خواتین کوئی بھی راز دو دن سے زیادہ اپنے پاس نہیں رکھ سکتیں

خواتین کوئی بھی راز دو دن سے زیادہ اپنے پاس نہیں رکھ سکتیں
خواتین کوئی بھی راز دو دن سے زیادہ اپنے پاس نہیں رکھ سکتیں

  

لندن (نیوز ڈیسک) آپ نے بھی یہ افواہ سن رکھی ہوگی کہ خواتین کیلئے کسی بھی بات کو راز رکھنا زرا مشکل کام ہے اور وہ اکثر کسی نہ کسی کے سامنے راز فاش کر بیٹھتی ہیں۔ اگرچہ اب تک تو یہ محض افواہ سمجھی جاتی تھی مگر ایک حالیہ تحقیق نے اسے سچ ثابت کردیا ہے اور سائنسدانوں کاکہنا ہے کہ چاہے کتنا بھی بڑا راز کیوں نہ ہو خواتین اسے دو دن سے زیادہ چھپا کر نہیں رکھ سکتیں۔

یہ تحقیق Wines of Chile نامی ادارے نے کروائی جس میں 18 سے 65 سال کی 3,000 خواتین شریک ہوئیں۔

بالی ووڈ کی ٹیکس چور شخصیات کے بارے میں جانئے

ادارے کے سربراہ مائیکل کوکس نے بتایا کہ تحقیق میں یہ دلچسپ انکشاف ہوا ہے کہ خواتین زیادہ سے زیادہ 47 گھنٹے 15 منٹ تک راز کو راز رکھ سکتی ہیں اور اس کے بعد وہ کسی سے اس کے بارے میں بات کرنے پر مجبورہوجاتی ہیں۔ عام طور پر خاوند، قریبی دوست یا ماں کے سامنے راز اگلا جاتا ہے اور خواتین اسے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کیلئے ضروری خیال کرتی ہیں۔ تقریباً 60 فیصد راز ان لوگوں کو بتائے جاتے ہیں کہ جن کا معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

 تقریباً ایک تہائی خواتین سمجھتی ہیں کہ راز افشاءکرنے میں کوئی ہرج نہیں جبکہ دو تہائی راز افشاءکرنے کے بعد ضمیر کی ملامت کا سامنا کرتی ہیں۔ خواتین عموماً آمنے سامنے بیٹھ کر یا فون پر راز افشاءکرنا پسند کرتی ہیں۔ جدید دور میں ای میل اور فیس بک کا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تقریباً 90 فیصد خواتین اس کے باوجود اصرار کرتی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ وہ بہت قابل اعتماد ہیں اور واقعی راز کو راز رکھتی ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس