پرندے ہوائی جہازوں سے کیوں ٹکراتے ہیں؟ تحقیق میں حیرت انگیز وجہ سامنے آگئی

پرندے ہوائی جہازوں سے کیوں ٹکراتے ہیں؟ تحقیق میں حیرت انگیز وجہ سامنے آگئی
پرندے ہوائی جہازوں سے کیوں ٹکراتے ہیں؟ تحقیق میں حیرت انگیز وجہ سامنے آگئی

  

نیویارک (نیوز ڈیسک) ہوا بازی کی صنعت کو شروع دن سے پرندوں کے ہوائی جہازوں سے ٹکرانے کے خطرناک مسئلے کا سامنا ہے۔ ہم اکثر سنتے ہیں کہ پرندہ جہاز سے ٹکراگیا جس کی وجہ سے انجن فیل ہوگیا یا طیارے کو شدید نقصان پہنچا اور بعض اوقات تو یہ ٹکراﺅ خوفناک حادثے کا سبب بھی بن جاتا ہے۔ کئی دہائیوں تک پریشان رہنے کے بعد بالآخر سائنسدانوں نے یہ معلوم کرلیا ہے کہ پرندے جہازوں سے کیوں ٹکراتے ہیں اور اس تحقیق کا ایک اہم فائدہ یہ ہوا ہے کہ آپ کو بھی خبردار کیا جاسکتا ہے کہ اگر آپ کی گاڑی کی رفتار 120 کلو میٹر فی گھنٹہ سے زیادہ ہے تو پرندہ سامنے آنے کی صورت میں ٹکر ہونے کا خدشہ انتہائی زیادہ ہوگا۔

بیشتر لوگوں کو موت سے بھی زیادہ کس چیز سے ڈر لگتاہے؟تحقیق میں حیرت انگیز انکشاف

امریکی ایگری کلچر ڈیپارٹمنٹ، ہوا بازی ڈیپارٹمنٹ اور نمایاں یونیورسٹیوں کی مشترکہ تحقیق میں معلوم ہوا کہ پرندے انسانوں کے برعکس ٹریفک کی سمجھ بوجھ سے محروم ہوتے ہیں اور اپنی طرف بڑھنے والی گاڑیوں اور طیاروں سے بچنے کیلئے حساب کتاب میں غلطی کرجاتے ہیں۔ جب کوئی گاڑی ہماری طرف بڑھ رہی ہو تو ہم اس سے بچنے کیلئے اس کی رفتار کو مدنظر رکھتے ہیں لیکن پرندے صرف فاصلے کو دیکھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ عام طور پر اس وقت راستے سے ہٹتے ہیں جب فاصلہ تقریباً 100 فٹ رہ جاتا ہے۔ تجربات میں مشاہدہ کیا گیا کہ پرندے نہایت آہستہ چلتی گاڑی اور نہایت تیز چلتی گاڑی کی رفتار میں تمیز نہیں کرپاتے اور یہی وجہ ہے کہ تیز گاڑی کے قریب آنے پر جب وہ راستے سے ہٹتے ہیں تو بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔

مارک ذکر برگ کا اسلام مخالف سٹیٹس، جھوٹ پکڑا گیا

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کوئی بھی گاڑی جب 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار تک پہنچتی ہے تو پرندوں کیلئے اس سے بچنا مشکل ہوجاتا ہے۔ طیاروں کی رفتار اس سے کئی گنا زیادہ ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اکثر ان کے ساتھ پرندے ٹکراتے رہتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق صرف امریکا میں ہر سال 9,000 سے زائد پرندے طیاروں کے ساتھ ٹکراتے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس