اربوں روپے کی کرپشن پر کارروائیاں

اربوں روپے کی کرپشن پر کارروائیاں

  

نیب نے اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے لئے زیر التوا شکایات کا بکس کھول لیا اور عوام ششدر ہیں کہ یکایک یہ کیا ہو رہا ہے کہ ہر معاملے میں کروڑوں نہیں،اربوں کی کرپشن نظر آتی ہے۔ حال ہی میں نیب نے ڈی ایچ اے سٹی لاہور کے حوالے سے کارروائی شروع کی اور ایک ملزم حماد ارشد کو گرفتار کر لیا، جبکہ نیب سابق چیف آف آرمی سٹاف کے بھائی کامران کیانی کو بھی پوچھ گچھ کے لئے تلاش کر رہا ہے، ایک اور خبر ہے کہ اوگرا میں بھی قریباً23ارب کی کرپشن کا معاملہ نیب کے پاس ہے۔ یہ سب جو اب باہر آ رہا ہے اور نیب نے کارروائیاں شروع کی ہیں۔ یہ سب تازہ ترین تو نہیں یہ تو ماضی کا قصہ ہے، یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ پہلے کیوں کارروائی نہیں کی گئی اور اب کیوں ہو رہی ہے؟حالات تو یہ ہیں کہ کرپشن نے معاشرے کو کھوکھلا اور مُلک کی اقتصادیات کو نقصان پہنچایا ہے تو اس کی وجہ یہی ہے کہ کرپٹ عناصر کے خلاف قانونی کارروائی نہیں ہوئی اور نیب کو بھی انتقامی کارروائی کے لئے استعمال کیا گیا،اب نیب کے سربراہ نے حالات کو سنبھالنے کی کوشش کی تو سارے ریفرنس پرانے ہی سامنے آ رہے ہیں، اللہ کرے یہ پھر امتیازی سلوک کا شکار نہ ہوں۔ کرپشن کے خلاف کارروائی سے سب خوش ہوتے ہیں، لیکن یہ سب کے لئے ہو تو زیادہ پذیرائی حاصل کرے گی کہ کوئی بھی مقدس گائے نہ ہو۔

گدھے،گھوڑوں کا گوشت اور حرام چربی!

دو مختلف خبروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں منافع کمانے کی غرض سے اصول تو اصول دینی روایات اور احکام بھی نظر انداز کر دیئے جاتے ہیں، قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران بڑی دلچسپ صورت حال پیدا ہوئی، جب سرکاری طور پر بتایا گیا کہ گزشتہ تین سال کے دوران پاکستان سے بیرون مُلک گدھوں کی قریباً دو لاکھ اور گھوڑوں کی قریباً سات ہزار کھالیں برآمد کی گئیں۔ اس پر ضمنی سوال پوچھا گیا کہ گوشت کہاں گیا یہ سوال اس لئے بھی پوچھا گیا کہ کچھ عرصہ قبل ایسی خبریں شائع ہو چکیں، جن کے مطابق گدھے کا گوشت ہوٹلوں کو سپلائی کیا گیا اور یوں یہ حرام گوشت لوگوں کو کھلا دیا گیا۔ تاہم اب قومی اسمبلی میں جو جواب دیئے گئے ان سے بات گدھوں سے چل کر گھوڑوں تک پہنچ گئی اور یہ بہت ہی افسوسناک بھی ہے۔ایک اور خبر کے مطابق لاہور میں سات ایسی فیکٹریوں پر چھاپہ مار کر ان کو سربمہر کیا گیا جو مردہ جانوروں کی چربی نکال کر استعمال کے قابل بنا رہے تھے۔ شبہ ظاہر کیا گیا کہ ان کا گھی بنایا جاتا ہے فیکٹری مالکان نے اعتراف تو کیا تاہم یہ کہا کہ چربی صابن بنانے میں استعمال ہوتی ہے۔

اب اگر دونوں خبروں کو پڑھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس مُلک کے مسلمان ہی صریحاً دینی اقدار کو پس پشت ڈال کر حرام جانوروں کے گوشت،کھالوں اور چربی کا غیر شرعی استعمال کر رہے ہیں جو غیر صحت مند بھی ہے۔ یہ تو حال میں انتظامیہ کی توجہ کے باعث علم ہو گیا ورنہ معلوم نہیں کتنے عرصے سے یہ کام ہو رہا اور جاری ہے، جہاں تک مردہ جانوروں کی چربی کے استعمال کا جو جواز پیش کیا گیا وہ بھی ناقابلِ قبول ہے۔ اگر مردہ جانور کا گوشت استعمال نہیں ہو سکتا تو چربی کیسے حلال ہو گئی،اب یہ سوال ہے کہ اگر مردہ جانوروں کی چربی سے بنے صابن سے نہایا یا کپڑے دھوئے جائیں تو اس سے پاکیزگی ہو گی؟ایسے دھندے منافع کی غرض سے کئے جاتے ہیں اور ایسے ہی لوگوں کے لئے کہا گیا کہ شرمائیںیہود، جس مغربی دُنیا کو گالی دی جاتی ہے وہاں کم از کم یہ تو نہیں ہوتا، بلکہ ہر شے کے اجزاء دیانتداری سے لکھے جاتے ہیں، جس کے بعد استعمال خریدار کی مرضی پر منحصر ہے۔ہمارے مُلک میں قوانین اور قاعدے موجود ہے، مگر ان پر عمل نہیں ہوتا اور نہ ہی ہماری انتظامی مشینری ایسے قوانین کی پابندی کراتی ہیں، بہتر عمل تو پھر سے قوانین کا جائزہ لے کر ان پر عمل کے لئے اہلکاروں کو فرائض سونپنا ہے تاکہ شہری ایسے حضرات کی خباثتوں سے محفوظ رہ سکیں۔

مزید :

اداریہ -