تما م جمہوری حکومتوں نے ہر دور میں بلدیاتی انتخابات سے نظریں چرائی ہیں

تما م جمہوری حکومتوں نے ہر دور میں بلدیاتی انتخابات سے نظریں چرائی ہیں

تجزیہ : شہباز اکمل جندران

الیکشن کمیشن نے ایک ماہ کے اندر بلدیاتی حلقہ بندیوں کی تکمیل کو ناممکن قرار دیا ہے۔الیکشن کمیشن کے باربار کہنے کے باوجود پنجاب اور سندھ نے حلقہ بندیوں کے لیے وارڈز اور یونین کونسلوں کی حدود کے نوٹیفکیشن ، نقشے اور دیگر معلومات فراہم نہیں کیں۔دونوں صوبائی حکومتوں کے غیر سنجیدہ رویے کی وجہ سے سپریم کورٹ نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ایکبا ر پھر ڈیڈ لائن دیدی ہے۔پاکستانی تاریخ گواہ ہے کہ سیاسی یا جمہوری حکومتوں نے ہر دور میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے نظریں چرائی ہیں۔ اور اب تک ہونے والے تمام ملک گیر بلدیاتی الیکشن ڈکٹیٹروںیا فوجی حکمرانوں کے ادوار میں ہی ہوئے۔سابق صدر جنرل (ر ) پرویز مشرف نے اپنے دور حکومت میں 2001اور 2005میں دوملک گیر بلدیاتی الیکشن کروائے ۔دوسرے بلدیاتی الیکشن کی مدت اگست 2009میں ختم ہوگئی ۔ اسی دوران18اگست 2008کو پرویز مشرف کا دور ختم ہوکر وفاقی سطح پر پیپلز پارٹی کا اور صوبائی سطح پر پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت قائم ہوچکی تھی۔اور پرویز مشرف کی جگہ سابق صدر آصف علی زرداری نے لے لی ۔ لیکن دونوں بڑی جماعتیں بلدیاتی انتخابات سے کنی کتراتی رہیں۔اور جو انتخابات2009میں ہونا تھے وہ آج تک نہیں ہوپائے۔پاکستان کا آئین بلدیاتی انتخابات کے انعقاد اور بلدیاتی اداروں کی تقویت پر زور دیتا ہے۔آئین کے آرٹیکل 32کے مطابق حکومت بلدیاتی اداروں کو مضبوط کریگی ۔جن میں کسانوں ، مزدوروں اور خواتین کو نمائندگی دی جائیگی۔اسی طرح آئین کے آرٹیکل 140-Aکے تحت قانون کے مطابق ہرصوبائی حکومت ایک بلدیاتی نظام قائم کریگی۔ اور الیکشن کمیشن بلدیاتی الیکشن کروانے کا ذمے دار ہوگا۔ملک میں اگست 2009میں بلدیاتی اسمبلیوں کے خاتمے کے بعد فوری طور پر کسی تاخیر کے بغیر ہی نئے الیکشن منعقد ہونا چاہیں تھے ۔ لیکن نہ ہوسکے۔18ویں آئینی ترمیم کے تحت بلدیاتی قوانین اور حلقہ بندیوں کی تیاری کا اختیار صوبوں کو دیا گیا تو صوبوں نے بلدیاتی انتخابات کے لیے قانون سازی اور حلقہ بندیوں کی تیاری میں قطعاً دلچسپی نہ لی۔ جس پر سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے الیکشن کمیشن اور پنجاب ، سندھ اور کے پی کے کی صوبائی حکومتوں کو بار بار مہلت دی ۔ اور ناراضگی کا اظہا ر بھی کیا ۔ یہ سلسلہ 2013کے اوائل میں شروع ہوا اور آج تک جاری ہے ۔لیکن صوبائی حکومتوں نے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں غیرسنجیدہ رویہ اپنائے رکھا۔لوکل گورنمنٹ ایکٹ بنایا گیا تو اس میں بے شمار غلطیاں پائی گئیں۔ پھر رولز کی تیاری میں تاخیر کی گئی۔ اسی طرح حلقہ بندیوں کی تیار ی کی گئی تو وہ اس قدر متنازعہ تھیں کہ عدالت عالیہ اور پھر عدالت عظمیٰ نے انہیں کالعدم قرار دیتے ہوئے بلدیاتی حلقہ بندیوں کی تیاری بھی الیکشن کمیشن کی ذمے داری قرار دی ۔ یہ 17مارچ 2014 کی بات ہے ۔ جب سپریم کورٹ نے وفاق اور صوبوں کوبلدیاتی انتخابات کے لیے قانون سازی کا حکم دیتے ہوئے قرار دیاتھا کہ صوبوں کی طر ف سے قانون سازی کا عمل مکمل ہونے کے بعد الیکشن کمیشن 45دنوں کے اندر صوبوں میں حلقہ بندیا ں کریگا۔جس پر الیکشن کمیشن نے ایک درخواست سپریم کورٹ میں دائر کردی تھی کہ حلقہ بندیوں کا عمل 45دنوں میں مکمل نہیں ہوسکتا۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے بلدیاتی حلقہ بندیوں کی تیاری کا حکم ملنے اور صوبائی قوانین میں اس حوالے سے ترامیم کے بعد الیکشن کمیشن مخمصے کا شکار ہوگیا کہ صوبوں میں بلدیاتی حلقہ بندیاں تیار کیسے کرے ۔ کیونکہ اس سے قبل الیکشن کمیشن صرف قومی وصوبائی اسمبلیوں کے لیے ہی حلقہ بندیاں تیار کرتا تھا۔الیکشن کمیشن نے بلدیاتی حلقہ بندیوں کی تیار ی کے لیے پنجاب اور سندھ حکومتوں سے ان کی کالعدم قرار دی جانے والی حلقہ بندیوں کی تفصیلات اور وارڈز و یونین کونسلوں کی حدود کے نوٹیفکیشن ، نقشے اور دیگر معلومات طلب کیں ۔لیکن ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پنجاب اور سندھ حکومت ان معلوما ت کی فراہمی میں بھی سنجیدگی سے کام نہیں لے رہی جس کی وجہ سے پنجاب اور سند ھ میں بلدیاتی حلقہ بندیوں کی تیاری کا عمل انتہائی سست روی کا شکار ہے۔ اور اسی رفتار سے یہ عمل جاری رھا تو خدشہ ہے کہ ایک سال گزرنے کے بعد بھی بلدیاتی حلقہ بندیاں مکمل نہیں ہوسکیں گی۔معلوم ہوا ہے کہ ۔1974کے حلقہ بندیوں کے قانون کے تحت ملک میں کسی بھی علاقے میں آبادی ، جغرافیائی حالات، انتظامی حدود اورمواصلاتی سہولیات کی روشنی میں نقشہ جات بنائے جاتے ہیں۔ علاقوں کی تقسیم کی جاتی ہے۔ اور حد بندی مقرر کی جاتی ہے۔بعد ازاں ان کی مناسب پبلسٹی کرتے ہوئے عوام اور سیاسی جماعتوں سے اعتراضات طلب کئے جاتے ہیں۔اور اعتراضات دور کئے جانے کے بعد حلقہ بندیوں کی حتمی فہرستیں آویزاں کردی جاتی ہیں۔الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی حلقہ بندیاں چار سے چھ ماہ میں تیار ہوسکتی ہیں۔اور یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے ناراضگی کا اظہار کرنے اور بلدیاتی انتخابات کے لیے پنجاب اور سندھ کو ایک ماہ کے اندر تمام ضروری معاملات کی تکمیل کرنے کے حکم پر الیکشن کمیشن نے اس عرصے کے دوران پنجاب اور سندھ اور خصوصاً پنجاب میں چار ماہ سے قبل بلدیاتی حلقہ بندیوں کی تکمیل کو ناممکن قرار دیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے ایک ذمے دار افسر کا کہناتھا کہ جلد بازی میں تیار کی جانے والی حلقہ بندیاں متنازعہ ہونگی۔ صوبائی حکومتیں تعاون کریں تو چارماہ کے اندر حلقہ بندیا ں تیار کی جاسکتی ہیں۔

مزید : تجزیہ