جدید ترکی میں میڈیا کی ’آزادی‘ سے ترک صحافی نے پردہ اٹھا دیا

جدید ترکی میں میڈیا کی ’آزادی‘ سے ترک صحافی نے پردہ اٹھا دیا
جدید ترکی میں میڈیا کی ’آزادی‘ سے ترک صحافی نے پردہ اٹھا دیا

  

پچھلے ماہ میرے اخبار پر چھاپے اور 80 گھنٹوں کی حراست کے بعد جب میں پہلی دفعہ عدالت میں پیش ہوا تو میں نے جج سے پوچھا، ”دوکالم اور ایک نیوز رپورٹ‘ کیا یہی میرے خلاف کل شواہد ہیں؟“ جج نے جواب دیا ”ہاں“۔ یہ یقیناً میرے لئے ”میں اپنے دلائل کا اختتام کرتا ہوں“ کہنے کا لمحہ تھا اور اسی طرح صدر رجب طیب اردگان کے تحت ترک جمہوریت کی ناگفتہ بہ صورتحال کیلئے بھی۔ گزشتہ 12 سال سے ترکی کی رہنمائی کرنے والے اردگان نے اپنے پہلے اور دوسرے دور میں معاشی کامیابی اور جمہوری اصلاحات میں حصہ ڈالا ہے۔ تاہم، یکے بعد دیگرے کامیابیوں اور نااہل اپوزیشن سے شہہ پاکر وہ اب ترکی کو ایک شخص اور ایک پارٹی کی حکومت کی طرف لے جارہے ہیں۔

دو اہم موڑ 2013ءمیں آئے: گیزی پارک میں ان کی حکومت نے مظاہرین کے ساتھ بدسلوکی کی اور ایک بڑے کرپشن سکینڈل کے بعد انصاف کی راہ میں منظم طریقے سے رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ اس وقت سے ہی اردگان نے اختلاف رائے رکھنے والوں اور ناقدین کو غدار قرار دیا ہے جو ان کی حکومت کا تختہ گرانے کی عالمی سازش کا حصہ ہیں۔ ابھی پچھلے ہفتے ایک سولہ سالہ لڑکے کو کرپشن کی نشاندہی پر گرفتار کیا گیا۔ منگل کے روز دو صحافیوں، صدف قباس اور مہمت برانسو، کو ان کی ٹویٹس پر حراست میں لیا گیا۔ میرا اخبار ”زمان“ اور میں خود اردگان کی طرف سے مخالفین کو نشانہ بنانے کے تازہ ترین شکار ہیں۔

حکومت کی نظر میں 14 دسمبر کو حراست میں لئے گئے صحافی، ٹی وی پروڈیوسر اور سکرین رائٹر، ”ایکریم دومانلی“ ایک مسلح دہشت گرد تنظیم کے ارکان ہیں، جو کہ ریاست کی خود مختاری کیلئے خطرہ ہے۔ پکڑے گئے ہتھیاروں، حملے کے منصوبوں یا صحافیوں کے بھیس میں خود کش حملہ آوروں کی تلاش مت کیجئے۔ ہمارا قصور یہ تھا کہ ہم ان حکومتی اقدامات کی خبر دے رہے تھے کہ جو ایک جمہوری ترکی کی بنیادوں کو کمزور کررہے ہیں۔ آج کے ترکی میں میڈیا جس طرح سے حکومت کے ماتحت ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ میڈیا کی اکثریت کو براہ راست کنٹرول کیا جاتا ہے جبکہ حکومتی سپروائزر تمام ادارتی مواد کی نگرانی کرتے ہیں۔ جو بھی مختلف راستہ اپنائے اسے ہراساں کیا جاتا ہے یا کام سے فارغ کردیا جاتا ہے۔ لیکن ایک آزادمیڈیا کے اراکین کے طور پر، یا یہ جتنا بھی آزاد رہ گیا ہے، ہم اپنا کام کررہے ہیں۔ اردگان کی حکومت میں غدار قرار دئیے جانے کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ آپ حکومتی کرپشن اور طاقت کے غلط استعمال کے خلاف بات کریں۔ اس سب کے باوجود میں ترکی کے بارے میں امید نہیں چھوڑوں گا۔

آخر کار یہ پہلا دھچکا تو نہیں ہے کہ جس سے قوم کو گزرنا پڑرہا ہے۔ ”زمان“ پر چھاپے کے بعد مقامی اور بین الاقوامی احتجاج نے مجھے اور پرامید کردیا ہے۔ میری حراست کے دوران ہی میری بیٹی دنیا میں آئی اور میری شریک حیات اور میں نے اس کا نام ”سعادت“ رکھا ہے، جس کا مطلب ”مسرت اور خوشی“ ہے۔ سعادت ترک جمہوریت کے روشن مستقبل پر ہمارے یقین کی علامت ہے۔ جب رات کی تاریکی گہری ترین ہوجائے تو طلوع سحر قریب ہی ہوتی ہے۔

(اکرم دمانلی ترکی کے اخبار 'ڈیلی زمان 'کے چیف ایڈیٹر ہیں )

مزید : انسانی حقوق