بین الاقوامی صحافیوں کی ٹیم سعودی عرب میں شیخ نمر کے آبائی شہر پہنچ گئی، وہاں کیا دیکھا؟ انتہائی حیران کن کہانی بیان کردی

بین الاقوامی صحافیوں کی ٹیم سعودی عرب میں شیخ نمر کے آبائی شہر پہنچ گئی، وہاں ...
بین الاقوامی صحافیوں کی ٹیم سعودی عرب میں شیخ نمر کے آبائی شہر پہنچ گئی، وہاں کیا دیکھا؟ انتہائی حیران کن کہانی بیان کردی

  

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب میں شیعہ سکالر شیخ نمر النمر کی پھانسی کے بعد پہلی دفعہ کوئی غیر ملکی میڈیا ٹیم ان کے آبائی شہر جاپہنچی۔ امریکی ٹی وی ’سی این این‘ کے صحافی نک رابرٹسن کا کہنا ہے کہ انہوں نے جب شیخ نمر کے آبائی شہر عوامیہ جانے کی خواہش کا اظہار کیا تو ان کے سعودی میزبان حیران رہ گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامیہ ایسی جگہ ہرگز نہیں جہاں آپ شدید خطرہ مول لئے بغیر جاسکیں، مگر نک اور ان کی ٹیم کے اصرار پر بالآخر انہیں سخت سیکیورٹی کے حصار میں ایک بکتر بند گاڑی میں سوار کروا کے عوامیہ شہر کے لئے روانگی کی گئی۔ 

نک رابرٹسن کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ موجود پولیس کے کرنل نے بتایا کہ غیر ملکی میڈیا ٹیم کو اس شہر میں لانا بہت مشکل سے ممکن ہوا ہے، اور ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس شہر میں سیکیورٹی اہلکار ہر وقت حملوں کی زد میں رہتے ہیں۔ امریکی صحافی کا کہنا ہے کہ وہ جب عوامیہ پہنچے تو منظر کچھ مختلف نظر آیا۔ ان کے دورے کے دوران کوئی حملہ نہیں ہوا، بلکہ صورتحال یہ تھی کہ جب وہ واپس لوٹ رہے تھے تو ان کے ساتھ موجود پولیس افسر اصرار کررہے تھے کہ وہ یہاں کچھ وقت اور گزاریں، کیونکہ ابھی شہر کا اصل روپ سامنے نہیں آیا تھا۔ پولیس افسران کا کہنا تھا کہ محض اتفاق کی بات تھی کہ کوئی پرتشدد واقعہ پیش نہیں آیا تھا ورنہ اس شہر میں سکیورٹی اہلکاروں کا آنا اور امن کے ساتھ واپس جانا ممکن نہ تھا۔

صحافیوں نے پھانسی کی سزا پانے والے شیخ النمر کے بھائی سے بھی ملاقات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے شہر کا غلط تاثر پیش کیا گیا ہے۔ وہ صرف شہر میں داخل ہونے والی بکتر بند سیکیورٹی گاڑیوں پر ہی ناراض نہیں تھے بلکہ ان کا یہ شکوہ بھی تھا کہ ان کے بھائی کی لاش تاحال ان کے حوالے نہیں کی گئی۔

امریکی صحافیوں کو بتایا گیا کہ اس شہر میں آباد شیعہ برادری کا سعودی حکومت کے ساتھ جھگڑا 1996ءمیں شروع ہوا، جس کی بنیاد سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی ارامکو اور مقامی لوگوں کے درمیان زمین کا تنازعہ تھا۔ دوسری جانب حکومتی اہلکاروں نے 2006ءمیں لبنان میں حزب اللہ پر اسرائیل کے حملے اور عوامیہ میں حزب اللہ کی حمایت میں نکالے جانے والے جلوسوں کی طرف اشارہ کرتے ان واقعات کو مسائل کا آغاز بتایا۔ نک رابرٹسن کہتے ہیں کہ دونوں اطراف کا اپنا اپنا موقف ہے لیکن یہ شہر یقینا دیگر سعودی شہروں جیسا نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میڈیا ٹیم کی روانگی کے بعد شہر سے گولیوں اور دھماکوں کی آوازیں آنا شروع ہو گئیں، جو ظاہر کرتی تھیں کہ یہاں کچھ گھمبیر معاملات چل رہے ہیں، جو آنے والے دنوں میں مزید پریشانی کا باعث بن سکتے ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -