میاں بیوی کے جھگڑے ، بھارتی سپریم کورٹ نے شوہروں کے دل کی بات کر دی

میاں بیوی کے جھگڑے ، بھارتی سپریم کورٹ نے شوہروں کے دل کی بات کر دی
میاں بیوی کے جھگڑے ، بھارتی سپریم کورٹ نے شوہروں کے دل کی بات کر دی

  

نئی دلی (نیوز ڈیسک) بھارتی سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ کئی دہائیوں سے عدالتیں روٹھی ہوئی بیویوں کی درخواست پر خاوندوں کی طرف سے دائر کئے گئے کیس خواتین کے شہر میں منتقل کر رہے ہیں تاکہ ان کیلئے آسانی رہے لیکن خاوند اس کیس کی منتقلی کی وجہ سے دربدر ہو جاتے ہیں۔

عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہمیشہ خاوندوں کو ہی تکلیف میں کیوں ڈالا جائے۔ چیف جسٹس ایچ ایل دتو اور جسٹس اے کے سکری پر مشتمل بینچ کا کہنا تھا کہ عدالتیں خواتین کا کچھ زیادہ ہی خیال رکھ رہی تھیں جبکہ مرد متاثر ہو رہے تھے۔ عموماً گھریلو جھگڑوں کے بعد خواتین والدین کے گھر چلی جاتی ہیں اور جب مقدمہ شروع ہوتا ہے تو وہ کیس اپنے شہر منتقل کروا لیتی ہیں۔ ایسی صورت میں خاوند کیلئے اپنا کام کاج چھوڑ کر سینکڑوں میل دور کسی شہر کی عدالت میں قانونی کارروائی جاری رکھنا ممکن نہیں رہتا۔ عدالت نے اسی بناءپر ایک گھریلو جھگڑے کے مقدمے کو غازی آباد سے ریاست مدھیا پردیش کے شہر بیتل منتقل کرنے سے انکار کر دیا۔

وہ یورپی گاؤں جہاں مرد جھاڑیوں کا روپ دھار کر خواتین کو تالاب میں پھینکتے ہیں

مزید : ڈیلی بائیٹس