یک نہ شد دو شد

یک نہ شد دو شد
یک نہ شد دو شد

  

سوچ رہا تھا کہ جب ٹیلی ویژن متعارف ہوا تو خدشہ ظاہر کیا گیا کہ یہ ٹیکنالوجی تو علم دشمن ہے اور انسان اپنا بہت سا ایسا وقت جو سوچ و بچار اور جستجو میں صرف کرسکتا ہے وہ سارا وقت ٹیلی ویژن کی نذر کر دے گا۔ کچھ لوگوں کو تو ٹیلی ویژن دیکھنے کی اس حد تک عادت ہوجاتی ہے کہ آپ انہیں ٹی وی بند کرنے کا کہہ کر تو دیکھیں۔ سارا دن اپنے اپنے کاموں سے فارغ ہوکر جب اہل خانہ مل بیٹھتے ہیں تو اُن کی آپس کی گفتگو کا وقت ٹی وی کی نذر ہوجاتا ہے۔ بیگم مصروف ہیں کہ انڈیا کے ساس بھی کبھی بہو تھی جیسے سوپ چل رہے ہیں یا میرا سلطان دیکھنے میں سارا خاندان اس قدر محو ہے کہ رشتے دار شادی کارڈ دینے آئے آدھ گھنٹہ بیٹھے لیکن ہاں، ہوں سے زیادہ بات ہی نہ ہوئی، ابّا ٹاک شو میں مصروف رہے ابھی اس کے مضر اثرات سوچ ہی رہے تھے، ذہن میں ڈیٹا مرتب کررہے تھے کہ خاندان میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے ان بچوں کی تعداد حیران کن حد تک زیادہ ہے جن کے گھروں میں خبر نامے کے علاوہ ٹی وی دیکھنا ممنوع تھا کہ ہمارا ذہن اس سے بھی بڑے عذاب سے جا ٹکرایا ۔۔۔ موبائل فون ۔۔۔ جس کو خوش دلی سے دل کھول کر قبول کرلیا گیا ہے اور یہ بات سننے کے کام تو آنا ہی ہے ہر کسی کو اپنی حیثیت اور امارت کا رعب بٹھانے کے لئے اب فرضی بڑائی کے واقعات گھڑنے کی ضرورت نہیں۔ قیمتی موبائل کی گھنٹی بجتے ہی آپ سے مخاطب افراد جب آپ کی جیب سے قیمتی موبائل برآمد ہوتا دیکھیں گے تو خود ہی آپ کی حیثیت سے آگاہ ہوجائیں گے لیکن جب یہی موبائل بچوں کے ہاتھ آیا تو اُن کی موج ہوگئی۔ کئی گیمز اس پر دستیاب ہر وقت انگلیاں ٹک ٹک کرنے لگیں۔ کلاس میں استاد یا استانی پڑھارہے ہیں اور طلبہ نے کتابوں تلے، ڈیسک تلے موبائل فون پکڑ رکھا ہے اور پیغام رسانی، فیس بک پر تصاویر کا تبادلہ جاری ۔۔۔ ظاہر ہے نہ نوٹس بنا سکے نہ ہی لیکچر پوری توجہ سے سُن سکے۔ اگر موبائل فون کے ذریعے وائس چیٹنگ اور کانفرنس ممکن ہوئی تو اس کے نتائج سکولوں اور اکیڈمیوں میں لڑائی کی صورت میں آئے۔ معلوم ہوا بچارے نوعمر دل کی باتیں دل میں نہ رکھ سکے اور سر پھڑوا بیٹھے اور امتحانی نتیجہ بھی خراب کروالیا۔۔۔ ظاہر ہے ان سب حالات کو سوچ کر میں یہ درخواست کروں گا کہ تعلیمی اداروں میں موبائل فونز پر پابندی ہونی چاہیے۔ نوعمر بچوں کو ان کی خریداری ممنوع ہونی چاہیے۔ آپ میری یہ باتیں سن کر گھسا پٹا پرانا سا جواب دیں گے بھئی ٹیکنالوجی اچھی یا بُری نہیں ہوتی اُس کا استعمال اُسے اچھا یا بُرا بنا دیتا ہے۔ اسی موبائل نے رابطہ سہل بنا دیا ہے آپ ہر وقت رابطے میں رہتے ہیں۔ کئی ایسے کام موبائل پر بیٹھ کر کرسکتے ہیں جن کے لئے دفتر درکار ہیں۔ میں جواب میں کہوں گا چوبیس گھنٹے رابطے میں رہنے سے آپ کی ذاتی زندگی متاثر ہوتی ہے۔

یہ موبائل کھانا کھاتے ہوئے، میٹنگ میں، نماز میں حتیٰ کہ باتھ روم میں بھی بجتے سنے گئے ہیں۔ آپ کہیں گے جناب! آج کل پورا میڈیا، پوری سیاسی جماعتیں اُن کے لیڈر انہی موبائل فونز سے چلا رہے ہیں۔ تو جناب! مجھے اس سے کب انکار ہے؟ میں کب کہتا ہوں موبائل فونز نہ ہوں؟ میں تو یہ کہہ رہا ہوں کہ اگر طلبہ کے لئے ان کے نقصانات فوائد سے زائد ہیں تو میری دی گئی تجاویز مان کر طلبہ کے لئے موبائل فونز خریدنا اور استعمال کرنا منع کرکے تو دیکھیں۔ والدین اور طلبہ کے آدھے مسائل ضرور حل ہوجائیں گے، آپ نہیں مانتے تو زبردستی تھوڑی ہے۔

مزید : کالم