پناہ گزینوں کے جرائم،جرمنی فراخدلانہ پالیسی بدلنے پر مجبور

پناہ گزینوں کے جرائم،جرمنی فراخدلانہ پالیسی بدلنے پر مجبور

  

تجزیہ:آفتاب احمد خان

جرمنی میں ہیپی نیو ایئر کی ہلڑ بازی میں خواتین کے ساتھ بداخلاقی کے واقعات کے پیش نظر وہاں کی حکومت نے غیر ملکی پناہ گزینوں کے بارے میں پالیسی تبدیل کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے اس سے دیگر یورپی ممالک کو بھی متعلقہ قوانین پر نظر ثانی کرنے کی ترغیب ملے گی۔ جرمن چانسلر انجیلا مرکل پناہ گزینوں کے بارے میں فراخدلانہ پالیسی کی حامی تھیں، مگر اب انہوں نے اعلان کیا ہے کہ نئے سال کی خوشی میں جرائم کا ارتکاب کرنے والے پناہ گزینوں کو جرمنی سے نکال دیا جائے گا۔

گزشتہ سال شام اور خانہ جنگی والے دوسرے ممالک سے یا دیگر وجوہ کے باعث 11 لاکھ پناہ گزین جرمنی پہنچے، سال نو کے ہلے گلے میں پانچ جرمن شہروں میں خواتین کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات کی وجہ سے اب ان پناہ گزینوں پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ ہفتے کے روز تک فرینکفرٹ، کولون، سٹٹگارٹ، ڈسلڈورف اور ہمبرگ میں قریباً تین سو خواتین نے پولیس میں رپورٹس درج کرائی ہیں، ان رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ان کے ساتھ ڈکیتی اور بے حرمتی کے واقعات پیش آئے۔ ان واقعات میں کوئی ایک ہزار مرد ملوث تھے۔ پولیس نے اس سلسلے میں ابھی تک جن 31 غیر ملکی افراد سے تفتیش کی ہے ان میں سے 18 پر الزام ثابت ہوگیا ہے۔ ملزموں میں سے نوکا تعلق الجزائر، آٹھ کا مراکش، پانچ کا ایران، چار کا شام اور ایک کا عراق سے ہے ۔ کولون میں دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، وہاں 170 خواتین نے رپورٹیں درج کرائی تھیں۔

جرمن باشندوں میں اب یہ تاثر پیدا ہونے لگا ہے کہ 11 لاکھ پناہ گزینوں کی آمد کے باعث ملکی سلامتی اور شہری زندگی کے لئے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔ اس تاثر کے پیش نظر چانسلر انجیلا مرکل نے گزشتہ روز کنزرویٹو پارٹی کے اجلاس میں اپنی تقریر میں کہا کہ خواتین پر حملے کرنے والے غیر ملکیوں کو جرمنی سے نکال دیا جانا چاہئے اور جرائم میں ملوث پناہ گزینوں کو ملک سے نکالنے کے سلسلے میں قوانین بنانے کا وقت آگیا ہے، کیونکہ ایسے لوگ حق مہمانی سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں پناہ گزینوں کو اپنے ہاں جگہ دینے سے جرمنی کو ایک نئی صورتحال کا سامنا ہے جس سے نمٹنے کے لئے حکومت کو اقدامات کرنا پڑ رہے ہیں۔ نئے سال پر کولون کی سڑکوں پر ہونے والے جشن میں مختصر سی پولیس کی موجودگی میں خواتین کے ساتھ ہونے والے جرائم کے پیش نظر مقامی پولیس سربراہ کو قبل از وقت ریٹائر کر دیا گیا ہے۔

جرمن باشندے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ جرمنی کے دروازے خانہ جنگی والے ملکوں شام اور عراق کے پناہ گزینوں پر بند کر دیے جائیں۔ اب چانسلر انجیلا مرکل اور وائس چانسلر سگمرگبریل کے درمیان یہ اتفاق رائے ہوا ہے کہ جرائم میں ملوث پناہ گزینوں کو ملک سے نکال دیا جائے، ہوسکتا ہے کہ اگلے مرحلے پر جرمنی غیر ملکی پناہ گزینوں کو لینے سے بھی انکار کر دے۔ جرمنی کو پورے یورپ بلکہ پوری دنیا میں سب سے زیادہ متحمل اور فراخ دل ملک سمجھا جاتا ہے جبکہ وہاں کی گلیوں اور سڑکوں کو محفوظ خیال کیا جاتا ہے، اسی لیے وہاں آدھی رات کے بعد سڑک پر نکلنے والی خواتین کے ساتھ عموماً کوئی جرم نہیں ہوتا۔ جرمن باشندے سمجھتے ہیں کہ لاکھوں غیر ملکی پناہ گزینوں کی آمد کے بعد سے شہروں کا ماحول پہلے جیسا نہیں رہا، حکومت اس سے متفق ہے اور صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات کرنا چاہتی ہے۔

مزید :

تجزیہ -