سعودی وزیردفاع محمد بن سلمان کی شخصیت دنیا کی توجہ کا مرکز بن چکی

سعودی وزیردفاع محمد بن سلمان کی شخصیت دنیا کی توجہ کا مرکز بن چکی
سعودی وزیردفاع محمد بن سلمان کی شخصیت دنیا کی توجہ کا مرکز بن چکی

  

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب کے نائب ولی عہد اور وزیردفاع محمد بن سلمان کی غیر معمولی شخصیت سعودی عرب کے ساتھ ساتھ بیرونی دنیا میں بھی توجہ کا مرکز بن چکی ہے۔ وہ دنیا کے کم عمر ترین وزیر دفاع ہیں اور طاقتور ترین عالمی رہنماؤں میں شمار ہونے لگے ہیں۔ ان کی شخصیت کے کئی پہلو آج تک عام لوگوں کی نظر سے مخفی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کے بارے میں خاصا تجسس پایا جاتا ہے۔برطانوی اخبار ’’دی انڈیپنڈنٹ‘‘ نے اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں لکھا ہے کہ محمد بن سلمان انتہائی بلند حوصلہ انسان اور جارح طبیعت کے مالک ہیں اور ملک کے اندر اور باہر موجود اپنے دشمنوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ شاہی محل میں انہیں ایک خاص نام سے پکارا جاتا ہے، جو باہر کی دنیا کو معلوم نہیں۔ ان کے اصل نام کی بجائے اکثر انہیں MbS (جو کہ محمد بن سلمان کا مخفف ہے) کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ وہ جب 12سال کے تھے تبھی سے انہوں نے اپنے باپ شاہ سلمان کے ہمراہ اجلاسوں اور میٹنگز میں بیٹھنا شروع کر دیا تھا، جو اس وقت سعودی عرب کے صوبہ ریاض کے گورنر تھے۔شہزادہ محمد نے ابتدائی عمر میں ہی جائیداد کی خریدوفروخت اورشیئرز کی خریداری جیسے کاروبار شروع کر دیئے تھے۔ وہ پڑھنے کے لیے سعودی عرب سے باہر نہیں گئے بلکہ ملک میں ہی شاہ سعود یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کی۔2011ء میں شہزادہ کے والد، موجودہ فرمانروا شاہ سلمان، نائب ولی عہد بن گئے اور وزیردفاع کا عہدہ سنبھال لیا۔ چونکہ شہزادہ محمد بچپن ہی سے ہر قدم پر اپنے والد کے ساتھ رہتے تھے، ان کے وزارت دفاع کے دور میں بھی شہزادہ محمد ان کے ہمرکاب رہے اور وزارت دفاع کے اسرارورموز سمجھتے رہے۔ جنوری 2015ء میں شاہ سلمان بادشاہت کے منصب پر فائز ہوئے۔ بادشاہ بننے کے بعد شاہ سلمان نے بھی شہزادہ محمد پر ہی سب سے زیادہ اعتماد کا اظہار کیا اورانہیں اپنا وزیردفاع مقرر کر دیا۔جب شہزادہ محمد وزیردفاع بنے ان کی عمر29سال تھی، اس طرح وہ دنیا کے کم عمر ترین وزیردفاع بھی قرار پائے۔وہ ملک کے اندر اور باہر شرپسندوں کی سرکوبی کے لیے سعودی اتحاد کی سربراہی بھی کر رہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مستقبل کے مشرق وسطیٰ کی سمت کا تعین کرنے میں شہزادہ محمد بہت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، اور کچھ بعید نہیں کہ ان کا شمار سعودی عرب کی تاریخ کے چند ترین اہم ترین ناموں میں ہو۔

مزید :

صفحہ اول -