قومی اسمبلی، پیپلز پارٹی، فاٹا ارکان،جے یو آئی اور فنکشنل لیگ کے ارکان کا ایوان سے الگ الگ واک آؤٹ

قومی اسمبلی، پیپلز پارٹی، فاٹا ارکان،جے یو آئی اور فنکشنل لیگ کے ارکان کا ...

اسلام آباد (آئی این پی) قومی اسمبلی سے پیپلزپارٹی، فاٹا ارکان ،جے یو آئی ار فنکشنل لیگ کے ارکان کا ایوان سے الگ الگ واک آؤٹ، پیپلز پارٹی اور فاٹا ارکان نے فاٹا بارے حکومتی رویے، جے یو آئی نے ایم کیو ایم کی فضل الرحمن پر تنقید، دینی مدارس کو نشانہ بنانے اور فوجی عدالتوں بارے آئینی ترمیم پر جبکہ فنکشنل لیگ نے سندھ میں سرکاری ریٹ پر گنے کی عدم خریداری کے خلاف واک آؤٹ کیا، جے یو آئی کے مولانا امیر زمان کی نشاندہی پر کورم پورا نہ نکلنے پر ڈپٹی سپیکر نے اجلاس پیر کی شام تک ملتوی کر دیا۔ جمعہ کو ایوان میں وقفہ سوالات کے بعد جماعت اسلامی کی رکن عائشہ سید نے نبی پاکؐ کی ولادت با سعادت کے حوالے سے ایوان میں قرار داد تہنیت پیش کی، جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔ قرار داد میں کہا گیا ہے کہ حضورؐ کی ولادت با سعادت پر ہم عہد کرتے ہیں کہ ہم اپن اجتماعی اور انفرادی زندگیوں کو نبیؐ کی تعلیمات کے مطابق بناتے ہوئے آپؐ کے اسوہ حسنہ پر حقیقی معنوں میں عمل کریں گے اور پاکستان کو امن و سکون کا گہوارہ بنائیں گے۔ ایوان قرار دیتا ہے کہ نبی پاکؐ کی ذات اب کائنات کے بعد عظیم ہستی ہے، ان کی ولادت با سعادت پر خراج عقیدت پیش کرتا ہے۔ قرار داد کی منظوری کے بعد نکتہ اعتراض پر فاٹا رکن مولانا جمال الدین نے کہا کہ ہم نے کئی دنوں سے واک آؤٹ اور بائیکاٹ کیا لیکن حکومت ہماری بات سننے کیلئے تیار نہیں، فاٹا اصلاحات پر ہمیں اعتماد میں نہیں لیا جا رہا۔ گورنر اور وفاقی حکومت کے ناروا سلوک اور رویے کے خلاف واک آؤٹ کرتے ہیں، اس کے ساتھ ہی فاٹا ارکان واک آؤٹ کرگئے۔ پی پی پی کی عذرا فضل نے کہا کہ ہم فاٹا ارکان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے مطالبوں کیتائید کرتے ہیں ، ہم بھی ان کے ساتھ واک آؤٹ کریں گے، اس کے ساتھ ہی پی پی پی کے ارکان بھی ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔فاٹا ارکان اور پی پی پی کے واک آؤٹ کے بعد فنکشنل لیگ کے غوث بخش مہر نے نکتہ اعتراض پر سندھ میں شوگر ملوں کی جانب سے سرکاری نرخوں پر کسانوں سے گنا نہ خریدنے پر شدید احتجاج کیا اور کہا کہ شوگر ملیں کسانوں نے اپنی مرضی کے داموں پر گنا خریدنے پربضد ہیں اور حکمرانوں کو کوئی فرصت نہیں، حکمران کوئی نوٹس نہیں لے رہے، وفاقی اور صوبائی حکومت کے رویے کے خلاف ایوان سے واک آؤٹ کرتے ہیں۔ فنکشنل لیگ کے واک آؤٹ کے بعد جے یو آئی کے مولانا امیر زمان نے کہا کہ ایم کیو ایم کے قائدین مولانا فضل الرحمان پر نا مناسب تنقید اور الزامات عائد کر رہے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ ان کو کہاں سے ڈالر ملتے ہیں اور یہ کس کے اشاروں پر مذہبی قیادت کو نشانہ بنا رہے ہیں، مدارس اور مساجد کے خلاف ماحول بنایا جا رہا ہے، مساجد اور مدارس کے خلاف طاقت استعمال کی گئی تو مزاحمت کریں گے، فوجی عدالتوں کا قیام غیر آئینی ہے، فوجی عدالتوں کے قیام، مدارس کے خلاف مہم اور ایم کیو ایم کی فضل الرحمان پر تنقید کے خلاف ایوان سے واک آؤٹ کرتے ہیں، اس کے ساتھ جے یو آئی کے سارے ارکان بھی واک آؤٹ کر گئے۔ بعد ازاں مولانا امیر زمان نے کورم پوائنٹ آؤٹ کر دیا، جس پر ڈپٹی سپیکر نے ارکان کی گنتی کروائی تو ارکان کی تعداد مطلوبہ کورم سے کم نکلی جس پر اجلاس پیر کی شام 4بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

مزید : صفحہ آخر