کالا دھن۔۔۔!

کالا دھن۔۔۔!
 کالا دھن۔۔۔!

  

اسلام آباد سے خبر آئی ہے کہ پانچ کروڑ کا لا دھن رکھنے پر اگر ایک فیصد ٹیکس جمع کرا دیا جائے تو یہ کالا دھن ’’وائٹ‘‘ میں تبدیل ہو جائے گا، یعنی اس دھن کو قانونی حیثیت حاصل ہو جائے گی۔ اب حکومت کی یہ سکیم کس حد تک کامیاب ہوتی ہے اور حکومتی ٹیکس نیٹ ورک میں اور کتنے لوگ شامل ہوتے ہیں، اس کا تو اندازہ نہیں، لیکن یہ اندازہ ضرور ہے کہ پاکستان میں ٹیکس ادا کرنے کا کوئی رواج نہیں۔ راتوں رات امیر بننے کے جتن اور شوق میں لوگ یہاں تک بھول جاتے ہیں کہ ٹیکس کی ادائیگی سے ہی ملکی ادارے اور نظام چلتا ہے۔ پوری دنیا میں ٹیکس کا جامع، مربوط اور وسیع نظام موجود ہے پرکسی کی مجال نہیں کہ وہ ٹیکس دینے کے بارے میں نہ سوچے۔ امریکہ اور یورپین ممالک سمیت دیگر بہت سے ملکوں میں ٹیکس کواپنے ایمان اور عقیدے کا حصہ سمجھ کر ادا کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان ممالک میں اچھا نظام حکومت اور نظام زندگی قائم ہے اور تمام سرکاری ادارے اپنا فعال کردار ادا کر رہے ہیں،اس کے برعکس پاکستان میں ابھی تک ٹیکس نظام کو اتنا فعال نہیں بنایا جا سکا کہ ہم کہہ سکیں کہ یہ اپنا مؤثر کردار ادا کر رہاہے۔

ٹیکس ادا نہ کیا جائے تو کاروبار حکومت نہیں چلتا اور تمام سرکاری ادارے غیر فعال ہو جاتے ہیں۔ اسی لئے دنیا کے ہر ملک میں مربوط ٹیکس کا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔ آمدن پر کتنا ٹیکس دینا ہے، مختلف اشیاء پر، وہ درآمدی ہوں یا برآمدی، ٹیکس کی شرح کیا ہو گی۔ اقتصادیات کے ماہرین ملکی ضروریات کے مطابق اس کو طے کرتے ہیں۔ جس کا اظہار وزیر خزانہ ہر سال اپنی بجٹ تقریر میں کرتے ہیں۔ اس بجٹ تقریر کا ہر خاص و عام کو انتظار رہتا ہے، جو بھی بجٹ آتا ہے،عام زندگی پر اس کے بہت گہرے اثرات ہوتے ہیں،مثلاً اگر پٹرول مہنگا کر دیا جائے تو ٹرانسپورٹ سمیت بہت سی اشیاء کے ریٹ پہلے سے بہت بڑھ جاتے ہیں۔ بسا اوقات بہت سی چیزیں اسی نسبت سے متاثر ہوتی ہیں، تاہم یہ حکومت کی بھی مجبوری ہے کہ وہ مختلف اشیاء پر لگنے والی ڈیوٹیز اور آمدن پر ٹیکس میں اضافہ کرے۔ کئی بار حکومت اپنے سالانہ بجٹ کو عوامی بجٹ کا لبادہ اوڑھانے کی بھی کوشش کرتی ہے اور اسے ایک عوامی بجٹ قرار دیا جاتا ہے ،لیکن درحقیقت ایسا نہیں ہوتا۔ عوام کی اس بجٹ کو دیکھ کر چیخیں نکل جاتی ہیں لیکن اُن کی چیخوں کو سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔

ہم ہمیشہ’’ ٹیکس‘‘ کے حق میں رہے ہیں۔ہر شخص کو اپنی آمدن پر ٹیکس ضرور دینا چاہیے کیونکہ ٹیکس کی ادائیگی سے جہاں سرکاری ادارے چلتے ہیں، وہاں اس سے ملکی سلامتی بھی وابستہ ہوتی ہے۔ فوج اور پولیس سمیت اس کے دیگر ذیلی ادارے ٹیکس کی بدولت ہی چلتے ہیں، یہ کچھ کما کر نہیں دیتے، بلکہ ان پر ہر سال اربوں روپیہ خرچ کرنا ہوتا ہے۔ ٹرانسپورٹ سے لے کر جدید اسلحے کی فراہمی اور ان فورسز کے ملازمین کی خطیر تنخواہیں بھاری ٹیکس کی مرہون منت ہیں، لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے ہاں ٹیکس کی ادائیگی کو و ہ اہمیت نہیں دی جاتی جو اسے دی جانی چاہیے۔۔۔کبھی سنتے تھے کہ پاکستان میں 60فیملیوں کی اجارہ داری ہے۔ یعنی ان خاندانوں کے پاس اتنا پیسہ ہے کہ وہ اگر صحیح طریقے سے ٹیکس ہی ادا کر دیں تو پورے ملک کی اقتصادی صورت حال بدل سکتی ہے، لیکن اب شاید یہ بڑے سرمایہ دار خاندان 60ہزار سے بھی تجاوز کر گئے ہیں،مگر ٹیکس وصول کرنے والے اداروں کے پاس کوئی ایسا میکنزم نہیں کہ وہ اندھی دولت رکھنے والوں کو بآسانی ٹیکس نیٹ ورک میں شامل کر سکیں۔

اب یہ کام کیسے ہو سکتا ہے، قطعی مشکل نہیں، اگر کوئی اپنی آمدن کو محض اس لئے ظاہر نہیں کرتا کہ ٹیکس سے بچ سکے تو اس کا آسان ترین طریقہ یہی ہے کہ دیکھا جائے اور چیک کیا جائے کہ پاکستان بننے کے بعد وہ خاندان کہاں رہائش رکھتا تھا۔ اُس کا کاروبار کیا تھا اور اُس کی آسائشی زندگی اب کیسی ہے۔ جس شاہانہ ٹھاٹھ بھاٹھ اور شان و شوکت سے اُس خاندان نے اپنی زندگی گزاری ہے ، کیا اُس کے مطابق ٹیکس بھی ادا کیا ہے؟ آپ لاہور سمیت دیگر بڑے شہروں کے پوش علاقوں میں چلے جائیں۔ کنالوں اور ایکڑوں میں پھیلے ہوئے محل نما گھر دیکھیں۔ کئی کئی لگژری گاڑیاں اور رہن سہن کا بادشاہانہ انداز ضرور اس بات کی غمازی کرے گا کہ یہ خاندان کس قسم کی زندگی گزارتا ہے اور یقیناًاسی صورت میں گزارتا ہو گا کہ اُس کے ذرائع آمدن حد سے زیادہ ہوں گے۔ پھر دیکھا جائے کہ وہ ٹیکس نیٹ ورک میں بھی شامل ہے یانہیں، اگر ہے تو کتنا ٹیکس ادا کرتا ہے؟ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا، جس سے ٹیکس نظام کو فائدہ پہنچے گا۔

مزید :

کالم -