میڈیا پر کسی کو شب خون مارنے نہیں دینگے: سینیٹر سعید غنی

میڈیا پر کسی کو شب خون مارنے نہیں دینگے: سینیٹر سعید غنی

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر اور میڈیا سیل سندھ کے انچارج سعید غنی نے کہا ہے کہ صحافتی حلقوں میں اس حوالے سے سخت تشویش پائی جاتی ہے کہ حکومت میڈیا پر کنٹرول رکھنے کے لئے خصوصی ٹریبونل اور عدالتیں قائم کرنا چاہتی ہے لہذا حکومت کو متنبہ کرتے ہیں کہ وہ ایسی کسی بھی کوشش کا خیال بھی دل میں نہ لائے ورنہ اس ملک میں ایک بار پھر آزا عدلیہ اور آزاد میڈیا کی تاریخی تحریک شروع کردی جائے گی۔ انھوں نے پاکستان فیڈریشن آف یونین آف جرنلسٹس کے میڈیا کمپلینٹ کمیشن کے مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی آف انفارمیشن کی چالیس تجاویز کو میڈیا اور اظہار رائے کی آزادی پر شب خون مارنے کی دانستہ کوشش قراردیا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کے ورکنگ جرنلسٹس کی موثر آواز اور نمائندہ پلیٹ فارم کو تجاویز کی تیاری کے مراحل میں شامل نہ کرکے زیادتی کی گئی ہے اور اس سے ساٹھ ہزارسے زائد ورکنگ جرنلسٹس کا وقار بھی مجروح کیا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ سابق ڈکٹیٹر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف نے جب آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا کو دبانے کی کوشش کی تو پاکستان پیپلز پارٹی نے عدلیہ اور میڈیا کی آزادی کے لئے ہراول دستے کا کردار ادا کیا اور ڈکٹیٹر کو منہ کی کھانی پڑی اور بالآخر اسے ہی اقتدار سے رخصت ہونا پڑا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ خواہ کوئی ڈکٹیٹر یا سول حکمران عدلیہ اور میڈیا کی آزادی پر شب خون مارنے کی جسارت کرے گا تو پاکستان پیپلز پارٹی سب سے پہلے آگے بڑھ کر اس کا راستہ روکے گی۔ انھوں نے اسٹینڈنگ کمیٹی کی موجودہ چیئرپرسن ماروی میمن کو بھی ہدف تنقید بناتے ہوئے متنبہ کیا کہ وہ تاحال ذہنی طور پر ڈکٹیٹر مشرف کی کابینہ ہی میں ہیں اور انھیں چاہیے کہ وہ اپنے آمرانہ رویے کو ترک کریں اور میڈیا کی آزادی پرپرشب خون مارنے کی بجائے اس کی تعمیر میں حصہ لیں۔ انھوں نے پے ایف یو جے اور ملک بھر کی صحافتی انجمنوں کو یقین دلایا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی میڈیا کی آزادی پر کوئی آنچ نہیں آنے دے گی اور جلد ہی اس ضمن میں مربوط لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔

مزید : صفحہ آخر