سوائن فلو کے مزید 18مریض سامنے آگئے ، شہری خوفزدہ

سوائن فلو کے مزید 18مریض سامنے آگئے ، شہری خوفزدہ

  

 لاہور(لیاقت کھرل) سوائن فلو جیسے وبائی مرض نے شہر کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کردیا ہے جو کہ ڈینگی سے زیادہ خطرناک مرض بتایاگیا گیا ہے اور سوائن فلو کے مرض میں مبتلا ہونے والے مزید 18 کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ رواں ماہ میں پورے پنجاب کے ہسپتالوں میں اب تک مجموعی طور پر 27 کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں جس پر شہر اور گردونواح کے علاقوں میں خوف و ہراس پھیل کر رہ گیا ہے اور شہر بھر کے ہسپتالوں میں سوائن فلو کے مرض میں مبتلا مریضوں کے علاج و معالجہ کے لئے الگ وارڈز نہ ہونے پر شہری ہسپتالوں میں دربدر کی ٹھوکریں کھانے لگے ہیں، جبکہ سرکاری ہسپتالوں میں اس جان لیوا مرض کے علاج کے لئے ڈاکٹروں کے پاس حفاظتی کٹس نہ ہونے پر بھی مسائل نے مزید جنم لے رکھا ہے جس پر اس جان لیوا مرض میں مبتلا مریضوں نے پرائیویٹ ہسپتالوں کا رخ کرنا شروع کر رکھا ہے اور سرکاری ہسپتالوں میں سہولتوں کا فقدان پر شدید احتجاج کیا ہے۔ اس جان لیوا مرض کے بارے ماہر ترین ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ مرض سور کے جراثیم پھیلنے سے لگتا ہے اور بالخصوص ان ممالک میں یہ مرض تیزی سے پھیلتا ہے جن ممالک میں ور کا کاروبار کیا جاتا ہے۔ اس مرض کی علامتیں اس جان لیوا مرض سوائن فلو کے اثرات میں پہلے کھانسی، بخار، سینے میں درد ہوتا ہے اور انسان کے جسم میں درد ہونا شروع ہو جاتا ہے اور اس طرح یہ مرض انسان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے اور اس کی علامتیں ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ اس میں خطرناک بات یہ ہے کہ اگر کوئی مریض پہلے سے بیمار ہو، اسے بخار ہو یا کسی اور مرض میں مبتلا ہو تو اس شخص کی اس مرض میں مبتلا ہونے پر ہلاکت بھی ہو سکتی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد اشفاق نے شہریوں کو اپنی رائے میں اس بات کا مشورہ دیا ہے کہ اس مرض کے وائرس کے اثرات کا علم ہونے پر فوری طورپر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے جبکہ پروفیسر ڈاکٹر سعید احمد کھوکھر اور پروفیسر ڈاکٹر محمد ناصر رانا نے کہا کہ چونکہ اس مرض کے وائرس کا زیادہ تر ان ممالک یا علاقوں میں پھیلنے کا خدشہ ہوتا ہے جہاں سور کا کاروبار کیاجاتا ہے یا ان علاقوں میں سور کے جراثیم پائے جاتے ہیں۔الحمد اللہ ہمارے ملک میں اس جان لیوا مرض کے وائرس نہیں ہیں تاہم پہاڑی اور جنگلات والے علاقوں میں سور پائے جاتے ہیں اور ان علاقوں میں اس وائرس کے جراثیم بھی پائے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر بشیر احمد چودھری نے اپنی رائے میں کہا کہ اس کا علاج بھی ایک قسم کا ڈینگی کے مرض کی طرح ہوتا ہے۔ اس کے لئے الگ وارڈز اور پوائنٹس بنائے جاتے ہیں تاہم فی الحال ایسی کوئی صورتحال نہیں جبکہ محکمہ صحت ترجمان کا کہنا ہے کہ لاہور میں اس جان لیوا مرض کے وائرس موجودنہیں اور نہ ہی اب تک کوئی کیس سامنے آیا ہے۔ اس سلسلہ میں محض افواہیں ہیں۔ یاد رہے کہ چند سال قبل بھی اس جان لیوا مرض کے اثرات پھیلے تھے جس سے لاہور اور گردونواح کے علاقوں سمیت پنجاب بھر اور پورے ملک میں خوف پھیل گیا تھا۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -