پٹھانکوٹ حملہ کی تحقیقات میں تعاون سے پاک بھارت تعلقات بہتر ہونگے: سیاسی رہنماء، عسکری ماہرین

پٹھانکوٹ حملہ کی تحقیقات میں تعاون سے پاک بھارت تعلقات بہتر ہونگے: سیاسی ...

  

لاہور(محمد نواز سنگرا)پاکستان کا پٹھا ن کوٹ واقعہ میں بھارت کے ساتھ مکمل تعاون کا فیصلہ درست ہے ۔تعاون کی پیشکش پاک بھارت تعلقات میں اچھی پیش رفت ہو گی جو ساؤتھ ایشیاء ممالک کیلئے بھی مثبت اقدام ہو گا اور اگر بھارت کے ثبوتوں میں تحقیق کے بعد حقائق سامنے آئیں تو پاکستان کو شرپسند عناصر کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے لیکن بھارت کو الزامات کی بجائے حقائق پر مبنی گفتگو کرنی چاہیے ۔ان خیالات کا اظہار ملک کے سیاسی و عسکری ماہرین نے روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔سابق وفاقی وزیر سردار آصف احمد علی نے کہا ہے کہ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف پالیسی پوری دنیا کے سامنے واضح ہے ۔بھارت جو معلومات بھیجے اس پر تحقیقات بھی ہونی چاہیں اور اگر کہیں سے کچھ شواہد نظرآتے ہیں تو کارروائی بھی کرنی چاہیے تاکہ پاک بھارت تعلقات میں اچھی پیش رفت ہو سکے اور وسطی ایشیاء ممالک کیلئے ایک اچھا پیغام جائے کہ پاکستان اپنے ملک سمیت ہمسایہ ممالک میں بھی دہشت گردی کا خاتمہ چاہتا ہے جبکہ بھارتی دفتر خارجہ کا پٹھانکوٹ واقعہ کا الزام پاکستان پر نہ لگانا اچھا قدم ہے۔مسلم لیگ(ن)کے رہنما شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ خطے میں امن کیلئے پاکستانی حکومت دہشت گردوں کیخلاف عمل پیرا ہے تاہم بھارت کو بھی وسیع النظری کا مظاہر ہ کرتے ہے تمام مسائل کا پرامن حل نکالنے کیلئے آگے بڑھنا چاہیے۔جنرل(ر)راحت لطیف نے کہا کہ بھارتی حکومت نے پاکستان پر الزام نہ لگا کر اچھا قدم اٹھا یا ہے اور دوسری طرف حکومت پاکستان کے اقدامات بھی قابل تعریف ہیں لیکن پٹھانکوٹ واقعہ کی تحقیقات ہونی چاہیے اور مقصد کیلئے پاکستان بھی تعاون کو تیار ہے ۔بریگیڈئیر (ر)اسلم گھمن نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے تعاون کا فیصلہ درست ہے مگربھارت کو الزامات لگانے کی بجائے ٹھوس ثبوت فراہم کرنے چاہیں۔

مزید :

صفحہ آخر -