بھارت کو دو طرفہ تعلقات کی اہمیت سمجھنی چاہئے

بھارت کو دو طرفہ تعلقات کی اہمیت سمجھنی چاہئے

وزیر اعظم نواز شریف نے بحرین میں مقیم پاکستانیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کا ذمہ دار بھارت کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے خلوص نیت سے بھارت کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی لیکن اس نے مثبت جواب نہیں دیا، بھارت نے خارجہ سیکرٹری سطح پر جاری مذاکرات کوپاکستانی ہائی کمشنر کی کشمیر ی حریت رہنماوں سے ملاقات کو جواز بنا کر منقطع کر دیا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان تمام ہمسایہ ممالک سے خوشگوار تعلقات کا خواہاں ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ امن قائم ہونے اوردہشت گردی کے خاتمے سے پاکستان دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کرے گا۔انہوں نے بتایا کہ آپریشن ضرب عضب کامیابی سے جاری ہے اورپاکستانی حکومت نے تو دہشت گردوں سے بھی مذاکرات کی کوشش کی لیکن اس میں ناکامی ہوئی کیونکہ وہ ہتھیار پھینکنے کو تیار نہیں تھے،اب ہزاروں دہشت گرد مارے جا چکے ہیں جبکہ کافی افغانستان بھاگ گئے ہیں۔ نوازشریف نے کہا کہ افغان صدر اشرف غنی پاکستان کے دوست ہیں اورانہوں نے پاکستان سے دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے، پاکستان بھی اس کا مثبت جواب دینے کا حامی ہے۔ ان کا موقف تھا کہ دہشت گردوں کے ’سپیڈی ٹرائل ‘ کے لئے خصوصی عدالتیں قائم کر دی گئیں جو بہت پہلے ہی بن جانی چاہئے تھیں۔انہوں نے بیر ون ملک مقیم پاکستانیوں کو پاکستان کی بہتر ہوتی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ بجلی اور تیل کی قیمتوں میں کمی آئی ہے اورپٹرول کی قیمتوں میں تیس فیصد کمی سے صنعت، زراعت اورروز مرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں کمی جیسے مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

پاکستانی حکومت مستقبل کو روشن بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کرتی نظر آ رہی ہے، مختلف ممالک کے ساتھ دو طرفہ باہمی تعلقات کے فروغ کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں، معاہدے کئے جا رہے ہیں اوراسی سلسلے میں وزیرا عظم نواز شریف بحرین کے دو روزہ دورے پر ہیں ۔ وہ یہ دورہ بحرین کے بادشاہ حماد بن عیسیٰ بن خلیفہ کی دعوت پر کر رہے ہیں جس کامقصد پاکستان اور بحرین کے درمیان دو طرفہ تعلقات کی مضبوطی ہے ۔ پاکستان اور بحرین کی موجودہ دوطرفہ تجارت کا حجم 20 کروڑ ڈالر ہے اور پاکستان اس کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے لیکن ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ خطے میں عدم استحکام اور امن عامہ کی صورت حال ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ہم ملک کے اندرتو دہشت گردوں کا سامنا کرہی رہے ہیں لیکن جس طرح بھارت ہماری اندرونی صورت حال کا فائدہ اٹھا کر سرحدوں پر بمباری کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں، ہمارے بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ایک جنگ ہمارے ملک میں جاری ہے اور دوسری بھارت سرحدی خلاف ورزی کر کے ہم پر مسلط کرنا چاہتا ہے۔

بھارت نے نئے سال کا ’تحفہ‘ ہمارے رینجرز کے دو جوانوں کو فلیگ میٹنگ کے بہانے بلا کر شہید کرکے دیا۔اس کے بعد سے بھارت پاکستان پر الزامات کی بارش کئے ہوئے ہے، بھارت نے پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے پاکستانی دہشت گردوں کی کشتی کی تباہی کا ڈرامہ بھی رچایا، جسے بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس نے ہی بے نقاب کر دیا۔معلوم ہوا کہ وہ کوئی دہشت گرد نہیں بلکہ ماہی گیروں کی کشتی میں شراب اور ڈیزل کے سمگلر تھے۔چونکہ وہاں موجود ماہی گیروں نے کوئی بھی کشتی جلتے ہوئے نہیں دیکھی اس لئے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ یہ واقعہ شاید بھارتی سمندری حدود کے بجائے بین الاقوامی پانیوں میں ہوا ہے۔

جب سے بھارت میں نریندر مودی نے حکومت سنبھالی ہے خیر کے بدلے شر ہی نظر آ رہا ہے۔وزیر اعظم نواز شریف آموں اور ساڑھی کا تحفہ لے کر نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں گئے، جذبہ خیر سگالی دکھایا، نیک تمناوں کا اظہاربھی کیا لیکن بھارت نے اس کا جواب جارحیت سے دیا۔بی جے پی کی حکومت قائم ہونے کے بعد سے اب تک بھارت کی جانب سے ورکنگ باونڈری اور لائن آف کنٹرول پر فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے۔سرحدی علاقوں سے پاکستانی نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ بھارت توسرحدی کشیدگی کا سارا ملبہ پاکستان پر گرانے کی کوشش کرتا ہے لیکن دفتر خارجہ نے واضح الفاظ میں ان الزامات کو مسترد کر تے ہوئے کہہ دیا کہ پاکستان اس وقت آپریشن ضرب عضب میں مصروف ہے، سرحد پر کسی قسم کی کارروائی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔امریکہ بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کوششوں کے حق میں ووٹ د ے چکا ہے، جو بھارت کو خاصا ناگوار گزرا۔

اکتوبر 2014 میں نیپال میں ہونے والی سارک کانفرنس سے بہت ساری امیدیں وابستہ تھیں کہ شاید اب بھارت کی جانب سے مثبت جواب سامنے آ جائے، مذاکرات منقطع کرنے کے باعث ان کی بحالی کی اخلاقی ذمہ داری بھارت پر ہی عائد ہوتی تھی جس کا دو ٹوک الفاظ میں نواز شریف نے اظہار بھی کر دیا تھا لیکن بھارت نے اس بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔وزیر اعظم نواز شریف اور نریندر مودی کے درمیان مصافحہ تو ہو گیا لیکن دل کے تار نہ چھڑ سکے۔سارک کی کارکردگی بھی پاکستان بھارت کے تعلقات کی وجہ سے خاصی متاثر ہے۔نریندر مودی ہمیشہ اسی خواہش کا اظہار کرتے آئے ہیں کہ وہ خطے میں امن چاہتے ہیں لیکن ان کا عمل اور ہی داستان سناتا ہے۔گجرات میں مسلمانوں کو ظلم کا نشانہ بنانے والی بی جے پی کا تعصب اب بھی کم ہوتا نظر نہیں آتا، بلکہ شاید اختیار اور وقت کے ساتھ ساتھ بڑھ ہی گیا ہے۔مسئلہ کشمیر بھی بھارتی حکومت اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر رضامند نہیں ہے بلکہ اب تو مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد انتخابات میں ناکامی کے بعد چھ ماہ کے لئے گورنر راج نافذ کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ اگر پاکستان ماضی کی تلخیوں کوبھلا کر تعلقات نئے سرے سے شروع کرنے کے لئے ہاتھ بڑھا سکتا ہے تو بھارت کے لئے تو یہ کوئی ایسا خاص مشکل کام نہیں ہے، بس اسے اپنے تعصب کو پس پشت ڈالنا ہے، ماضی سے نکل کر مستقبل کی طرف دیکھنا ہے۔بھارت کو اب اس بات پر غور کرنا چاہئے اور یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ وہ ان 67سالوں میں باوجود بے پناہ کوشش کے ،پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکا توآگے بھی کچھ نہیں بدلے گا۔پاکستان انشاء اﷲدنیا کے نقشے پر آزاد ملک کی حیثیت سے ہمیشہ موجود رہے گااس لئے لڑائی جھگڑوں میں اپنی توانائی ضائع کرنے کی بجائے بھارت کو بھی ایک نئے باب کا آغاز کردیناچاہئے، خوشگوار تعلقات کی بنیاد رکھنی چاہئے، مثبت رد عمل کا اظہار کرنا چاہئے۔ یاد رہے کہ مضبوط باہمی تعلقات ہی خطے میں امن ، استحکام اور خوشحالی کی ضمانت دے سکتے ہیں۔

مزید : اداریہ