اپنا روزگار سکیم، بیروزگاری کم کرنے کی مثبت کوشش

اپنا روزگار سکیم، بیروزگاری کم کرنے کی مثبت کوشش

وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے 31ارب روپے کی اپنا روزگار سکیم کے سلسلے میں گاڑیوں کی تقسیم کے لئے قرعہ اندازی کا افتتاح کر دیا اور کہا ہے کہ اس سے نوجوانوں کو باعزت روزگار کے مواقع ملیں گے۔ اس سکیم کے تحت درخواست دہندگان میں سے پچاس ہزار افراد کو سوزوکی وین اور کیری ڈبے دیئے جائیں گے۔ مارکیٹ سے ستر ہزار روپے کم قیمت لی جائے گی اور پنجاب بنک کے قرضوں کے عوض سود حکومت پنجاب ادا کرے گی، جن نوجوانوں کو قرعہ اندازی کے ذریعے کیری ڈبہ یا سوزوکی وین ملے گی وہ اقساط میں صرف اصل زر ہی ادا کریں گے۔وزیراعلیٰ قرعہ اندازی کے افتتاح کے بعد میڈیا سے بات چیت کررہے تھے تو ان کی توجہ شہر میں چلنے والے چنگ چی/ موٹرسائیکل رکشوں کی طرف دلائی گئی کہ یہ شہر میں ٹریفک کے مسائل پیدا کرتے ہیں اور ان کی وجہ سے حادثات ہو رہے ہیں، وزیراعلیٰ نے جواب میں کہا حکومت رکشا ڈرائیوروں کے مسائل پر بھی غور کررہی ہے کہ ان کو بھی گاڑیوں کی طرح نئے رکشا دیئے جائیں ہم کسی کو بے روزگار نہیں کریں گے متبادل روزگار کا اہتمام کرنے کی کوشش کریں گے۔

وزیراعلیٰ کے جذبے کی تعریف کرنا چاہیے اور یہ توقع بھی ہے کہ گاڑیاں لینے والے حقیقی معنوں میں ان کے ذریعے روزگار ہی حاصل کریں گے اور ان کا غلط استعمال نہیں ہوگا کہ اس سے پہلے بھی دوبار ٹیکسی روزگار سکیم کا اجرا ہوا، پہلی بار پیلی ٹیکسی سکیم اور موجودہ وزیراعلیٰ ہی نے پھر کالی ٹیکسی روزگار سکیم شروع کی نہ تو پیلی اور نہ ہی یہ کالی ٹیکسی کہیں نظر آتی ہے۔ہزاروں گاڑیاں تقسیم ہوئی تھیں مگر سڑک پر عوام کے لئے ٹیکسی کی سہولت نہیں ملی۔ وزیراعلیٰ نے جس جذبے کے تحت سستی گاڑیاں اقساط پر فراہم کیں، اس جذبے کی قدر نہیں کی گئی دوسرے متعلقہ محکموں نے بھی توجہ نہیں دی۔اب جو گاڑیوں کی تقسیم شروع ہوئی ہے تو یقین کرنا چاہیے کہ یہ سڑک پر چلیں گی اور ان سے روزگار ہی حاصل کیا جائے گا اور پھر غلط استعمال نہیں ہوگا، متعلقہ حکام کو بھی نگرانی کرنا ہوگی، بہرحال وزیراعلیٰ کے جذبے کو سلام۔ *

مزید : اداریہ