اہلسنت والجماعت نے نیشنل ایکشن پلان کا دائرہ کار وسیع کرنے کا مطالبہ کر دیا

اہلسنت والجماعت نے نیشنل ایکشن پلان کا دائرہ کار وسیع کرنے کا مطالبہ کر دیا

  

لاہور(نمائندہ خصوصی)اہلسنت والجماعت کے سربراہ علامہ محمد احمدلدھیانوی نے نیشنل ایکشن پلان کا دائرہ کار وسیع کرنے کا مطالبہ کردیا،ایران ،عراق اور شام میں جانے والے زائرین کا ریکارڈ جمع کرکے شامل تفتیش کیا جائے،عراق ،شام کی جنگ شیعہ سنی کے نام پر لڑی جارہی ہے اس میں پاکستانی افراد کا شریک ہونایا مارا جانا تشویش ناک ہے،نیشنل ایکشن پلان کی اختتامیہ مدت تک زائرین پر زیارت کے لیے جانے پر پابندی عائد کی جائے،قانون نافذ کرنے والے اداروں کی رپورٹس کے مطابق زیارت کے لیے جانے والے افراد کو دہشت گردی کی تربیت دی جاتی ہے،لاہور ،اسلام آباد اور کراچی میں باقاعدہ تشہیری مہم کے ذریعے ماہانہ تنخواہوں پر نوجوانوں کو عراق اورشام میں جنگ کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے،عراق اور شام میں مارے جانے والے پاکستانی افراد کے لیے ایران کی حکومت نے ماہانہ وظائف کا اجراء کیا ،ایسے افراد کے خلاف کاروائی کا نہ ہونا دہشت گردوں کا حوصلہ بڑھانے والی بات ہے،علامہ احمد لدھیانوی نے مزید کہاکہ جنگ و جدل کسی مسئلہ کا حل نہیں ،تاہم جو افراد سعودیہ اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے پر زور دے رہے ہیں انہیں یہ بات یادرکھنی چاہیے کہ سعودی عرب کے خلاف ایرانی جارحیت کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے،حج کے دوران بھی سینکڑوں حاجیوں کی شہادتوں میں بھی سازش کی گئی تھی،ثالثی کے بجائے غلطی کی نشاندیہی کی جانی چاہیے،اس وقت وطن عزیز میں امن کے لیے ضر ب عضب اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل کیا جارہاہے ۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -