حکومت کی معاشی پالیسی نے برآمدات اور معیشت کا بیڑہ غرق کردیا ‘ کاٹی

حکومت کی معاشی پالیسی نے برآمدات اور معیشت کا بیڑہ غرق کردیا ‘ کاٹی

  

کراچی (اکنامک رپورٹر)کورنگی ایسوسی ایشن ٹریڈ اینڈ انڈسٹری(کاٹی) کے سابق چیئرمین اور ممتاز صنعت کار شیخ منظر عالم نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کی معاشی پالیسی نے برآمدات اور معیشت کا بیڑہ غرق کردیا ہے ۔منفی پالیسی کے باعث پاکستانی کرنسی کی قدر مسلسل گررہی ہے ۔حکومت کی جانب سے متعارف کردہ رضاکارانہ ٹیکس اسکیم سے ملک کے ٹیکس کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا بلکہ اس اسکیم سے ایمانداری سے ٹیکس دینے والے صنعت کارو تاجروں کی حوصلہ شکنی ہوگی ۔جمعہ کو اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان نے ملک میں ٹیکسوں کی رضاکارانہ ادائیگی کی اسکیم کا اعلان کیا جس میں انہوں نے بظاہر ان تاجروں و صنعتکاروں کو ایک موقع دیا ہے کہ وہ اپنی چور دروازے سے کمائی ہوئی دولت کو ایک فیصد ٹیکس ادا کرکر ٹیکس نیٹ میں شامل ہوجائیں لیکن یہ کوئی نئی یا انوکھی اسکیم نہیں ہے اس سے پہلے بھی اس طرح کی کئی اسکیم کو مختلف ادوار میں تین بار متعارف کرایاجاچکا ہے مگر اب اس کو عالمی بینک کے فرمانبردار وزیرخزانہ نے عالمی بینک کے کہنے پر اس کا نام تبدیل کرکے ایمنسٹی اسکیم کردیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ میاں برادران جو خود بھی ایک بڑے صنعتکارو تاجر ہیں ۔ ان کے اپنے دور حکومت میں نجکاری کے نام پرقومی اثاثوں کو کوڑیوں کے مول بیچنے اور چور دروازوں سے اربوں روپے کمائے گئے۔انہوں نے کہا کہ اس قسم کی اسکیموں سے ملک کے ٹیکس کے دائرہ کار کو بڑھانے میں نہ پہلے کوئی مدد ملی ہے اور نہ اب کسی قسم کی کوئی مدد ملے گی۔بلکہ اس سے ان تمام صنعتکاروں و تاجروں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے جو اپنا ٹیکس ایمانداری سے ادا ررہے ہوتے ہیں اور اس سے یہ سوچ بھی پروان چڑھتی ہے کہ ایمانداری سے ٹیکس ادا کرنے کا ان کوکیا فائدہ ہورہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پورے ملک کا نظام جدید طرز پر کمپیوٹرائزڈ ہوچکا ہے اور کسی بھی فرد کے شناختی کارڈ سے اس کے تمام بینک اکاؤنٹس کا پتہ چلایا جاسکتا ہے توپھر ٹیکس کا دائرہ کار بڑھانے میں کیا چیز روکاوٹ بنی ہوئی ہے اور پھر اس طرح کی اسکیموں کا جواز بھی نہیں بنتا۔

انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کہتے ہیں کہ ہم نے اس اسکیم سے ممبران قومی اسمبلی، ممبران صوبائی اسمبلی اورسینیٹرز کو خارج کردیا ہے جبکہ وہ پہلے کہتے تھے کہ " میں نے اپنے بیٹوں کو ہدایت کردی ہے کہ جب تک میں وزیر خزانہ ہوں اس وقت تک پاکستان میں کوئی کاروبار نہ کرنا" مگر محترم وزیر خزانہ کے بیٹوں کا گذشتہ پندرہ بیس سالوں سے پاکستان میں کوئی کاروبار ہی نہیں ہے تووہ کیا پاکستان میں کوئی کاروبار کریں گے حتیٰ کہ ان کی تو تمام نجی و خاندانی تقریبات بھی بیرون ملک منعقد ہوتی ہیں تو انہوں نے پہلے کوئی کاروبار پاکستان میں کیا ہے جو اب کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ اس قسم کی اسکیموں سے صرف اسمگلروں اور بے ایمان تاجروں وصنعتکاروں کو تو فائدہ حاصل ہوسکتا ہے مگر ایماندار و دیانتدار کاروبار کرنے والوں کی صرف حوصلہ شکنی ہوتی ہے ۔ اسی لئے اس قسم کی اسکیمیں ملک کی معیشت کے لئے زہر قاتل ثابت ہوتی ہیں ۔

مزید :

کامرس -