شکریہ راحیل شریف

شکریہ راحیل شریف
 شکریہ راحیل شریف

  

دوستوں نے اتنی مرتبہ شکریہ راحیل شریف کہا کہ اب جہاں شکریہ راحیل شریف کہنا ہو ، وہاں بھی کہنے والے جھجک جاتے ہیں۔ بی بی سی نے مگر واقعی زیادتی کی، جس نے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی جانب سے ڈرون طیاروں کے حملوں بارے میں ایک رپورٹ میں یہ تو بتادیا کہ 2015 میں پاکستان میں گذشتہ آٹھ برس کے مقابلے میں سب سے کم ڈرون حملے ہوئے مگر اس رپورٹ میں اس اہم شخصیت کا شکریہ ہی ادانہیں کیا جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کی انتہائی پیشہ وارانہ انداز میں قیادت کررہی ہے۔ ’سیریس نوٹ‘ سے ہٹتے ہوئے شکریہ تو ہمارے وزیراعظم نوازشریف اور ان کے لاڈلے وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان کابھی ادا نہیں ہوا، جو نجانے خود پر کتنا جبر کرنے کے بعد دہشت گردوں سے مذاکرات کی پالیسی سے دستبردار ہوئے تھے۔ مجھے اپنے چودھری صاب کا روتا ہوا لہجہ آج بھی یاد ہے جس میں انہوں نے امریکی ڈرون حملے میں مارے جانے والے حکیم اللہ محسود کی ہلاکت پر کہا تھاکہ ’یہ امن مذاکرات پر ڈرون مارا گیا ہے‘۔ شکریہ تو عمران خان ، مولانا فضل الرحمان اور سید منور حسن جیسے ’’عظیم دانشوروں ‘‘کا بھی ادا نہیں کیا گیا جو القاعدہ اور طالبان کے اسلام کو دفتر اوراسلام آباد کو رستہ تک دینے کے لئے بے چین تھے۔ بیورو آف انویسٹی گیٹو جرنلزم کی جمعے کو جاری ہونے والی سالانہ ڈرون رپورٹ کے مطابق گذشتہ برس پاکستان کے قبائلی علاقوں میں صرف تیرہ ڈرون حملے ہوئے۔رپورٹ کے مطابق ان حملوں میں 60 سے 85 کے درمیان افراد مارے گئے جن میں عام شہریوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ پانچ تھی۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حملوں کی یہ تعداد 2014 کے26 حملوں کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد کم ہے جبکہ 2010 کے128 حملوں کے مقابلے میں سنہ 2015 میں دس گنا کمی دیکھی گئی ہے۔پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی جاسوس طیاروں کے ذریعے شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا آغاز دس، گیارہ برس پہلے 2004 میں ہوا تھا جو بہرحال اب بھی وقفے وقفے سے جاری ہے۔ صدر اوباما کے دور میں پاکستان کو صدر بش کے دور کے مقابلے میں سات گنا زیادہ مرتبہ ڈرون طیاروں کی مدد سے نشانہ بنایا جا چکا اور ان حملوں کی تعداد 370 تک پہنچ گئی ہے۔ ان حملوں کے خلاف پاکستان میں احتجاج بھی ہوتے رہے ہیں اور پاکستان سرکاری سطح پر بھی ان حملوں کی مذمت کرتا ہے۔اگر رپورٹ کو یہاں تک ہی پڑھا جائے تو گذشتہ برس بارے شکریہ امریکہ کہنا بھی بنتا ہے۔

آگے بڑھتے ہیں،رپورٹ کے مصنفین کا کہنا ہے کہ ڈرون حملے میں القاعدہ کے زیرِ قبضہ ایک امریکی اور ایک اطالوی شہری کی ہلاکت بھی سی آئی اے کی جانب سے پاکستان میں ڈرون حملوں میں کمی کی ممکنہ وجہ ہو سکتی ہے۔امریکی ڈاکٹر وارن وان سٹائن اور اطالوی شہری جیوانی لو پورتو جنوری 2015 میں پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔ اب اگر وجہ یہ ہے تو پھرطالبان کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہئے کہ انہوں نے بھی عقل کا استعمال کیا ورنہ وہ پتھر کے دور کی لڑائی کے ذریعے ہی امریکہ سے جیتنے کی کوشش کر رہے تھے۔ خیال تو ان کا یہ بھی تھا کہ وہ پاکستان کے بازاروں، سکولوں، مزاروں اور مسجدوں میں قتل عام کر کے بھی اسلام پھیلا سکتے اور کفر کو شکست دے سکتے ہیں۔ امریکی صدر براک اوباما نے ان ہلاکتوں کی تصدیق کے بعد کارروائی کی پوری ذمہ داری لیتے ہوئے اس آپریشن کے مکمل اور غیرجانبدارانہ جائزے کا اعلان کیا تھا اور یقینی طور پر کسی بھی غیر جانبدارانہ سروے میں کسی دوسرے ملک کی حدود میں حملہ عقل مندانہ اقدام قرار ہی نہیں پاتا۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق ایک برس پہلے جنوری میں پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں امریکی انسدادِ دہشت گردی ٹیم کی ایک کارروائی میں القاعدہ کے ہاتھوں یرغمال بنائے جانے والے امریکی اور ایک اطالوی شہری ہلاک ہو گئے تھے۔ وائن سٹائن کو 2011 میں لاہور سے اغوا کیا گیا تھا یہاں وہ ایک امریکی فرم کے لیے کام کرتے تھے۔ القاعدہ نے کہا تھا کہ ان کے بدلے میں امریکہ کی قید میں ایک شدت پسند کو رہا کر دیا جائے تو وہ اسے چھوڑ دیں گے۔وائن سٹائن کی مئی 2012 اور دسمبر 2013 میں دو ویڈیوز جاری کی گئی تھیں جس میں اس نے صدر اوباما سے اپنی رہائی کے لئے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے دہائی دی تھی کہ وہ دل اور دمے کے مرض میں مبتلا ہے۔اطالوی امدادی کارکن لو پورتو جنوری 2012 سے پاکستان میں لاپتہ تھا۔اطالوی میڈیا کے مطابق سسلی کے شہر پالیرمو سے تعلق رکھنے والے لو پورتو کو پاکستان آنے کے تین روز بعد ہی اغوا کر لیا گیا تھا۔ وہ 2010 کے سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے کام کرنے والی ایک جرمن تنظیم سے وابستہ تھے۔ہماری مدد کے لئے آنے والے ایک سماجی کارکن کا اغوا بھی ہمارے چہرے پرکالک ملنے کے لئے کافی تھا۔امریکی شہری کی ہلاکت پر امریکی صدر براک اوباما نے کہا تھاکہ یہ ایک نہایت تکلیف دہ نقصان ہے جس پر انہیں بہت افسوس ہے۔ایک بیان میں وائٹ ہاؤس نے ’گہرے غم‘ کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا’امریکہ کو علم نہیں تھا کہ یرغمالیوں کو القاعدہ کے اس احاطے میں رکھا گیا تھا جہاں آپریشن کیا گیا۔اگرچہ آپریشن قانون کے مطابق کیا گیا تھا اور ہماری انسدادِ دہشت گردی کی پالیسیوں سے مطابقت رکھتا تھا لیکن پھر بھی ہم اس پر مکمل آزادانہ نظر ثانی کر رہے ہیں تاکہ یہ سمجھ سکیں کہ وہاں کیا ہوا تھا اور ہم کیسے مستقبل میں اس طرح کے المناک سانحوں سے بچ سکتے ہیں‘‘اور یہ کہ ’کوئی بھی الفاظ اس خوفناک سانحے پر ہمارا افسوس ظاہر نہیں کر سکتے۔‘ امریکیوں کے لئے تو یہ نہایت تکلیف دہ نقصان تھا اور وہ اس طرح کے المناک سانحوں سے بھی بچنا چاہتے تھے اور شائد یہ بھی ایک بڑی وجہ تھی کہ دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ ہمارے بہت سارے معصوم شہریوں کی جان بھی امریکی ڈرونوں سے بچ گئی۔

وجہ ایک اور بھی ہو سکتی ہے ،پاکستان نے اپریل 2015 میں ہی ملکی سطح پر تیار کردہ ڈرون طیارے ’براق‘ کا کامیاب تجربہ کیا تھا ، پھر ستمبر 2015 میں پاکستانی ڈرون نے پہلی بار قبائلی علاقے شوال میں دہشت گردوں کے ایک احاطے کو نشانہ بنایا ۔جب ہمارے اپنے ڈرون تیار ہو گئے اور ہم اپنی حدود میں اپنے دہشت گردوں کو خود کیفر کردار تک پہنچا سکتے تھے توپھر امریکہ کو کیا ضرورت ہے کہ وہ اپنے ڈرون یہاں ’ ضائع‘ کرتا پھرے۔اس کے پاس شام، عراق اور افغانستان جیسی جگہیں بھی تو موجود تھیں جہاں اس کا خرچ بڑھ گیا تھا۔ عالمی قوت کی پاکستان کی بجائے مشر ق وسطیٰ کی طرف توجہ مبذول کروانے پر داعش جیسی تنظیم کا شکریہ بھی ادا کیا جا سکتا ہے مگر یہ شکرگزاری دل کے بے درد اورظرف کے انتہائی گھٹیاہونے کی بہترین مثال ہو گی ۔یہی وہ برس ہے جب سولہ دسمبر کے الم ناک سانحے کے بعد ہمارے آپریشن ضرب عضب میں بھی شدت آئی۔ ہم اس نے خاموش سمجھوتے کا خاتمہ کر دیا جو جنرل راحیل شریف کے چیف آف آرمی سٹاف بننے سے پہلے موجود تھا۔ ڈراوا یہ دیا جارہا تھاکہ اگرقبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی گئی تو یہ جنگ ملک کے طول و عرض میں پھیل جائے گی مگر اس کارروائی نے وہی نتائج دئیے جو جذباتی ڈراوں کی بجائے عقل اورمنطق پر مبنی تھے۔ ڈرون حملے بھی کم ہو گئے اور دہشت گردی کی وارداتوں میں بھی نمایاں کمی ہو گئی۔ مجھے کہنے دیجئے کہ پچھلے دس، بارہ برسوں میں 2015 سب سے بہتر سال رہا۔

میں اس بے چاری قوم سے ہوں کہ جس کو جوتے مارنے والے بڑھ جائیں یا پڑنے والے جوتوں کی تعداد کم ہوجائے، دونوں صورتوں میں ہی شکریہ، شکریہ کی گردان کرنے لگتی ہے۔ جنرل راحیل شریف کا ایک شکریہ تو ایک مرتبہ پھر حیران کردینے پر بنتا ہے کہ انہوں نے زمین کے فراڈ میں سابق آرمی چیف کے بھائی کامران کیانی کو شامل تفتیش کرنے کا موقع دے دیا ہے۔ یہی نہیں ہماری سیاسی اورعسکری قیادت نے دہشت گردوں کے خلاف اصولی موقف اختیار کر لیا ہے اور پٹھانکوٹ حملے کی تحقیقات میں بھارت سے مکمل تعاون کا اعلان کر دیاگیا ہے۔ اس کے بعد توصرف ہم پاکستانیوں کو ہی نہیں بلکہ بھارت کے ہٹ دھرم اور کٹ حجت بنیوں کی طرف سے شکریہ راحیل شریف کہنا بنتا ہے۔

مزید :

کالم -