خوبصورت‘ نظر آنے کی خواہشمند خواتین کے جسم میں نیم حکیم نے سیمنٹ بھردیا

خوبصورت‘ نظر آنے کی خواہشمند خواتین کے جسم میں نیم حکیم نے سیمنٹ بھردیا
خوبصورت‘ نظر آنے کی خواہشمند خواتین کے جسم میں نیم حکیم نے سیمنٹ بھردیا

  

لاس اینجلس (نیوز ڈیسک) خوبصورتی میں مصنوعی طریقوں سے اضافے کی کوششوں کے دوران اکثر خرابی واقع ہوجاتی ہے اور ایسا تجربہ کار پلاسٹک سرجنز سے سرجری کروانے والوں کے ساتھ بھی ہوجاتا ہے لیکن امریکا میں ایک جعلی پلاسٹک سرجن نے خواتین کو خوبصورت بنانا شروع کردیا جس کے نتائج بہت بھیانک نکلے۔

 تینتیس سالہ اونیل مورس ایک جاہل خواجہ سرا ہے لیکن اسے پلاسٹک سرجن بننے کا شوق کچھ زیادہ ہی تھا۔ اس نے انسانی صحت اور جان کی پرواہ کئے بغیر خود کو اصلی ڈاکٹر ظاہر کرکے خواتین کو خدمات فراہم کرنا شروع کردیں۔ اونیل کی بے حسی کا یہ عالم تھا کہ اس نے ریاست فلوریڈا کی 30 سے زائد خواتین کو ”حسین“ بنانے کے لئے ان کے جسم میں اپنے تیار کردہ انجکشن لگائے جن میں وہ سیمنٹ، گلو اور پنکچر لگانے والے محلول کا آمیزہ ڈالتا تھا۔

زندگی میں ناکامی کی اہم وجوہات سامنے آگئیں

اس کا شکار بننے والی خواتین قدرے سستے ڈاکٹر کے چکر میں اس کے پاس آتی رہیں۔ متعدد خواتین کے کولہے، رانوں،ِ چھاتیوں اور لبوں کو نمایاں کرنے کیلئے اس نے خطرناک آمیزے کو ان کے جسم میں داخل کیا جس کے نتیجے میں ایک خاتون ہلاک بھی ہوگئی۔ اونیل کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز ہوچکا ہے اور عدالت نے اس کی ضمانت کیلئے 40,000 ڈالر (تقریباً 40 لاکھ روپے) جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔ اونیل کے پاس مطلوبہ رقم نہیں ہے جس کی وجہ سے اسے مقدمے کی کارروائی کے دوران بھی جیل میں رہنا پڑے گا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس