افغانستان کے مسئلے پر چار ملکی مذاکرات میں پیشرفت ہوگی،امریکہ

افغانستان کے مسئلے پر چار ملکی مذاکرات میں پیشرفت ہوگی،امریکہ

  

واشنگٹن (اظہر زمان، بیوروچیف) امریکہ نے امید ظاہر کی ہے کہ افغانستان کے مشکل مسئلے پر ہونے والے چار ریاستی مذاکرات میں یقیناً پیشرفت ہوگی۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان جان کیری سے پریس بریفنگ میں یہ سوال پوچھا گیا تھا کہ 11 جنوری پیر کے روز اسلام آباد میں امریکہ، چین، افغانستان اور پاکستان کے نمائندوں کے درمیان ہونے والی بات چیت سے امریکہ کو کیا توقعات ہیں جس میں طالبان سے امن مذاکرات کا ایجنڈا طے کیا جائے گا۔امریکی ترجمان نے بتایا کہ ہم یقیناً اس بات چیت میں شرکت کریں گے، کیونکہ یہ افغانستان، چین اور پاکستان کے ساتھ ہماری شراکت کو مضبوط بنانے کا ایک اچھا موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ ماہ ہونے والی ’’ہارٹ آف ایشیا‘‘ کانفرنس کا کا یہ ایک اچھا اور قابل ذکر فالوآپ ہے۔ امریکی ترجمان نے واضح کیا کہ امریکہ کی ہمیسہ س یہ پالیسی رہی ہے طالبان کے ساتھ مصالحت کے مذاکرات کی قیادت اور ملکیت افغان حکومت کے پاس ہونی چاہئے اور اسلام آباد میں ہونے والی آئندہ بات چیت اسی اصول کے مطابق ہی ہو رہی ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ اسلام آباد مذاکرات کا بنیادی مقصد طالبان کے ساتھ مصالحتی باتی چیت کی شرائط پر چاروں ملکوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ 11 جنوری کے مذاکرات میں طالبان کا کوئی نمائندہ شریک نہیں ہوگا۔امریکی ترجمان نے امریکی وفد کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ یہ ابھی تشکیل دیا جا رہا ہے۔ تاہم واشنگٹن کے مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے بارے میں امریکی مندوب رچرڈ اولسن اس بات چیت میں امریکی کی نمائندگی کریں گے اور خطے کے دورے پر آنے والے نائب وزیر خارجہ ٹونی بلنکن کی بھی ان مذاکرات میں شرکت کا امکان ہے۔ واشنگٹن کے مبصرین کا خیال ہے کہ چار ریاستی بات چیت کو بہت سی مشکلات کا سامنا ہوگا اور ان چاروں ممالک کو طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کا مشترکہ ایجنڈا طے کرنا آسان نہیں ہوگا کیونکہ اس مسئلے پر تمام ممالک ایک صفحے پر نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ گزشتہ برس جولائی میں طالبان کے ساتھ جس مصالحتی بات چیت کا آغاز ہوا تھا، وہ اس وقت تعطل کا شکار ہوگئی تھی جب یہ خبر سامنے آئی کہ طالبان کا سربراہ ملا عمر دو سال قبل وفات پاگیا تھا۔ مسئلہ یہ ہے کہ طالبان اس وقت مختلف گروہوں میں تقسیم ہیں۔ مبصرین سمجھتے ہیں کہ پائیدار امن کے قیام کے لئے ضروری ہے کہ طالبان ملا اختر منصور کی سربراہ میں بڑے دھڑے کے علاوہ حقانی نیٹ ورک اور گلبدین حکمت یار سمیت تمام گروہوں کو اعتماد میں لیا جائے۔

مزید :

صفحہ اول -