پاکستانی اور چینی حکومت مقامی کرنسیوں میں تجارت کو فروغ دیں پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م

پاکستانی اور چینی حکومت مقامی کرنسیوں میں تجارت کو فروغ دیں پاکستان بزنس ...

  

کراچی (اکنامک رپورٹر)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، بزنس مین پینل کے فرسٹ وائس چےئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستانی اور چینی حکومت باہمی معاہدے کے ذریعے مقامی کرنسیوں میں تجارت کو فروغ دیں تا کہ دونوں ممالک زیادہ سے زیادہ معاشی فائدہ اٹھا سکیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایک ایسا نظام وضع کیا جائے جس کے ذریعے دونو ں ممالک کے تاجرامریکی ڈالر کے بجائے اپنی مقامی کرنسیوں پاکستانی روپے اور یوآن میں انوائسز ،چیکس اور لیٹر آف کریڈٹ کا تبادلہ کر سکیں جس سے نہ صرف خطے کی ترقی میں اضافہ ہوگابلکہ تجارتی خسارے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے منفی بیلنس آف پیمنٹ کو بھی سہارہ ملے گا اور پاکستانی روپے کی قدر میں بہتری آئے گی ۔میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ مقامی کرنسی میں کاروبار دونوں ممالک کیلیے بہتر اور سود مند ہوگاجسکے نتیجے میں ڈالر پر انحصار کم اور تجارتی خسارے کو کم کرنے میں مدد ملے گی ۔

جو کہ موجودہ صورتحال میں 1.3بلین امریکی ڈالر ہے گزشتہ سال پاکستان نے تقریباََ7.5 بلین امریکی ڈالر چین کو درآمدات کے عوض ادا کئے جبکہ 2.6ارب امریکی ڈالر کی اشیاء چین کو برآمد کی گئیں اگر پاکستان کا مقامی کرنسی میں تبادلے کے حوالے سے چین کے ساتھ کوئی نظام وضع ہوتا تو 4.9بلین امریکی ڈالر کا تجارتی خسارہ با آسانی کم ہوجاتااور آئی ایم ایف سے قرض لینے کی نوبت نہ آتی اورحکومتی سطح پر مارک اپ کی مد میں ادا کی جانے والی خطیر رقم بھی بچ جاتی ۔سابق صوبا ئی وزیر نے کہا کہ مجوزہ نظام سے پاکستان کو زیادہ فوائد حاصل ہونگے چونکہ ایسے نظام سے کمزور کرنسی کو زیادہ تقویت ملتی ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ دنیا میں ایک ہی کرنسی کا اطلاق ایک ڈراؤناخواب ثابت ہو چکا ہے جسکی واضح مثال یورپ کے موجودہ حالات ہیں۔جبکہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں11برس کی پست ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں جسکے اثرات امریکی ڈالر پر بھی پڑیں گے لہذا امریکی ڈالر پر انحصار کم کر کے ابھرتی ہوئی معاشی قوتوں پر منتقل ہوجانابہتر ہوگا ۔میاں زاہد حسین نے اس امید کا بھی اظہار کیا ہے کہ مقامی کرنسی میں لین دین کا نظام وضع ہونے کے نتیجے میں نہ صرف مقامی تجارت کو فروغ ملے گا بلکہ دنیا کے ممالک خاص طور پر مشرق وسطیٰ اور یورپ کے ممالک چین کی مصنوعات کی بلواسطہ خرید کیلیے پاکستان کو ترجیح دیں گے جس کی بدولت پاکستان چین کی 2340ارب ڈالر کی برآمدات میں سے ایک بڑا حصہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گا ۔

مزید :

کامرس -