پٹرولیم مصنوعات پر اضافی جی ایس ٹی ختم کرنیکی کی سفارش

پٹرولیم مصنوعات پر اضافی جی ایس ٹی ختم کرنیکی کی سفارش

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے پٹرولیم مصنوعات پر پانچ فیصد اضافی جی ایس ٹی ختم کرنے کی سفارش کر دی۔ اراکین کہتے ہیں عوام پر بوجھ ڈالنے کے بجائے حکومت اپنے اخراجات کم کرے۔ کمیٹی نے زرعی آمدن پر ٹیکس لگانے کا اختیار وفاقی حکومت کو دینے کی بھی تجویز دیدی۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس نسرین جلیل کی زیرصدارت اسلام آباد میں ہوا۔ چیئرمین ایف بی آر طارق باجوہ نے کمیٹی کو بتایا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہونے سے ایف بی آر کو 70 ارب کا نقصان ہوا۔ سیلز ٹیکس میں 5 فیصد اضافے سے حکومت کو صرف 18 ارب روپے حاصل ہونگے۔ کمیٹی کی چیئر پرسن نے کہا کہ عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 50 فیصد کمی ہوئی جبکہ حکومت پاکستان نے قیمتوں میں صرف 12 فیصد کمی کی۔ کمیٹی ارکان نے کہا کہ ٹیکس میں اضافہ کر دیا گیا لیکن ٹرانسپورٹ اور پی آئی اے کے کرایوں میں کمی نہیں کی گئی۔ سینیٹر عثمان سیف اللہ خان نے جی ایس ٹی میں اضافے کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کی تجویز دی جس کی تمام ارکان نے حمائت کی۔ کمیٹی ارکان نے زرعی آمدن پر ٹیکس لگانے کا اختیار وفاقی حکومت کو دینے کی بھی تجویز دی اور کہا کہ اس حوالے سے آئین میں ترمیم ہونی چاہئے چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والوں کیخلاف پارلیمنٹ میں بل لایا جائے گا۔ رواں مالی سال ٹیکس گوشوارے جمع کرانیوالوں کی تعداد 9 لاکھ سے تجاوز کر جائے گی۔

مزید : صفحہ آخر