2016ءشروع ہوتے ہی عرب ممالک میں ملازمت پیشہ افراد کیلئے انتہائی تشویشناک خبر آگئی، ماہرین نے واضح طور پر بتادیا

2016ءشروع ہوتے ہی عرب ممالک میں ملازمت پیشہ افراد کیلئے انتہائی تشویشناک خبر ...
2016ءشروع ہوتے ہی عرب ممالک میں ملازمت پیشہ افراد کیلئے انتہائی تشویشناک خبر آگئی، ماہرین نے واضح طور پر بتادیا

  

ابوظہبی (مانیٹرنگ ڈیسک) عرب ممالک میں کام کرنے والے غیر ملکیوں کے لئے نئے سال کے آغاز میں ہی ایک اور بری خبر آگئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ سال 2016ءتنخواہوں میں اضافے کے لحاظ سے اچھا ثابت نہیں ہو گا، جبکہ کمپنیاں نئے ملازمین کی بھرتی میں بھی کچھ خاص سرگرمی نہیں دکھائیں گی۔

نیوز سائٹ ’عریبین بزنس‘ کے مطابق ہیومن ریسورس کمپنی مرسر مڈل ایسٹ نے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں 1600 سے زائد کمپنیوں اور تقریباً اڑھائی لاکھ ملازمین کا سروے کیا، جس کی رپورٹ ’ٹوٹل ریمیونیریشن سروے‘ کے نام سے جاری کی گئی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات، قطر اور سعودی عرب سمیت متعدد عرب ممالک میں سال 2016ءکے دوران تنخواہوں میں اضافہ پچھلے کئی سال کی نسبت کم رہے گا۔ متحدہ عرب امارات اور قطر میں 2016ءکے دوران تنخواہوں میں اوسط اضافہ 4.9 فیصد متوقع ہے، جبکہ گزشتہ پانچ سال کے دوران یہ اضافہ اوسطاً 5فیصد رہا۔ اسی طرح سعودی عرب میں 2016ءکے دوران تنخواہوں میں اوسط اضافہ 5 فیصد متوقع ہے، جبکہ گزشتہ چند سال کے دوران یہ اوسط 6 فیصد رہی۔

مزید پڑھیں: تنقید کریں گے لیکن سعودی عرب کے دشمنوں کی خواہش پوری نہیں کرسکتے، کینیڈا نے بڑا اعلان کردیا

تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمت میں غیر معمولی کمی کی وجہ سے اکثر عرب ممالک اور خصوصاً سعودی عرب کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے جس کی وجہ سے حکومتی اخراجات بھی کم کئے جارہے ہیں جبکہ نئے منصوبوں کی تعداد میں بھی کمی آئی ہے۔ کمپنیاں بدلتے ہوئے معاشی حالات سے نمٹنے کے لئے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ پہلے کی نسبت محدود کررہی ہیں۔ 2014ءمیں کئے گئے سروے میں 71 فیصد کمپنیوں کا کہنا تھا کہ وہ 2015ءمیں مزید بھرتیاں کریں گی، لیکن جب یہی سوال ان کمپنیوں سے 2015ءمیں پوچھا گیا تو 57فیصد کا کہنا تھا کہ وہ نئے ملازمین کی بھرتی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تنخواہوں میں محدود اضافہ اور نئے ملازمین کی بھرتی میں واضح کمی وہ اہم عوامل ہیں جو ناصرف نئی ملازمت تلاش کرنے والوں کے لئے مشکلات کا باعث بنیں گے بلکہ ان کی وجہ سے پہلے سے برسر روزگار افراد کی مشکلات بھی بڑھیں گی۔

مزید :

بین الاقوامی -