نئے عہد کا آغاز

نئے عہد کا آغاز
 نئے عہد کا آغاز

  

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویزخٹک نے پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبہ کے متعلق وفاقی وزیرمنصوبہ بندی کی وضاحت کو غیرتسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت سمیت خیبرپختونخوا کی تمام پارلیمانی جماعتوں میں اس منصوبہ کے حوالے سے وفاقی حکومت کے طرزعمل پر گہری تشویش پائی جاتی ہے،جبکہ وفاقی وزیراحسن اقبال اصرار کر رہے ہیں کہ روٹ تبدیلی محض پراپیگنڈہ ہے اور بعض عناصر پاک چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے غلط تاثر پیدا کر کے صوبہ اور وفاق کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں اور اس پراجیکٹ میں خیبرپختونخوا سے کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔ احسن اقبال نے اس حوالے سے پشاور میں ایک اجلاس میں خطابت کے کمالات بھی دکھائے۔ گھنٹوں بریفنگ دی مگر جناب پرویزخٹک نے ان کی کوئی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ بعض حلقوں میں اس اختلاف رائے سے خدشات پیدا ہو رہے ہیں کہ کہیں اقتصادی راہداری کے ساتھ بھی وہی سلوک نہ ہو جو اس سے قبل کالاباغ ڈیم کے منصوبے کے ساتھ ہو چکا ہے۔ نہ صرف کالاباغ ڈیم نہیں بنا بلکہ ایسا کوئی دوسرا منصوبہ بھی نہیں بنایا جا سکا، جس سے سندھ کے پانیوں سے بجلی پیدا کر کے وطن عزیز کے اندھیرے دور کئے جا سکتے۔ دریائے سندھ سے وہ پانی آج بھی بحیرہ عرب میں گرکر ضائع ہو رہا ہے، جس سے لاکھوں ایکڑ اراضی پر فصلیں کاشت کی جا سکتی تھیں اور قوم کی تقدیر تبدیل کی جا سکتی تھی۔ تاہم یہ امید کی جا سکتی ہے کہ اقتصادی راہداری کے منصوبے پر اختلاف رائے دور ہو گا اور اس سے پاکستان کے تمام صوبوں کو یکساں فائدہ ہو گا۔

چین نے اپنی فراست، تحمل، بردباری اور حکمت عملی سے ایسی کامیابی حاصل کی ہے، جس کے حصول کی خواہش میں سوویت یونین ٹکڑے ٹکڑے ہو گیاتھا۔ امید ہے کہ اگلے چند برسوں میں پاکستان میں اقتصادی راہداری کے لئے تعمیر کی گئی شاہراہوں پر وہ بڑی بڑی گاڑیاں رواں دواں نظر آئیں گی، جو چین سے درآمدات اور برآمدات کا مال لا یا لے جا رہی ہوں گی۔ گوادر کی بندرگاہ اس خطے کی تقدیر کو ایک نئے انداز سے بدلتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔دُنیا میں تیل کی ایک تہائی تجارت خلیج فارس سے ہوتی ہے ،جہاں آبنائے ہرمز سے جہاز گزر کر بحیرہ عرب میں داخل ہوتے ہیں اور پھر چین کے لئے وہ ساڑھے بارہ ہزارکلومیٹر کا طویل فاصلہ طے کرتے ہیں۔ اس میں انہیں اکثر ایک ماہ سے زیادہ عرصہ سفر میں گزارنا پڑتا ہے۔ آبنائے ملاکا سے ہوتے ہوئے یہ چین پہنچتے ہیں، مگر اقتصادی راہداری کی تعمیر کے بعد یہ آبنائے ہرمز سے نکلنے کے بعد چندکلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے گوادر پر لنگر اندازہوں گے، جہاں سے مال کو چند دنوں میں چین منتقل کر دیا جائے گا۔

چین کی تجارت کے حجم کوذہن میں رکھیں تو اس سے اسی سرگرمی کا اندازہ لگایا جا سکتاہے جو اس خطے کی صورت تبدیل کرنے والی ہے۔ چین پاکستان میں ہی نہیں بلکہ بھارت، افغانستان،بنگلہ دیش اور میانمار میں بھی تجارت کے لئے نئی شاہراہیں بنا رہا ہے۔ چین کے بھارت سے ملحقہ صوبوں کو بھارت، بنگلہ دیش اور میانمار کے ذریعے خلیج بنگال تک رسائی دینے کے لئے کام شروع ہو چکا ہے۔ چین جس انداز سے تجارتی مفادات کے حصول کے لئے سرگرم عمل ہے اس پر بھارت کو تشویش ضرور ہے، مگر وہاں اب چین کے ان منصوبوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے حکمت عملی تیارکی جا رہی ہے اور اس ساری صورت حال سے یہ خوشگوار نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اب یہ خطہ پائیدار امن کے قیام کی طرف بڑھے گا۔ پاک چین اقتصادی راہداری ایک ایسا تاریخ ساز منصوبہ ہے، جو اس خطے سے جنگ اور دہشت گردی کے خطرات کم کر دے گا۔

مورخین کا خیال ہے کہ انگریزوں کے جس فیصلے نے ہندوستان کی تہذیب اور تمدن پر سب سے گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کئے وہ 1835ء میں انگریزی زبان کی تعلیم کے لئے سرکاری فنڈز مختص کرنے کا فیصلہ تھا۔ برصغیر میں انگریزی زبان کے فروغ سے نہ صرف یہاں کے عوام نئے علوم اور طرز زندگی سے متعارف ہوئے، بلکہ قبائلی طرز زندگی اور جاگیردارانہ نظام حیات کو بھی نئے تجربات سے واسطہ پڑا۔ مغربی تعلیم پر یہ بجا اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس نے برصغیر کی اخلاقی زندگی پر کچھ اچھے اثرات مرتب نہیں کئے، مگراس امر سے انکارکرنابھی ممکن نہیں ہے کہ انگریزی زبان برصغیر میں ایک بڑی تبدیلی لے کر آئی۔ 1835ء سے پہلے ہی ہندوؤں نے اس زبان کو سیکھنا شروع کر دیا تھا۔ مسلمان اس زبان کو پسند نہیں کرتے تھے۔ وہ ماضی میں رہ کر عروج کے خواب دیکھ رہے تھے۔ یوں ایک طرح انگریزی ہندوؤں کے ہاتھوں ایک نیا ہتھیار تھی، جس کے ذریعے وہ نہ صرف ترقی کر سکتے تھے، بلکہ مسلمانوں پر غلبہ بھی حاصل کر سکتے تھے۔ انگریزوں نے برصغیر میں ووٹ کے ذریعے حکمرانی کرنے کے نظریئے کو بھی متعارف کرایا، جن راہنماؤں کابرطانیہ کے طرززندگی سے واسطہ پڑا تھا انہوں نے دیکھا کہ اقتدار کی تبدیلی کا جو کام صدیوں سے برصغیر میں جنگ اور انتشار کے ذریعے کیا جاتا ہے وہی کام انگریز ووٹ کے ذریعے کر لیتے ہیں۔ انگریزوں نے ہی ہندوؤں کو برصغیر پر حکمرانی کا خواب دکھایا، کیونکہ ان پر یہ واضح ہو گیا کہ اکثریت کے پاس اقتدار کا حق ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا طرز فکر تھا، جس کا اس سے قبل ہندوؤں نے تجربہ نہیں کیا تھا۔ وہ ماضی میں اکثریت میں ہونے کے باوجود مسلمانوں کے اقتدار کو قائم رکھنے کے لئے بھرپور کردار ادا کرتے رہے تھے۔ جہاں بہت سے مسلمان لیڈر ماضی میں سوچ رہے تھے وہاں ہندو مستقبل کو دیکھ رہا تھا اور اس کے نوجوان درسگاہوں میں انگریزی تعلیم حاصل کر رہے تھے اور اس کی سیاسی پارٹی سیاست کے ذریعے اپنا مقام بنانے میں سرگرم عمل تھی۔

برصغیر کی سیاست امریکہ، برطانیہ، افغانستان، ایران اور وسطی ایشیا کے ممالک سے متاثر ہوتی رہی ہے۔ چینیوں نے ایک بڑی طاقت ہونے کے باوجود اپنے ہمسایوں کے معاملات میں عدم مداخلت کی پالیسی پر عمل کیا ہے۔ افغانستان، ایران اور وسطی ایشیا کے نام برصغیر میں بھی ملتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو یہ بیان کی جاتی ہے کہ برصغیر میں جب کوئی شخص مسلمان ہوتا تھا تو وہ اپنا نام ضرور تبدیل کرتا، جبکہ دُنیا کے بہت سے ممالک میں ایسا نہیں ہوا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ افغانستان اور وسطی ایشیا سے تعلق رکھنے والے حکمرانوں کو اپنی مذہبی شناخت سے آگاہ کر کے اپنے لئے مراعات حاصل کرتا تھا۔ اسی طرح افغانستان کے علاقوں اور شہروں کے نام بھی اجنبی نہیں ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ کے برصغیر کی شناخت پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ نیویارک اور لندن میں جانے والے کو اس اجنبیت کا احساس نہیں ہوتا،جس کا تجربہ اسے چینی زبان اور ناموں سے ہوتاہے۔ اقتصادی راہداری کے آپریشنل ہونے سے چینیوں کی آمدورفت میں غیر معمولی اضافہ ہو جائے گا اور پاکستانی بھی بڑی تعداد میں چین کا سفر کریں گے۔ یوں پاک چین اقتصادی راہداری معاشی انقلاب ہی لے کر نہیں آ رہی ہے، بلکہ اس سے چین کے ساتھ پاکستان کے قریبی ثقافتی اور تمدنی تعلقات بھی قائم ہوں گے، جس سے اس خطے کی معاشی اور معاشرتی صورت حال میں بڑی تبدیلیاں آئیں گی۔ تاریخ کے اس نئے عہد کے آغاز پر ہم اختلافات کو ہوا دینے کی بجائے اتفاق کی شاہراہ پر چل کر ہی دورجدید کے تقاضوں کو پورا کرسکتے ہیں۔

مزید :

کالم -