مشرف حملہ کیس ،3مجرموں کی پھانسی رک گئی ،ایک کو لٹکا دیا گیا

مشرف حملہ کیس ،3مجرموں کی پھانسی رک گئی ،ایک کو لٹکا دیا گیا

                                 راولپنڈی(مانٹیرنگ ڈ یسک ) لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ نے سابق صدرپرویز مشرف پر حملے کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے تین مجرموں کی آ ج ہو نے والی پھانسی پر عملدرآمد روک دیا۔ جمعہ کولاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ کے جسٹس قاضی محمد امین پر مشتمل ایک رکنی بنچ نے نوازش علی، خالد محمود اور مشتاق احمد کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزاروں کے وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ تینوں افراد کو فوجی عدالت نے چارج شیٹ کیے بغیر سزائے موت سنائی اور کوئی بھی دستاویزات دیئے بغیر سزائے موت دینے کا حکم دیا جبکہ فیصلے کے خلاف اپیلیں بھی کی گئیں جو کوئی بھی وجہ بتائے بغیر مسترد کردی گئیں۔ فاضل عدالت نے مجرموں کے وکیل کے دلائل سننے کے بعد درخواست سماعت کے لئے منظور کرلی جبکہ وفاق کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پیر کو ڈپٹی اٹارنی جنرل کو دلائل کے لیے طلب کرلیا۔ واضح رہے کہ تینوں مجرموں کو فوجی عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف پر حملے کے الزام میں سزائے موت سنائی تھی اور تینوں مجرموں کو آج اڈیالہ جیل راولپنڈی میں پھانسی دی جانا تھی، سزا یافتہ مجرم خالد محمود فضائیہ کے سابق چیف ٹیکنیشین ہیں، نوازش بھی ایئر فورس کا سابق اہلکارجبکہ تیسرا مجرم مشتاق احمد عام شہری ہے۔جبکہ دوسری طرف اڈیالہ جیل میں پرویز مشرف پر حملے میں ملوث ایک اور مجرم ڈاکٹر خالد کو پھانسی دیدی گئی۔ ڈاکٹر خالدکو قتل اور اقدام قتل کے جرائم کی دفعات کے تحت کی موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ جیل حکام کا کہنا ہے کہ مجرم کو رات نو بجے پھانسی دی گئی تھی اور اب اس کی لاش کو لواحقین کے سپرد کر دیا گیا ہے۔

م

مزید : صفحہ اول