ہم پرائی آگ سے اپنا گھر نہیں جلا سکتے

ہم پرائی آگ سے اپنا گھر نہیں جلا سکتے
 ہم پرائی آگ سے اپنا گھر نہیں جلا سکتے

  

کیا ہم سب کو راضی رکھ سکتے ہیں؟۔۔۔ یہ سوال مجھے آج کل کے حالات دیکھ کر بار بار کچوکے لگا رہا ہے۔ کہیں اس سوال کا جواب ڈھونڈتے ڈھونڈتے ہم بہت دور نہ نکل جائیں۔ مَیں دیکھ رہا تھا کہ پہلی بار ہم نے بھارت کو پٹھانکوٹ حملے کی تحقیقات میں مکمل تعاون کی پیشکش کی ہے، ساتھ ہی اس کی طرف سے اس حملے کے جو شواہد فراہم کئے گئے ہیں، ان کا جائزہ لینے کی یقین دہانی بھی کرا دی ہے۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ یہ پیشکش صرف سیاسی قیادت ہی نہیں، عسکری قیادت نے بھی کی ہے، یوں ہم نے بھارت کو ہر قیمت پر راضی رکھنے اور مذاکرات کا عمل سبوتاژ نہ ہونے دینے کی عملاً پیش رفت کی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیابھارت ہماری اس پُر خلوص پیشکش کو قبول کرے گا یا پھر وہی دھمکیوں کا سلسلہ شروع ہو جائے گا ،جو ہمیشہ سے بھارتی قیادت کا وطیرہ رہا ہے؟ ہم نے تو کھلے دل سے یہ کہہ دیا ہے کہ پاکستان کی سرزمین کسی بھی صورت میں ہمسایہ ممالک کے خلاف دہشت گردی کے لئے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، کیا بھارت بھی اسی قسم کی یقین دہانی کرائے گا؟کیا بلوچستان، سندھ اور پنجاب کے اندر اس کی مداخلت ’’را‘‘ کی سازشوں اور دہشت گردوں کو تربیت دینے کے جو شواہدگاہے بہ گاہے سامنے آتے ہیں، بھارت اُن پر توجہ دے گا؟ کہیں پٹھانکوٹ کا یہ واقعہ خود ’’را‘‘ کے ذہن کی اختراع تو نہیں تاکہ خارجہ سیکرٹریوں کے جو مذاکرات ہونے جا رہے ہیں، اُن میں صرف دہشت گردی کو ایجنڈے میں شامل کیا جائے اور کشمیر و دیگر مسائل ،جن میں پانی کا مسئلہ بہت اہم ہے، پس پشت ڈال دیئے جائیں۔ ہم نے ہر ایک کو راضی رکھنے کی پالیسی تو اختیار کر لی ہے، کیا یہ پالیسی ہمارے مفاد میں بہترثابت ہو گی یا دوسرے فائدہ اُٹھا جائیں گے،

ہم نے اپنی اسی ’’راضی رکھ‘‘ پالیسی کے تحت افغانستان کو ہمیشہ یقین دلایا کہ اُس کے استحکام و سلامتی کے لئے پاکستان اس کے ساتھ ہے، مگر حامد کرزئی سے لے کر اشرف غنی تک سبھی افغان رہنماؤں نے پاکستان پر دخل اندازی اور دہشت گردوں کو سپورٹ فراہم کرنے کے الزامات لگائے۔ بار بار کی یقین دہانیوں کے باوجود یہ سلسلہ ابھی تک نہیں رکا۔ حالت اس کے برعکس یہ ہے کہ افغانستان سے طالبان پاکستان میں دہشت گردی کر رہے ہیں۔ وہ پاکستان سے اٹھ کر افغانستان چلے جاتے ہیں اور موقع ملتے ہی پاکستان میں آ جاتے ہیں۔ آپریشن ضربِ عضب شروع ہوا تو فوج کے سخت اقدامات کی و جہ سے طالبان کے گرد گھیرا تنگ ہوا، وہ افغانستان چلے گئے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ افغانستان کی حکومت ان کے خلاف اسی طرح کا آپریشن کرتی، جس طرح کا پاکستان میں ہو رہا ہے، مگر اس کی بجائے افغانستان میں ہونے والی ہر دہشت گردی کا الزام پاکستان پر دھرنے کی روش برقرار رکھی گئی۔ یوں لگتا ہے کہ سارے جہاں کا درد ہم نے ہی پال رکھا ہے۔ ہم ہی ہر الزام کے روا دار ہیں اور ہم نے اس کا داغ بھی دھونا ہے۔ بعض اوقات ہماری معذرت خواہی اور راضی رکھنے کی یہ پالیسی ہمارے قومی وقار کو نقصان پہنچانے کی سطح تک پہنچ جاتی ہے۔ بلاثبوت اور بلا جواز جب پاکستان پر مختلف الزامات لگائے جاتے ہیں تو ان کا مُنہ توڑ جواب ہی اصل علاج ہے، مگر ہم معذرت خواہی کے درجے پر آ کر اس طرح وضاحتیں کرنے لگتے ہیں، جیسے ایک کمزور اور بے وسیلہ شخص کرتا ہے۔

پٹھان کوٹ پر حالیہ حملے کے بعد اگلے ہی لمحے بھارت کے میڈیا اور سیکیورٹی اداروں نے پاکستان کو اس میں ملوث کر دیا تھا۔ ہماری وزارتِ خارجہ چپ سادھے یہ سب سنتی رہی، وہ تو داد ملنی چاہئے پاکستانی میڈیا کو جس نے بھارت کی حواس باختگی کا بھانڈا پھوڑا، اُس کی فوج کے ناقص آپریشن کی نشاندہی کی اور سب سے بڑھ کر اُن تضادات کو ظاہر کیا، جو بھارتی سیکیورٹی اداروں کے سربراہوں کے مؤقف میں سامنے آئے تھے۔۔۔اب ہمیں اپنی اس سب کو راضی رکھنے کی پالیسی کا ایک اور کڑا امتحان درپیش ہے۔ سعودی عرب اور ایران میں جو شدید کشیدگی پیدا ہوئی ہے ، وہ ہمارے لئے مشکلات کا ایک ایسا سلسلہ لائی ہے کہ جس کا کوئی اختتام ہی دکھائی نہیں دیتا، حال ہی میں سعودی عرب کے وزیر خارجہ پاکستان آئے تو سیدھے جی ایچ کیو گئے، جہاں انہوں نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی۔ اس سے اُن کے دورے کا مقصد واضح ہو گیا کہ وہ 34ممالک کے اتحاد میں پاکستان کی عسکری شمولیت چاہتے ہیں، مگر لگتا یہی ہے کہ انہیں اس حوالے سے غیر مشروط آمادگی کا پروانہ نہیں ملا، بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ حرمین شریفین کو خطرات لاحق ہوئے تو پاکستان سعودی عرب کا دفاع کرے گا،تاہم حقائق سب کو معلوم ہیں کہ سعودی عرب کے حکمرانوں کو ذاتی خطرات بھی لاحق ہیں اور حال ہی میں جن47افرادکے سر قلم کئے گئے ہیں، اُن میں بیشتر سعودی حکمران خاندان کے خلاف بغاوت میں ملوث تھے۔

جس شیعہ عالم کا سر قلم کیا گیا اور جس کی وجہ سے سعودی عرب اور ایران کے تعلقات پوائنٹ آف نو ریٹرن تک پہنچ گئے ،وہ بھی سعودی عرب میں جمہوریت لانے کی راہ ہموار کر رہے تھے، جو بادشاہت کے خلاف ایک بغاوت تصور کی جاتی ہے۔ مشرق وسطیٰ اس وقت آتش فشاں پہاڑ کی مانند ہے، جہاں کسی وقت بھی کوئی لاواپھوٹ سکتا ہے۔ شام اور یمن کی صورت حال نے علاقے کو خانہ جنگی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ داعش کے بڑھتے ہوئے اثرات پورے خطے کے امن کو تہہ و بالا کرنے کے در پے ہیں۔ایسے میں اس کا اصل علاج تو یہ ہے کہ عالم اسلام متحد ہو جائے اور اُسے کمزور کرنے کی سازشوں کا مل کر مقابلہ کرے، لیکن اس کی بجائے محاذ آرائی کو مزید ہوا دی جا رہی ہے۔ خاص طور پر سعودی عرب ایران تنازعے نے شدید خطرات پیدا کر دیئے ہیں، اگر دونوں ممالک کی قیادت نے ہوش اور دانشمندی سے کام نہ لیا تو بہت کچھ تباہ ہو جائے گا۔ المیہ یہ ہے کہ اس وقت عالم اسلام میں کوئی شاہ فیصل نظر آتا ہے اور نہ ذوالفقار علی بھٹو ، جو اس منتشر طاقت کو یکجا کر سکے۔ او آئی سی عضوِ معطل بن کر رہ گئی ہے اور اُس میں اتنا دم خم نہیں کہ سعودی عرب اور ایران کے تنازعے کو حل کرا دے، عملاً عالمی طاقتیں عالم اسلام کی قسمت کا فیصلہ کررہی ہیں اور اُن کا فیصلہ کبھی بھی مسلمانوں کے حق میں نہیں ہو سکتا۔

اس صورت حال میں ہمارا کردار کیا ہونا چاہئے؟ یہ بہت اہم سوال ہے۔ مَیں سمجھتا ہوں یہاں ہمیں سب کو راضی رکھنے کی اپنی پالیسی پر سختی سے عمل کرنا چاہئے۔ سعودی عرب و ایران دونوں ہی ہمارے لئے بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ ان دونوں کے تنازع پر ہمارا صرف ثالث کا کردار بنتا ہے، ہم کسی فریق کی طرف اپنا جھکاؤ ظاہر نہیں کر سکتے۔اس کی وجہ صرف یہی نہیں کہ سعودی عرب ہمارا برادر دوست مُلک ہے اور ایران ہمارا قریبی ہمسایہ ، جس کے ساتھ ہمارے اچھے تعلقات ہیں، بلکہ اس کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں جو فرقہ وارانہ ہم آہنگی ہے اور جس طرح شیعہ ، سنی آپس میں بھائیوں کی طرح رہتے ہیں، اگر ہم اس تنازع میں اپنے آپ کو متوازن نہیں رکھتے، تو ہمارا اندرونی توازن بھی خراب ہو جائے گا۔ ہمارا کردار صرف یہی ہے کہ ہم ہمت کر کے دونوں ممالک کو یہ باور کرائیں کہ اپنے اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کریں اور مشرق وسطیٰ کی صورت حال میں مثبت کردار ادا کرنے کوشش کریں تاکہ تیسرا فریق فائدہ نہ اُٹھا سکے۔ سعودی قیادت کو یہ شبہ ہے کہ ایران بادشاہت کے خلاف سازشیں کر رہا ہے اور شام کے شیعہ باغیوں کو اسلحہ اور مالی امداد دے رہا ہے،جبکہ ایران نے کبھی اس الزام کو تسلیم نہیں کیا۔ اسلامی ممالک کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ امریکہ یا اُس کے اتحادیوں کی طرف سے کبھی اس مسئلے کو حل کرانے کی کوشش نہیں کی جائے گی، کیونکہ عالم اسلام کا انتشار اُن کا ہمیشہ مقصد رہا ہے،البتہ روس اس بارے میں ایک جاندار کردار ادا کر سکتا ہے، اگر صدر پیوٹن سے باقاعدہ اس کی درخواست کی جائے ۔۔۔تاہم بنیادی طور پر ان اختلافات کو ختم کرنے کی ذمہ داری اسلامی ممالک کے سربراہوں پر عائد ہوتی ہے۔ پاکستان یقیناًایک اہم اسلامی مُلک ہے اور اسلامی دُنیا کی نظریں اُس پر لگی ہوئی ہیں، لیکن یہ کوئی آسان کام نہیں، اس راستے پر ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا پڑے گا، مگر بنیادی بات وہی ہے کہ ہم اپنا وزن کسی ایک فریق کے پلڑے میں نہیں ڈال سکتے،ہمیں خود کو ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر اپنا تشخص برقرار رکھنا چاہئے، کیونکہ ہم دوسروں کی آگ کا رُخ اپنے گھر کی طرف نہیں کر سکتے۔

مزید :

کالم -