امریکہ اور یورپی یونین کے دباؤ میں سزائے موت روکنے سے ملک میں دہشتگردی بڑھتی رہی، سراج الحق

امریکہ اور یورپی یونین کے دباؤ میں سزائے موت روکنے سے ملک میں دہشتگردی بڑھتی ...

لاہور(سٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ جمہوری حکومت نے تمام مسائل کا حل ملٹری کورٹس کو سمجھ لیا ہے نواز شریف بتائیں کہ اگر ملٹری کورٹس ہی تریاق ہیں تو پھر ان کی مدت دوسال کیوں مقرر کی گئی ہے ،حالانکہ سول عدالتوں نے اپنا کردار ادا کرتے ہوئے آٹھ ہزار افراد کو پھانسیوں کی سزائیں دیں مگر حکمرانوں نے امریکہ اور یورپی یونین کے دباؤ میں آکر ان سزاؤں کو روک دیا جس سے ملک میں دہشت گردی بڑھتی رہی ۔جبکہ حکمران دہشتگردی کے خلاف ہونے والے قومی اتفاق رائے کو چھوڑ کر 21ویں ترمیم کو تریاق سمجھ رہے ہیں حالانکہ اس ترمیم سے اتحاد اور یکجہتی کو شدید نقصان پہنچا ہے ،قوم کو تقسیم کرکے بدامنی ختم نہیں کی جارہی بلکہ بڑھائی جارہی ہے۔حکمرانوں نے پاکستان کے 68سال ضائع کردیئے ہیں ،حکمران آج تک شریعت کے نفاذ کیلئے تو کوئی قانون بنا نہیں سکے ، سیکولر قوتوں کے دباؤ پرمذہب کے خلاف قانون بنائے جارہے ہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامع مسجد منصورہ میں جمعہ کے بڑے اجتماع سے خطاب اور بعد ازاں نماز استسقاء کی ادائیگی کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ سمیت جماعت کے مرکزی عہدے داران بھی موجود تھے ۔علاوہ ازیں امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کی اپیل پر ملک بھر میں نماز استسقا ء اداکی گئی اورملک میں باران رحمت کیلئے اور خشک سالی کے خاتمہ کیلئے دعائیں کی گئیں ۔ سراج الحق نے کہا کہ سانحہ پشاور کے بعد پیدا ہونے والے قومی اتفاق رائے کو حکومت نے خود ہی ملیا میٹ کردیا ہے ،ملٹری کورٹس کیلئے عجلت میں آئین میں ترمیم کی گئی اگر حکومت نیک نیتی کا مظاہرہ کرتی تو اس اتفاق رائے کو مزید بہتر کیا جاسکتا تھا ۔انہوں نے کہا کہ 21ویں ترمیم نے دہشت گردوں کیلئے آسانیاں پیدا کردی ہیں اور دہشت گردی کے دروازے کھول دیئے ہیں ۔سراج الحق نے کہا کہ حکمرانوں نے نظریہ پاکستان کے ساتھ بے وفائی کی ہے جس کی وجہ سے ملک بدامنی کی آماجگاہ بنا ہوا ہے ۔عوام کے ایشوز وہ نہیں جو سیاستدان بیان کررہے ہیں ،عام آدمی کا مسئلہ غربت ،مہنگائی بے روز گاری اور عدل و انصاف کی عدم دستیابی ہے ۔اقتدار پر قابض کرپٹ اشرافیہ نہیں چاہتی کہ عام آدمی سکھ اور چین کی زندگی گزارے بلکہ وہ عوام کو اپنے غلام بنا کر رکھنا چاہتی ہے ۔

مزید : صفحہ آخر