فرنچ میگزین حملہ، 48گھنٹے طویل آپریشن میں 3حملہ آوروں سمیت 6افراد ہلاک

فرنچ میگزین حملہ، 48گھنٹے طویل آپریشن میں 3حملہ آوروں سمیت 6افراد ہلاک

پیرس(خصوصی رپورٹ) فرانس میں 2 روز قبل ہفت روزہ اخبار پر دھاوا بولنے والے حملہ آوروں اور پولیس کے درمیان تیسرے روز بھی دارالحکومت پیرس میں جنگ کی سی کیفیت برقرار رہی اور کئی گھنٹوں تک گھیراو کرنے کے بعد پولیس نے 2 مسلح افراد کو ہلاک کرکے یرغمالیوں کو رہا کرا لیا ہے جبکہ اس دوران فائرنگ کے تبادلے میں 3 افراد بھی ہلاک ہوگئے۔فرانسیسی پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے پیرس کے شمال میں انڈسٹریل ٹاؤن دامارٹن این گولے کی عمارت میں داخل ہوکر ایک شخص کو جبکہ یرس کے مشرقی حصے میں بھی ایک ٹاؤن میں دہشت گردوں نے سپر مارکیٹ کے ایک اسٹور میں گھس کر 5 سے زائد افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔ پولیس کی بھاری نفری نے دونوں عمارتوں کو گھیرے میں لے کر آپریشن شروع کردیا اور 48 گھنٹون کی کارروائی کے بعد تینوں مسلح افراد کو ہلاک کردیا گیا ہے تاہم اس کارروائی میں 2 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ یرغمال بنا ئے گئے افراد کو رہا کرا لیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ تمام دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا ہے جبکہ اس کارروائی کے دوران ایک پولیس افسر سمیت 4 افراد شدید زخمی بھی ہوئے ہیں۔پولیس کاکہنا ہے کہ مسلح افراد کے پاس بھاری ہتھیار موجود تھے اور انہوں نے5 افراد کر یرغمال بنالیا تھا جبکہ یہ وہی حملہ آورتھے جنہوں نے چارلی ایبڈو پر حملہ کیا تھا۔ پولیس حکام نے حملے میں ملوث 2 دہشت گردوں کی تصاویر جاری کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ عوام 32 سالہ کاولی بیلے اور خاتون دہشت گرد 26 سالہ حیات بامیڈینی سے ہوشیار رہیں۔اس سے قبل پیرس کے مشرقی علاقے میں پولیس اخبار کے دفتر پر حملہ کرنے والے ملزمان کی گرفتاری کے لئے آپریشن کر رہی تھی کہ حملہ آوروں نے ایک گاڑی سے فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور دوسرا زخمی ہو گیا جب کہ حملہ آوروں نے ایک شخص کو یرغمال بھی بنا لیا۔ پولیس کی جانب سے مبینہ حملہ آوروں کی گاڑی کا پیچھا کیا جا رہا ہے جب کہ سرچ آپریشن کے دوران علاقے کی ہیلی کاپٹرز سے فضائی نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔ دونوں حملہ آور بھائیوں کی جانب سے پیغام موصول ہوا کہ ہم شہادت کے لئے تیار ہیں ۔مقتول ایڈیٹر میگزین چارلی ہیبڈو کی گرل فرینڈ کا کہنا ہے کہ وہ جانتا تھا وہ جلد موت کے گھاٹ اتار دیا جائے گا ا س لئے اس نے ابھی تک بچے پیدا نہیں کئے،حملے کے خدشے کے باوجود پولیس نے سکیورٹی انتظامات کیوں نہیں کئے جبکہ پولیس نے پیرس کے قریب موٹرسائیکل سوار2نوجوان لڑکوں کو بھی پکڑ لیا جنہیں تفتیش کیلئے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی فرانس میں شرپسندوں نے 2 مساجد پر دستی بموں سے حملہ کیا جب کہ فائرنگ سے ایک خاتون پولیس اہلکار ہلاک اور ایک شخص زخمی ہوا تھا اور اس سے ایک روز قبل پیرس میں ہفت روزہ اخبار کے دفتر پر فائرنگ سے ایک صحافی اور گستاخانہ خاکے بنانے والے کارٹونسٹ سمیت 12 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

مزید : صفحہ آخر