اقتصادی راہداری پر تحفظات دور کرنا حکومت کی ذمہ داری، وفاق معاملہ سنجیدگی سے لے: فضل الرحمٰن

اقتصادی راہداری پر تحفظات دور کرنا حکومت کی ذمہ داری، وفاق معاملہ سنجیدگی سے ...

  

اسلام آباد (آئی این پی) بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل )کے سربراہ سردار اختر مینگل نے جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کر کے انہیں (آج) اتوار کو اقتصادی راہداری بارے بلوچستان کی قوم پرست اور مذہبی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔اس موقع پر جے یو آئی (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے سیاستدانوں کو اقتصادی راہداری کے معاملے پر مطمئن کرنے میں ناکام رہے ہیں، اقتصادی راہداری پر تحفظات دور کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے،توقع رکھتے ہیں کہ حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے لے گی، بی این پی( مینگل )کے سربراہ اختر مینگل نے کہا ہے کہ گوادر کے لوگ کئی ماہ سے پینے کے پانی کو ترس رہے ہیں، پانی کا ایک ٹینکر 11ہزار روپے میں فروخت ہو رہا ہے، بہتر ہوتا حکومت اورنج لائن ٹرین کی بجائے پینے کا صاف پانی فراہم کرتی۔ہفتہ کو یہاں جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے سربراہ اختر مینگل نے ملاقات کی۔ جس میں انہیں (آج) اتوار کو اقتصادی راہداری بارے بلوچستان کی قوم پرست اور مذہبی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی ،جسے مولانا فضل الرحمان نے قبول کرلیا۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس تصادم نہیں بلکہ مشاورت ہے، اقتصادی راہداری منصوبے سے متعلق تحفظات دور ہونے چاہئیں، جمہوری روش میں مشاورت کے ذریعے مقاصد حاصل ہوتے ہیں، اختر مینگل نے بلوچ عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے تشریف لا کر عزت بخشی، کل جماعتی کانفرنس میں شرکت کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بی این پی مینگل کے سربراہ اختر مینگل نے کہا کہ(آج) اتوار کو ہونے والی کل جماعتی کانفرنس میں بلوچستان کا کیس سامنے رکھیں گے، آل پارٹیز کانفرنس میں مولانا فضل الرحمان بھی شریک ہوں گے، اے پی سی میں قوم پرست، مذہبی جماعتوں اور دیگر جمہوری قوتوں کو شرکت کی دعوت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی راہداری منصوبے میں شفافیت کی کمی نظر آ رہی ہے، اقتصادی راہداری منصوبے سے متعلق معاہدوں سمیت ہر چیز چھپائی جا رہی ہے،منصوبے سے گوادر کو مائنس کیا جاتا ہے تو اقتصادی راہداری کا فائدہ نہیں،ہم جاننا چاہتے ہیں کہ اقتصادی راہداری منصوبے میں بلوچستان کیلئے کیا ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -