اقتصادی راہداری پر تنازعے کو بڑھانے سے گریز کریں

اقتصادی راہداری پر تنازعے کو بڑھانے سے گریز کریں

  

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے چیئرمین سینیٹر داؤد خان اچکزئی نے پاک چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے منعقدہ قائمہ کمیٹی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس فوری طور پر طلب کیا جائے، صوبہ خیبرپختونخوا اور سندھ کے وزارئے اعلیٰ اجلاس کے لئے قرارداد جمع کرائیں۔ وزیراعظم جو مواصلات کے انچارج بھی ہیں پارلیمینٹ کو بریفنگ دے کر ابہام دور کریں۔ چیئرمین نے کہا پاک چین اقتصادی راہداری اقتصادی ٹھیکیداری بن چکی ہے، جس کی وجہ سے پوری قوم میں تشویش پائی جاتی ہے،کم ترقی یافتہ اور پسماندہ علاقوں کی ترقی اور مُلک کی خوشحالی کی ضمانت راہداری کو متنازعہ بنانے والے حکومتی عہدیداروں کی وجہ سے ابہام پیدا ہو رہا ہے۔ شاہراؤں اور سڑکوں کو اکٹھا کر کے راہداری کا نام دیا جا رہا ہے اور قوم کو انڈسٹریل زونز، توانائی اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں کے بارے میں آگاہی نہیں، وزیراعظم کی خصوصی کمیٹی برائے مغربی روٹ کو صوبہ بلوچستان اور صوبہ خیبرپختونخوا میں انڈسٹریل زونز کی نشاندہی اور زمین کے حصول کے لئے فنڈز فراہم نہیں کئے جا رہے اور دوسری طرف مشرقی روٹ پر سیالکوٹ ،لودھراں میں اربوں روپے کے منصوبوں کی شاہراؤں کے افتتاح کئے جا رہے ہیں۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات احسن اقبال نے کہا ہے کہ اقتصادی راہداری کو متنازعہ بنانا ملکی ترقی و خوشحالی کے خلاف سازش ہو گی۔17ہزار میگاواٹ بجلی کے منصوبوں میں چار ہزار میگاواٹ منصوبے بلوچستان کے لئے ہیں، وفاقی حکومت وفاق اور مُلک کو مضبوط بنانے پر یقین رکھتی ہے، تمام صوبوں کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ مشرقی روٹ کو کسی صورت مغربی روٹ سے زیادہ ترقی نہیں دی جا سکتی،جتنی ترجیح مشرقی روٹ کو دی جائے گی اتنی ہی مغربی روٹ کو دی جائے گی۔ ہم مساویانہ ترقی پر یقین رکھتے ہیں اس وقت تک پاکستان کا نقشہ خوشنما نظر نہیں آ سکتا، جب تک اس کی تمام اکائیوں اور علاقوں میں سے غربت، پسماندگی اور بے روز گاری کے دھبے ختم نہیں کر دئے جاتے، راہداری کا فائدہ کسی ایک صوبے یا جماعت کونہیں پورے پاکستان کو ہو گا۔ انہوں نے کہا ایک صوبے کے صنعتی زونز دوسرے کو منتقل کرنے کا تاثر غلط ہے۔

ویسے تو پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے ایک نہیں یکے بعد دیگرے دو آل پارٹیز کانفرنسیں ( اے پی سیز) منعقد ہو چکی ہیں۔ اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی خان نے وزیراعظم سے ملاقات بھی کر لی تھی اور بظاہر وہ بھی مطمئن ہو گئے تھے۔اب وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے بیان کے بعد یکایک پھر سے ایک تنازعہ شروع ہو گیا ہے اور ایک ناخوشگوار بحث چل نکلی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے ایک ملٹی پارٹی کانفرنس بھی منعقد کر دی ہے، جس میں انہوں نے مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل کرنے پر زور دیا ہے۔ بعض جماعتوں نے دھرنے بھی شروع کر دئے اور احتجاجی سیاست کی باتیں ہونے لگی ہیں اِس لئے یہ بہت ضروری ہے کہ تمام جماعتیں مل کر تمام معاملات پر از سر نو غور کریں اور بہتر یہ ہے کہ جو امور طے ہو جائیں اُن کو تحریری طور پر ریکارڈ کا حصہ بنا دیا جائے تاکہ فریقین بعد میں اپنی زبانی کہی گئی باتوں کی من مانی تشریحات نہ کر سکیں اور جو امور طے ہو جائیں اُن پر پوری طرح عملدرآمد کیا جائے، اب کہا یہ جا رہا ہے کہ اس سے پہلے جو باتیں اے پی سی میں طے ہوئی تھیں اُن سے انحراف کیا جا رہا ہے، جبکہ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ مشرقی روٹ کو مغربی روٹ پر ترجیح نہیں دی جا رہی اور راہداری کے منصوبے کو صوبوں کے نقطہ نظر سے نہیں، وفاق اور مُلک کے حوالے سے سوچا جا رہا ہے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ صوبوں کے حقوق کے تازہ تازہ چمپئنوں کو احسن اقبال کی یہ بات متاثر نہیں کر سکی اور نہ وہ اُسے ماننے کے لئے تیار ہیں اس لئے بہتر یہی ہے کہ مواصلات کی قائمہ کمیٹی کی تجویز پر مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ہی بُلایا جائے اور وہاں اس پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جائے،مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس طلب کرنے کے لئے کمیٹی نے خیبرپختونخوا اور سندھ کے وزرائے اعلیٰ کو قرار دا د لانے کے لئے کہا ہے۔

یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں ہمارا رویہ ہمیشہ مناظرانہ ہو جاتا ہے اور اس بحث مباحثے میں ترقیاتی منصوبہ ہی غتر بود ہوکر رہ جاتا ہے جیسا کہ کالا باغ ڈیم کے معاملے پر ہوا، کہا جاتا ہے کہ جتنی آئیڈیل جگہ کالا باغ ڈیم بنانے کے لئے میسر ہے شاید ہی اتنی اچھی جگہ دُنیا میں کسی دوسرے مقام پر ہو اور پاکستان میں تو بالکل نہیں، لیکن بدقسمتی سے ہم نے اس اچھے منصوبے کو کج بحثیوں کی نذر کر دیا اور اب اقتصادی راہداری کے ساتھ بھی یہی سلوک کرنے چلے ہیں۔ اِس سلسلے میں یہ بات خصوصی طور پر پیش نظر رکھنے والی ہے کہ اس کے لئے تمام کے تمام فنڈز چین سے قرضوں کی صورت میں حاصل ہونے ہیں۔اگر اس بحث مباحثے کا کوئی غلط نتیجہ نکل آیا تو اس کا کون ذمہ دار ہو گا؟اِس لئے یہ ضروری ہے کہ اگر پرویز خٹک اے پی سی سے مطمئن ہوتے ہیں تو اِس کا اہتمام کر کے ان کی تسلی کر دی جائے اور اگر مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلانے سے بلوچستان مطمئن ہوتا ہے تو اجلاس بُلا کر معاملہ طے کر لیا جائے تاکہ یہ خواہ مخواہ کا مناقشہ ختم ہو۔

ایک اطلاع کے مطابق خیبرپختونخوا کی حکومت نے وفاقی حکومت کو اس سلسلے میں جو خط لکھا تھا اس کا جواب بھیج دیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ راہداری کا ایک کوریڈور اور تین روٹ ہوں گے، حویلیاں میں ڈرائی پورٹ اور سنٹرل کارگو سنٹر قائم ہو گا۔ راہداری کا مشرقی روٹ پشاور، کراچی موٹروے کا حصہ ہو گا۔ راہداری منصوبے میں400میگاواٹ کے دو منصوبے شامل ہیں۔ ایل این جی پراجیکٹ کی فی الحال منظوری نہیں ہوئی، نئے صنعتی زونز کا حتمی فیصلہ جوائنٹ ورکنگ گروپ کرے گا،اب یہ خط کس حد تک صوبائی حکومت کو مطمئن کرتا ہے یہ تو وزیراعلیٰ پرویز خٹک ہی بتا سکتے ہیں، لیکن وفاقی حکومت کا فرض ہے کہ اُن کے اطمینان کے مطابق اقدامات کرے تاکہ منصوبے پر یکسوئی سے کام شروع ہو سکے،مولانا فضل الرحمن کی ملٹی پارٹی کانفرنس نے بھی مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے پر زور دیا ہے اس مطالبے پر بھی توجہ کی جا سکتی ہے۔

ایک اخباری اطلاع کے مطابق راہداری منصوبے کو متنازعہ بنانے کے لئے دشمن قوتیں بھی سرگرم عمل ہو گئی ہیں۔ یہ بات تو ریکارڈ پر آ چکی ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے چینی صدر شی چن پنگ سے ملاقات کر کے اس منصوبے پر اپنے تحفظات ظاہر کئے تھے اور پاکستان کے ساتھ بھی اس سلسلے میں رابطہ کیا تھا۔اب عین ممکن ہے کہ اس میں ناکامی کے بعد انہوں نے منصوبے کو متنازعہ بنانے کا راستہ اختیار کیا ہو۔ یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ یہ اطلاع کس حد تک درست ہے تاہم اگر ایسا ہوا تو یہ بہت ہی بدقسمتی کی بات ہو گی۔اِس لئے ضرورت اِس امر کی ہے کہ وزیراعظم اس تنازعے کو ختم کرنے کے لئے خود کردار ادا کریں۔

مزید :

اداریہ -