ابھی "چونکہ چنانچہ "کے کئی مراحل باقی ہیں 

ابھی "چونکہ چنانچہ "کے کئی مراحل باقی ہیں 
ابھی

  

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی طرف سے دائرحلقہ این اے 122سے منتخب ہونے والے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے خلاف انتخابی عذرداری پر مزید کارروائی 12جنوری کو ہورہی ہے ،امکان ہے اس روز لوکل کمیشن غلام حسین اعوان کی طرف سے پیش کی جانے والی سربمہررپورٹ کھولی جائے گی اور اس کی نقول بھی فریقین کے وکلاءکو فراہم کی جائیں گی ۔الیکشن ٹربیونل کے حکم پر انتخابی ریکارڈ کی ہونے والی جانچ پڑتال کے حوالے سے جو صورتحال سامنے آئی ہے اس کے مطابق ایاز صادق کے مجموعی ووٹوں میں دوبارہ گنتی کے دوران 134ووٹوں کا اضافہ ہوا ہے جبکہ 30ہزار کے قریب ایسی کاﺅنٹرفائلز ملی ہیں جن پر پریذائیڈنگ افسروں کے دستخط یا مہر موجود نہیں ۔عمران خان کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ یہ جعلی ووٹ ہیں جبکہ ایاز صادق کے نمائندے کہتے ہیں کہ دستخط اور مہر ثبت نہ کرنا انتخابی عملے کی غفلت اور بے ضابطگی ہے جس کا انتخاب کے نتیجہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔کیا عمران خان کا کیس ایاز صادق سے زیادہ مضبوط ہے اور یہ کہ کیا اس انتخابی عذر داری کے نتیجہ میں ایاز صادق نااہل ہوسکتے ہیں ؟اس انتخابی عذر داری کی کارروائی کی طرف پوری قوم کی نظریں لگی ہوئی ہیں ،اگر عمران خان کی طرف سے دائرایاز صادق کے خلاف یہ انتخابی عذر داری منظور ہوجاتی ہے تو اس سے عمران خان کے انتخابات میں دھاندلی سے متعلق موقف کو تقویت ملے گی اور اگر یہ انتخابی عذرداری مسترد ہوگئی تو صورتحال دوسری ہوگی ۔اس عذرداری پر الیکشن ٹربیونل کی کارروائی کے دوران کئی دلچسپ مرحلے آئے ۔اب بھی یہ کارروائی اس نہج پر ہے کہ فریقین اپنی اپنی کامیابی کے دعوے کررہے ہیں تاہم اس کا حتمی نتیجہ تو الیکشن ٹربیونل کے فیصلے سے ہی سامنے آئے گا۔
اس وقت تک صورتحال یہ ہے کہ عمران خان حلقہ این اے 122میںدھاندلی کے حوالے سے ایک بھی عینی شاہد پیش نہیں کرسکے ۔عمران خان نے اپنی انتخابی عذرداری کے ساتھ 42گواہوں کے بیان حلفی داخل کئے تھے ،ان بیانات کے حوالے سے بھی ایاز صادق کے وکلاءنے اعتراضات اٹھا رکھے ہیں کہ یہ قانون کے مطابق تصدیق شدہ نہیں ،دوسرا یہ کہ جس اوتھ کمشنر نے یہ بیان حلفی تصدیق کئے تھے وہ جعلی تھا اور اس کے جعل ساز ہونے کی تصدیق لاہور ہائی کورٹ بھی کرچکی ہے ۔عمران خان نے الیکشن ٹربیونل کے روبرو 6گواہوں کی شہادتیں قلمبند کروانے کے بعد دیگر 36گواہیاں ترک کردی تھیں ۔عمران خان نے جو 6گواہ پیش کئے تھے ان کا تعلق بھی ان پولنگ سٹیشنز سے نہیں تھا جن پردھاندلی ہونے کے الزامات عمران خان کی انتخابی عذرداری میں عائد کئے گئے ہیں ۔عمران خان خود بھی دھاندلی کے کسی واقعہ کے عینی شاہد نہیں ہیں جس کا اعتراف وہ جرح کے دوران کرچکے ہیں ۔جہاں تک کاﺅنٹر فائلز پر پریذائیڈنگ افسروں کے دستخط یا مہر موجود نہ ہونے کا تعلق ہے اسے دھاندلی ثابت کرنا بہت مشکل ہے ۔عوامی نمائندگی ایکٹ مجریہ 1976کے سیکشن 33میں ووٹ ڈالنے کا طریقہ کار دیا گیا ہے جس کے تحت پریذائیڈنگ ےا پولنگ افسرکو کاﺅنٹر فائل پر اپنے دستخط کرنے ،مہر ثبت کرنے ،ووٹر سے نشان انگوٹھا حاصل کرنے اور ووٹر کے شناختی کارڈ کا نمبردرج کرنے کے لئے کہا گیا ہے ۔اگر پریذائیڈنگ یا پولنگ افسر ایسا نہیں کرتا توکیا اس پولنگ سٹیشن کا انتخابی عمل غیر قانونی قرار پا کر کالعدم ہوجائے گا؟ اس کا جواب نفی میں ہے اور سپریم کورٹ 1999میں قرار دے چکی ہے کہ اس بے ضابطگی کی بناءپر انتخابی نتیجہ منسوخ یا تبدیل نہیں ہوسکتا ۔کاﺅنٹر فائل پر پریذائیڈنگ افسر کی مہر یا دستخطوں میں سے ایک چیز موجود ہو تو اسے ضابطے کی کارروائی مکمل ہونا تصور کیا جائے گا۔(ایس سی ایم آر 1999صفحہ 284) علاوہ ازیں ووٹوں کی گنتی کا طریقہ کار عوامی نمائندگی ایکٹ مجریہ 1976کے سیکشن 38میں دیا گیا ہے جس میں ووٹوں کی گنتی کے وقت کاﺅنٹر فائلز کا جائزہ لینا شامل نہیں ہے ۔باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ کاﺅنٹر فائلز پر دستخط اور مہر نہ ہونے کی جس طرح کی بے ضابطگی این اے 122میں سامنے آئی ہے اگر کسی بھی دوسرے حلقہ کے انتخابی ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی جائے تو وہاں بھی کسی نہ کسی طرح ایسی بے ضابطگی نظر آئے گی ۔ریکارڈ کی جانچ پڑتال سے یہ چیز بھی سامنے آئی ہے کہ جن کاﺅنٹرفائلز پر پریذائیڈنگ افسروں کی مہر اور دستخط موجودنہیں ہیں ان پر ووٹرز کے انگوٹھوں کے نشان اور شناختی کارڈ کے نمبر موجود ہیں جسے ضابطے کی کارروائی کی جزوی تکمیل تصور کیا جائے گاتاہم الیکشن ٹربیونل ضروری خیال کرے توکاﺅنٹر فائلز پر ووٹروں کے انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق کے لئے معاملہ نادرا کو بھی بھجواسکتا ہے ۔حلقہ این اے 122کے ریکارڈ سے اب تک کی اطلاعات کے مطابق ایسا کوئی بیلٹ پیپر نہیں نکلا جس پر پریذائیڈنگ افسر کی مہر موجود نہیں ہے اور یہ چیز ایاز صادق کے حق میں جاتی ہے ۔حلقہ این اے 122کا معاملہ ایک ٹیسٹ کیس بن چکا ہے جس کا نتیجہ ملک کی آئندہ سیاست پر زبردست اثرات مرتب کرے گا۔دونوں طرف سے بیان بازی کرکے الیکشن ٹربیونل پر بالواسطہ دباﺅ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے تاہم امید واثق ہے کہ الیکشن ٹربیونل ان بیانات سے کسی قسم کا اثر قبول نہیں کریں گے ۔عینی شاہدوں کو پیش کرنے میں ناکامی کا مطلب ہے کہ عمران خان سنی سنائی شہادتوں پر انحصار کررہے ہیں جن کی قانون میں کوئی حیثیت نہیں ہے ۔الیکشن ٹربیونل کے روبرو ایاز صادق کی طرف سے عمران خان کی انتخابی عذر داری پر اٹھائے گئے اعتراضات ابھی تک فیصلہ طلب ہیں جبکہ سپریم کورٹ قرار دے چکی ہے کہ مخالف فریق کے اعتراضات اور عدالتی دائرہ اختیار کا فیصلہ کئے بغیر دیگر معاملات پر حکم جاری نہیںکیا جاسکتا ،پہلے اعتراضات کا فیصلہ کرنا ضروری ہے ،(سپریم کورٹ منتھلی رویو 2014کا صفحہ 1015)۔اب تک کی صورتحال کا قانونی جائزہ لیا جائے تو بظاہر ایاز صادق کے خلاف انتخابی عذر داری بہت جاندار نہیں ہے تاہم اس انتخابی عذر داری کو چونکہ ایک ٹیسٹ کیس کی حیثیت حاصل ہوچکی ہے چنانچہ ٹربیونل کی کارروائی میں مزید قانونی موشگافیوں کا امکان ہے ۔

مزید : تجزیہ