جولائی تادسمبر 2015؛ سیمنٹ کی فروخت 21-18ملین ٹن رہی

جولائی تادسمبر 2015؛ سیمنٹ کی فروخت 21-18ملین ٹن رہی

  

 کراچی (اکنامک رپورٹر) رواں مالی سال کے ابتدائی چھ مہینے میں سیمنٹ انڈسٹری کی مقامی فروخت میں بہتری رہی تاہم برآمدات کمی کا شکار رہیں اس طرح انڈسٹری کی مجموعی ترقی بھی متاثر ہوئی ہے۔ آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے ترجمان نے کہا کہ جولائی تا دسمبر سیمنٹ کی فروخت 18.21 ملین ٹن رہی جو گزشتہ برس سے 6.38 فیصد زیادہ ہے جبکہ گزشتہ برس اس عرصے میں سیمنٹ کی کھپت 17.12 ملین ٹن تھی۔ کھپت میں یہ اضافہ زیادہ تر مقامی سیمنٹ کی فروخت میں ہونے والے اضافے کی وجہ سے ہے جس میں 16.34 فیصد اضافہ ہوا اور یہ جولائی تا دسمبر 2015ء میں بڑھ کر 15.2 ملین ٹن اور گزشتہ برس جولائی تا دسمبر 2014ء میں 13.06 ملین ٹن تھی۔ تاہم اس دوران سیمنٹ کی برآمدات شدید متاثر رہیں جو گزشتہ برس جولائی تا دسمبر 2014ء کی 4.06 ملین ٹن سے 25.68 فیصد کم ہوکر 3.01 ملین ٹن رہ گئیں ۔فروخت کی مزید تفصیلات کے مطابق چھ ماہ یعنی جولائی تا دسمبر 2015ء میں ملک کے شمالی علاقوں میں قائم کارخانوں کی مقامی فروخت 15.32 فیصد اضافے کے ساتھ 12.63 ملین ٹن رہی جو گزشتہ برس جو لائی تا دسمبر 2014ء میں10.96 ملین ٹن تھی۔ ملک کے جنوبی علاقوں میں قائم سیمنٹ کے کارخانوں کی مقامی فروخت شمالی علاقوں کے کارخانوں سے زیادہ رہی ہے۔ان کارخانوں نے جولائی تا دسمبر 2015ء 21.63 فیصد اضافے کے ساتھ 2.56 ملین ٹن سیمنٹ مقامی مارکیٹ میں فروخت کی جو گزشتہ برس اسی مدت میں 2.10 ملین ٹن تھی۔ گزشتہ چھ ماہ میں برآمدات کے حوالے سے ملک کے شمالی علاقوں میں قائم سیمنٹ کے کارخانوں کی برآمدات 25.09 فیصد کمی کا شکار ہوئی ہیں اور1.9 ملین ٹن تک محدود رہیں جبکہ گزشتہ برس اسی مدت میں یہ برآمدات 2.54 ملین ٹن تھیں۔ اسی طرح ملک کے جنوبی علاقوں میں قائم کارخانوں کی برآمدات میں 26.67 فیصد کمی واقع ہوئی ہے اور برآمدات رواں مالی سال جولائی تا دسمبر میں کم ہوکر 1.11 ملین ٹن رہ گئیں جو گزشتہ برس اسی مدت میں 1.52 ملین ٹن تھیں۔رواں مالی سال دسمبر 2015ء میں سیمنٹ کی کھپت 3.44 ملین ٹن رہی جو گزشتہ برس دسمبر 2014ء میں 3.11 ملین ٹن تھی اس طرح اس ضمن میں 10.53 اضافہ ہوا۔دسمبر 2015ء میں سیمنٹ کی مقامی فروخت 2.98 ملین ٹن تھی۔

جو گزشتہ برس دسمبر 2014ء میں 2.5 ملین ٹن تھی اس طرح اس حوالے سے 19.28 فیصد اضافہ ہوا۔برآمدات میں 25.39 فیصد کمی ہوئی اوریہ سال 2014ء میں 610,000 ٹن اوردسمبر 2015-16ء میں کم ہو کر 455,000 ٹن ہوگئیں۔آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے ترجمان نے کہا کہ برآمدات کے ضمن میں حائل مشکلات اور رکاوٹوں کی طرف حکومت کی توجہ دلانے کے باوجود مسائل اب تک دور نہیں ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیمنٹ انڈسٹری نے متعدد بار حکومت کی توجہ ایران سے بلوچستان آنے والی انڈر انوائس سیمنٹ کی امپورٹ پر دلائی ہے۔ حکومت اس کی روک تھام کے لیے اقدامات کرے اور انڈر انوائس امپورٹ کی کڑی نگرانی کرے تاکہ ملک میں غیر قانونی اسمگلنگ کا سدباب کیا جاسکے۔حکومت کوئلے کی امپورٹ پر 20 فیصد اضافی ڈیوٹی عائد کرے تاکہ مقامی انڈسٹری کو تحفظ مل سکے۔ اسی طرح حکومت کو چاہیے کہ وہ جی آئی ڈی سی ختم کرے۔ کوئلے پر کسٹم ڈیوٹی ختم کی جائے اور سیمنٹ کی بحری راستے فروخت پر اضافی 5 فیصد رعایت دی جائے ان اقدامات سے مقامی سیمنٹ عالمی مارکیٹ میں مقابلہ کرسکے گی۔

مزید :

کامرس -