حساس نوعیت کے قومی معاملات سے نمٹنے کا یہ آسان ترین راستہ ہے جو ہماری منتخب پارلیمنٹ کی حیثیت پرایک سوالیہ نشان ہے‘ جس نے نہ صرف اپنی ناکامی اور نااہلی کا اعتراف کر لیا بلکہ اپنی خودمختاری سے بھی دستبردار ہو گئی ہے، جو ایک منتخب جمہوری نظام میں بنیادی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔

آئینی تشریح کے لحاظ سے’’ دہشت گرد اور قانون شکن ایسا شخص کہلاتا ہے جو قانون کو اپنے ہاتھو ں میں لے کربغیر کسی آئینی اختیار کے کسی دوسرے فریق کو سزا دے۔‘‘ حالانکہ قومی لائحہ عمل میں دہشت گردوں کی تشریح نہیں کی گئی لیکن 34 آئین شکن تنظیموں کواکیسویں ترمیم کی گرفت میں لایا گیا ہے جبکہ 16 آئین شکن تنظیموں کو آزاد کر دیا گیاہے ’’جس سے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ مذہب ہی پاکستان میں دہشت گردی کی بنیادہے۔ ایسی سوچ ایک مذموم ذہنیت کی عکاس ہے ‘‘اسی سوچ کے سبب ہمارا معاشرہ لبرل، سیکولر، روشن خیال، قوم پرست‘ اعتدال پسند اور مذہبی جماعتوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔ملک میں لبرل اور سیکولر طبقات کی اکثریت ہے اورانہیں سیاست میں بھی نمایاں مقام حاصل ہے، اعتدال پسند طبقہ‘اگرچہ موجودہ حکومت کی نمائندگی کرتا ہے لیکن کمزور ہے اور فیصلہ سازی کے عمل میں کمزور ہے۔قوم پرست طبقات بغاوت کی طرف راغب ہیں اورانتقامی جذے کے حامل ہیں اور مذہبی طبقہ سیاسی لحاظ سے بے اثرہونے کے ساتھ ساتھ، حکومت سازی اورپالیسی سازی کے عمل میں کسی شمار میں نہیں آتا۔ اس کے باوجود یہ طبقہ ملک میں دہشت گردی کا مرکزی ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔سوچنے کی بات ہے کہ کیا ہمارے پاس اس ذلت آمیزسلوک کو ثابت کرنے کیلئے ٹھوس اعداد و شمار موجود ہیں؟

معاشرتی انتشار پاڑہ چنار جیسی فرقہ واریت کو فروغ دینے کا سبب ہے‘ جہاں سرحد پار کے پڑوسی ممالک کے قبائل بھی شامل ہو گئے تھے اور نتیجے میں پانچ سال تک پاڑہ چنارکا رابطہ بقیہ ملک سے کٹا رہا اور بالآخر فوج نے کنٹرول سنبھالا۔اسی طرح جنوبی وزیرستان کادس فیصد علاقہ‘ جسے فوج محفوظ بنانے کی کوشش کر رہی ہے، وہاں پر افغانستان سے ’اچھے طالبان‘ کی آمد کا سلسلہ شروع ہے۔اور اب افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلاء کے بعد‘ پاک افغان سرحد کھول دی گئی ہے جس سے’ افغان طالبان‘ آپریشن ضرب عضب کے شکار طالبان کی مدد کو آرہے ہیں۔اس طرح فوج کیلئے دومحاذوں کی سکیورٹی کی جو صورت حال ابھری ہے، وہ بھارت کیلئے خوش آئند ہے۔اس قسم کے اعصاب شکن حالات میں بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر جارحانہ کاروائیوں کاسلسلہ جاری رکھنے کا مقصد ہمارے اعصاب کا امتحان لیناہے۔

ہمارا اندرونی معاشرتی تصادم الجھاؤ کا شکا ر ہے۔ اس صورت حال کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے تمام وسائل اورتمام تر توانائیوں کوبروئے کار لاکرسب سے پہلے ایسے اقدامات کریں جن سے ہمارے قومی نظریہ حیات کا دفاع ممکن بنایا جاسکے‘ جس کی تشریح آئین میں یوں کی گئی ہے: ’’پاکستان کا نظام حکومت جمہوری ہوگا جس کی بنیادیں قرآن و سنت کے اصولوں پر قائم ہوں گی۔‘‘ اس کے باوجود ہم نے جمہوریت کو قوقیت دیتے ہوئے قرآن وسنہ کو پس پشت ڈال رکھا ہے۔نہ ہی ماضی کی کسی حکومت کو اتنی توفیق ہوئی ہے اور نہ موجودہ حکومت کو کہ وہ ملک کی نظریاتی سرحدوں کو مستحکم کرنے کے اقدامات کرتیں اور نہ ہی ہماری دینی جماعتوں کو اس بات کی فکر ہے۔اگر یہ صورت حال ایسی ہی رہی‘ اور ہم نے اپنی بقاء کا مرکز خدائے وحدہ لا شریک کا نظام نہ اپنایا اور اس کے برعکس شخصی آزادی کے طرفدارروشن خیالی کے نظام ’’جوخداکو نہیں بلکہ انسان کوفوقیت دیتا ہے‘‘پر چلتے رہے تو ہمیں آئین میں بائیسویں ترمیم کا مسودہ تیار کرنے کیلئے ایک اور آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرنے کی ضرورت پڑے گی‘ اور ہماری پارلیمنٹ اسی طرح کمال مروت سے اس کی بھی منظوری دے دے گی۔شاید موجودہ گھمبیرصورت حال سے بآسانی نکلنے کایہی ایک طریقہ ہے۔اس کے بعد پاکستان کا نام بدل کر ’’عوامی جمہوریہ پاکستان، رکھنا بھی ممکن ہو جائے گا۔ بنگلہ دیش کی زندہ مثال ہمارے سامنے ہے لیکن پاکستان کا معاملہ بہت مختلف ہے کیونکہ خدا نخواستہ ہماراملک پاڑہ چنار کی طرز کی ایک ’’علاقائی رزم گاہ‘‘ نہ بن جائے جس کا انجام یوگوسلاویہ جیسا ہونے سے روکنا مشکل ہوگا۔

مزید : کالم