کنگرُوز کا ملک

کنگرُوز کا ملک
 کنگرُوز کا ملک

  

آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ دو ایسے ملک ہیں جو تمام دنیا سے الگ تھلگ ہو کر اپنے ہی حال میں مست ہیں۔ میَں 30 سال سے سفر گردی کر رہا ہوں ،لیکن آسٹریلیا دیکھنے کا کبھی بھی خیال نہ آیا ۔ میرے خیال میں بہت کم لوگ ہونگے جو آسٹریلیا صرف سیر کے لئے آتے ہونگے ۔ زیادہ تر ضرورت مند ہی آتے ہیں۔ تارکینِ وطن جو آسٹریلیا میں آکر بس گئے ہیں اُن کو ہم ٹورسٹ تو نہیں کہہ سکتے ۔چونکہ میری چھوٹی بیٹی اپنے شوہر اور بچی کے ساتھ آکر آسٹریلیا میں بس گئی ہے۔ اس لئے مجھے بھی یہاں ضرورتاً آنا پڑا یعنی بیٹی کو ملنے کے لئے ۔اس لحاظ سے میَں اور میری اہلیہ ٹورسٹ نہیں کہلا سکتے۔

آسٹریلیا ٹور سٹوں کا ملک ابھی تک نہیں بن سکا۔ اس کی پہلی وجہ ہی یہ ہے کہ یہ ملک دنیا کے الگ کونے میں واقع ہے۔ براعظم ایشیا ،یورپ اور افریقہ آپس میں کسی نہ کسی مواصلات کے ذریعے سے زمانہِ قدیم سے ہی جڑے ہوئے ہیں۔ نہرِ سوئز کو پار کرکے آپ ایشیاء سے افریقہ میں داخل ہو سکتے ہیں۔ آبنائے جبرالٹر جو صرف 9 میل کشادہ ہے ، کو پار کر کے ہم یورپ سے افریقہ جا سکتے ہیں۔ براعظم امریکہ اور یورپ کے درمیان 4000 میل چوڑا بحرِ اوقیانوس حائل ہونے کے باوجود، امریکہ تمام دنیا کے لئے اس لئے دلچسپی کا باعث ہے کیونکہ یہ براعظم جدید علوم کا گہو ارہ ہے، اس ملک کا ڈالر دنیا کی بین الاقوامی کرنسی سمجھا جاتا ہے، ترقی پذیر ممالک کے طالبِ علم اور عسکری افراد جدید تربیت کے حصول کے لئے یہاں آتے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ نے تمام دنیا کے مقابلے میں بہت زیادہ اور دلچسپ ٹورسٹ Attractions بنائی ہوئی ہیں۔ اِن وجوہات کی بنا پر امریکہ کی سیر کرنے والوں کی تعداد دوسرے ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ آسٹریلیا میں ایشیاء ، یورپ اور امریکہ جیسی طرح طرح کی دلچسپیاں سیاحوں کو لبھانے کے لئے چونکہ نہیں ہیں، اس لئے یہ ملک مقابلتاً " خشک" ہے۔ پاکستان سے آسٹریلیا جانے کے لئے کم از کم 14 گھنٹے کا ہوائی سفر درکار ہے۔ چونکہ پی آئی اے کی براہِ راست سروس برائے آسٹریلیا ختم کی جا چکی ہے، اس لئے ہمیں مجبوراً براستہ مشرقِ بعید کسی ملک یا براستہ دبئی جانا پڑتا ہے۔ آج کل تو صرف تھائی لینڈ سے ہوتے ہوئے 14 گھنٹے کے طویل سفر کے بعد سڈنی جایا جایا سکتا ہے، کیونکہ پاکستان میں صرف تھائی ائیر کا ہی جہاز آتا ہے۔ جو پہلے لاہور سے بنکاک 4 گھنٹے میں پہنچاتا ہے۔ بنکاک میں 3 گھنٹے اِنتظار کے بعد ساڑھے نو گھنٹے میں سڈنی پہنچا جاتا ہے۔

ڈھائی کروڑ کی آبادی کا یہ ملک کسی قسم کے بین الاقوامی سیاسی پھڈے میں شامل نہیں ہے۔ آسٹریلیا چونکہ بنیادی طور پر برطانیہ کا دُم چھلاّ ہے اس لئے اس کی خارجہ پالیسی کے خد و خال لندن کی 10 ڈاؤننگ سٹریٹ سے ہی متاثر ہیں۔ اس ملک کی اِقتصادکی بنیاد زراعت، کانکنی ، ڈیری فارمز اور میرینو(Marino) اُون کی برآمد پر ہے۔ دنیا کے بڑے صنعتی ممالک میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ حالانکہ یہاں کوئی خاطر خواہ مینوفیکچرنگ صنعت نہیں ہے۔ آسٹریلیا آج سے ڈھائی سو سال پہلے ایک غیر آباد سا برِاعظم تھا ، جہاں نہ قدیم تہذیبوں کا اور نہ ہی روائتی اہم مذاہب کا اثر تھا۔ برطانیہ بطور سامراجی طاقت کے دنیا کے نقشے پر آ چکا تھا۔ ہندوستان سے شروع ہو کرشنگھائی تک کے سمندروں پر برطانیہ کی حکمرانی تھی۔ اسی حکمرانی کے دوران برطانیہ نے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی طرف بھی رُخ کیا۔ اُس وقت برطانیہ کو آسٹریلیا کی غیر آباد اور ریگستانی سر زمین میں کوئی خاص کشش نظر نہیں آئی۔ برطانیہ کے آنے سے پہلے عرب ملاح ظہورِ اسلام سے پہلے آسٹریلیا کا چکر لگا چکے تھے، لیکن اس بے آب و گیاہ سر زمین کا کوئی مصرف نہ پا کر اس براعظم پر مستقل پڑاؤ نہیں ڈالا۔ یورپ کے دیگر سامراجی ممالک کے سمندری جہاز بھی آسٹریلیا کے ساحلوں کو چھو چکے تھے۔ خاص طور پر ڈچ جہازراں 1660ء سے آسٹریلیا کے چکر لگا چکے تھے ، لیکن وہ بھی یہاں کوئی پُر کشش حالات نہ پا کر، اس عظیم جزیرہ نما براعظم کو چھوڑ کر اِنڈونیشیا کو آئندہ 300 سال کے لئے اپنی کالونی بنانے کی جہد میں لگے رہے ۔ یہ تو برطانیہ تھا جس کو آسٹریلیا کا اُس وقت صرف ایک ہی مصرف نظر آیا۔ برطانیہ نے اپنے ہم وطن گورے مجرُموں کے لئے آسٹریلیا کے جنوب مغربی علاقے کو " کالا پانی " بنا دیا۔ یہ علاقہ اَب نیو ساؤتھ ویلز کہلاتا ہے۔ برطانیہ کی برسٹل بندرگاہ سے برطانوی سزایافتہ مجرم سڈنی کی بندر گاہ پر اُتارے جاتے تھے اور اُ نکی زندگی کا بقیہ حصہ اسی کالے پانی میں گذرتا تھا۔ اَب تو آسٹریلیا ایک ترقی یافتہ ملک ہے ،لیکن 1780 میں جب پہلا برطانوی جہاز مجرموں کو لے کر پہنچا تھا اُس وقت آسٹریلیا میں جنگلی درندوں کے علاوہ ایک بالکل ہی منفرد نسل کا چوپایہ پایا جاتا تھا۔ آج بھی آسٹریلیا میں نظر آتا ہے، کنگرو(Kangroo) ہرن کی شکل والا ایسا چوپایہ ہے جو دراصل اپنی پچھلی دوٹانگوں پر ہی چلتا اور دوڑتا ہے۔ یہ جانور صرف آسٹریلیا میں ہی ملتا ہے اسی لئے وہ یہاں کا قومی جانور کہلایا جاتا ہے۔ آسٹریلیا کے اصل باشندے جنہیں Aborogins کہا جاتا ہے، یہاں کم از کم ساٹھ، ستر ہزار سال سے آباد ہیں۔

Aborogin کسی نسل یا قبیلے کا نام نہیں ہے، بلکہ کسی مخصوص علاقے کے اصل باشندوں کو بھی یہ نام دیا جا سکتا ہے۔ آسٹریلیا کے اصل باشندوں کی آبادی اَب صرف 6 لاکھ کے قریب رہ گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں کے باشندوں کی شکلیں اور جسم کی ساخت ایشیائی اور افریقی باشندوں سے مختلف بنائی ہے۔ چونکہ 70 - 60 ہزار سال پہلے یہ لوگ کشتیوں میں بیٹھ کر افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیاء سے آئے تھے اس لئے دونوں براعظموں کی آمیزش سے بالکل مختلف شکلوں والے آسٹریلیائی باشندے ہمیں نظر آتے ہیں۔ جنوب مشرقی ایشیا ئی باشندوں کے نقش ملائی (Malay) نسل سے ہیں۔ گندمی رنگ، سنگل پسلی کا بدن، چھوٹا قد، گال کی ہڈی اُبھری ہوئی اور چپٹی ناک، جیسے برما، انڈونیشیا، فلپائن، ملیشیاء اور تھائی لینڈ کے باشندوں کا قد کاٹھ اور نقش و نگار ہوتے ہیں جب کہ افریقی باشندے سیاہ فام، ڈبل جُثہ ، طویل قامت،گھنگریالے بال، موٹے ہونٹ اور گال کی ابھری ہوئی ہڈی کے حامل ہوتے ہیں۔ اِن دو نسلوں کی طویل Cross Breeding کی وجہ سے آسٹریلیائی اصل باشندے اپنی مخصوص شکل و صورت یعنی پھیلی ہوئی ناک ، سیاہ رنگ ، سُنہری بال ، چھوٹی ٹانگیں، گول مٹول اور بڑا سا دھڑ۔ آہستہ آہستہ یہ نسل ختم ہورہی ہے۔ آسٹریلوی حکومت نے امریکہ کے ریڈ اِنڈین باشندوں کی طرح محفوظ آبادیاں (Reservations) یہاں کے باشندوں کے لئے بھی بنائی ہیں۔ آسٹریلیا کے بڑے شہروں میں سڈنی اور میلبورن کا شمار ہوتا ہے اور دونوں ہی آسٹریلیا کے جنوبی کنارے پربحرالکاہل میں واقع ہیں، یعنی پاکستان سے بذریعہ ہوائی جہاز اگر آیا جائے تو بحرِ ہند کو مکمل پار کرنے کے بعد ، ہوائی جہاز آسٹریلیا میں شمال کی طرف سے داخل ہو کر 5 گھنٹے تک مزید اُڑتا رہے تو سڈنی پہنچا جا سکتا ہے۔ آسٹریلیا کے شمال میں ڈارون شہر ہے جو بحر ہند کے کنارے واقع ہے۔ سڈنی سے ایشیا کے نزدیک ترین ملک سنگاپور جانے کے لئے 9 گھنٹے کا ہوائی سفر درکار ہے ،جبکہ ڈارون سے یہی فاصلہ ساڑھے 3 گھنٹے میں طے ہو جاتا ہے۔ یہ سب بتانے کا مقصد یہ ہے کہ آسٹریلیا کی سر زمین کے پھیلاؤ کا اندازہ ہو سکے۔ ڈارون شہر کی ڈیڑھ لاکھ آبادی میں کوئی بھی پاکستانی یا ہندستانی نہیں ملے گا۔ یہاں زیادہ تر گوری نسل یا مقامی نسل کے لوگ ہیں۔ ہندوستان اور چین کے لئے کوئلے کی برآمد ڈارون کی بندر گاہ سے ہوتی ہے۔ کوئلہ اور یورینیم آسٹریلیا کی اہم اور وافر معدیات ہیں جن کا بڑا خریدار چین اور ہندوستان ہیں۔ پرتھ شہر آسٹریلیا کے مغرب میں سڈنی سے 2000 میل دور بحرِ ہند پر واقع ہے۔ آسٹریلیا کا یہ چوتھا اہم شہر ہے، یہاں کی آبادی صرف 20 لاکھ کے قریب ہے جن میں مسلمانوں کی تعداد پچاس ہزار ہے۔

آسٹریلیا میں مکانات زیادہ تر سنگل سٹوری ہوتے ہیں۔ یہاں یورپ اور امریکہ کی طرح سنگل سٹوری مکانوں میں (Basement) کا رواج نہیں ہے۔ ایک عجیب اور دلچسپ چیز آسٹریلیا کے پرانے مکانوں میں یہ ملے گی کہ مکان کے پلاٹ کا سائز خواہ ایک ایکٹر ہو ،لیکن اُس میں مکین (Residential) رقبہ دو ہزار مربع فٹ سے زیادہ نہیں ہوگا ۔ برطانیہ کی طرح چھوٹے چھوٹے رہائشی کمرے ہونگے ۔ مکان میں اگر چار بیڈ رومز بھی ہیں تو ٹوائلٹ صرف ایک ہی ہوگا اور وہ بھی ہمارے پاکستانی پُرانے مکانوں کی طرح باہر صحن کی طرف بنا ہوا ہو گا۔ یعنی آج سے 90 - 80 سال پہلے کے مکانوں میں ملحقہ باتھ روم کا رواج نہیں تھا۔ دس منزلہ اور اس سے بھی زیادہ اپارٹمنٹ بنانے کا رواج ابھی پچھلے 40 - 30 سال سے بڑے شہروں میں ہی آیا ہے ۔ دراصل روز گار کے زیادہ مواقع سڈنی اور میلبورن میں ہی میّسر ہیں۔ اسی وجہ سے اَن شہروں کی آبادی میں پھیلاؤ آیا۔ دوسرے ممالک سے آئے ہوئے آباد کار بھی اِن ہی شہروں میں زیادہ آئے، اس لئے اِن شہروں کے وسط کے قریب اراضی مہنگی ہوتی گئی، جس کی وجہ سے ھائی رائز(High Rise) بلڈنگز کی ضروت محسوس ہوئی ۔ ہمارے ہاں پنجاب کے بڑے شہروں کی پلاننگ ناقص رہی۔ لاہور کو ہی دیکھ لیں۔ مال روڈ کے 5 کلو میٹر کے قطر میں جتنی بھی رہائشی سکمیں تعمیر ہوئیں وہ بڑے بڑے پلاٹوں پر بنائی گئیں اور یوں لاہور شہر کو دُور دُور تک پھیلا دیا گیا۔ جس کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کے مسائل پیدا ہوئے اور لاہور کے اِردگرد جو سبزہ پھیلا ہوا تھا وہ ہاؤسنگ سکیموں نے نگل لیا۔ آسٹریلیا اِتنا وسیع و عریض ملک ہونے کے باوجود، بڑے شہروں میں رہائش کے لئے اپارٹمنٹس کے سسٹم کو رائج کیا گیا۔

آسٹریلیا مہنگا ملک ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ اس ملک کے رقبے کے لحاظ سے آبادی بہت ہی کم ہے۔صرف ڈھائی کروڑ۔ مینوفیکچرنگ اِنڈسٹری نہ ہونے کے برابر ہے اس لئے بے کاری بھی زیادہ ہے۔ نئے آباد کار بڑے شہروں کا رُخ کرتے ہیں جہاں صرف Service Industry کی ملازمتیں مل سکتی ہیں۔۔۔ امریکہ اور یورپ کی طرح بڑی مالز میں فوڈ کورٹ (Food Courts) ہوتے ہیں۔ آپ کسی بھی ریسٹیورنٹ سے زیادہ آزادی سے پوچھ سکتے ہیں کہ اُن کے کھانے میں حلال گوشت استعمال ہوا ہے یا نہیں۔ کیفے کا ملازم نہ صرف سچ سچ بتا دے گا ،بلکہ یہ سوال پوچھنے پر ناگواری کا اِظہار بھی نہیں کرے گا ،جبکہ یورپ اور امریکہ میں ناگواری کا اِظہار ہوتا ہے۔ آسٹریلیا کی حکومت نے دانستہ نائٹ لائف کو بڑا محدود کیا ہوا ہے۔ بازار صبح 8 بجے کھُل جاتے ہیں اور شام 5 بجے بند ہو جاتے ہیں۔ گرمیوں میں آسٹریلیا میں مغرب 8 بجے کے بعد ہوتی ہے جب کہ تمام مالز اور دوکانیں 5 بجے بند ہو جاتے ہیں۔ آسٹریلیا کے یہ اوقاتِ کار ظاہرہ طور پر بڑے بیزار کُن سے نظر آتے ہیں۔ یعنی تمام مالز، دکانیں، دفاتر اور ہر قسم کا کاروبار صبح ٹھیک 8 بجے شروع ہو جاتا ہے، جبکہ ہم پاکستان میں دن کے 11 بجے کاروبار شروع کرتے ہیں ۔ سورج کی روشنی کے 3 گھنٹے ضائع کر دیتے ہیں۔ 24 گھنٹے کُھلی رہنے والی دوکانیں ہر Sub-Division (محلے) میں ہوتی ہیں۔ دراصل آسٹریلیا میں خوشگوار گھر یلو زندگی (Family life) پر زیادہ زور ہے۔ ہر فرد اپنے گھر 6 بجے شام تک پہنچ جائے اور اپنا وقت اہلِ خانہ ، اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کے ساتھ گذارے۔ حکومت کی طرف سے وقت گذاری کے لئے ہر کمیونٹی میں فیملیز کلب ہوتے ہیں جہاں بچوں، بوڑھوں اور خواتین کے لئے ہر قسم کی In-door اور Out_door تفریح مہیا ہوتی ہے۔ ممبر شپ برائے نام فیس دے کر حاصل کی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں کی طرح نہیں کہ کلبوں کی ممبر شپ لاکھوں روپے کی ادائیگی کے بعد ملتی ہے اور وہ بھی سالہا سال اِنتظار کرنے کے بعدپکنک سپاٹ دریاؤں کے کناروں پر، باغات اور پارکس میں، سمندر کے کناروں پر قریباً مفت مہیا کئے گئے ہیں، تاکہ بہت سے ہمسائے مل کر تفریح منائیں۔

مزید :

کالم -