عمران فاروق کے قتل کی منصوبہ بندی کراچی میں کی گئی تھی، ملزمان خالد شمیم ، محسن علی کا انکشاف

عمران فاروق کے قتل کی منصوبہ بندی کراچی میں کی گئی تھی، ملزمان خالد شمیم ، ...

  

اسلام آباد (آئی این پی)ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں گرفتار ملزمان خالد شمیم اور محسن علی نے انکشاف کیا ہے کہ عمران فاروق کے قتل کی منصوبہ بندی کراچی میں کی گئی تھی، قتل کیلئے محمد انور نے الطاف حسین کے کزن کے ہاتھ 25ہزار پاؤنڈ بھجوائے، قتل کے بدلے ایم کیو ایم سیکرٹریٹ لندن میں ایڈجسٹمنٹ کرنے کی پیشکش کی کی گئی، عمران فاروق کے قتل کے بعد معظم علی کو کاشف نے ٹیلیفون کر کے بتایا کہ ’’ماموں کی صبح ہو گئی‘‘ یعنی کام ہو گیا۔ ہفتہ کو ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کے گرفتار ملزمان خالد شمیم اور محسن علی کے اعترافی بیانات کی کاپی منظر عام پر آ گئی۔عدالت کو جمع کرائے گئے اپنے اعترافی بیان میں ملزم خالد شمیم نے کہا کہ ایم کیو ایم نے مجھے واٹر بورڈ میں نوکری دلائی جس کی تنخواہ گھر بیٹھ کر وصول کرتا تھا،قتل کیلئے مجھے 25 ہزار پاؤنڈ بھجوائے گئے محسن علی سے نائن زیرو پر ملاقات میں قتل کی منصوبہ بندی کی 5 سال افغانستان میں گزار کر چمن بارڈر سے پاکستان واپس آئے،عمران فاروق کے قتل کے بعد معظم علی کو کاشف نے ٹیلیفون کر کے بتایا کہ ’’ماموں کی صبح ہو گئی‘‘ یعنی کام ہو گیا۔ قائد ایم کیو ایم سے ایک دفعہ فون پر پارٹی امور کے حوالے سے بات ہوئی، محسن اور کاشف کو لندن اکیڈمی منیجمنٹ سائنسز میں داخلہ دلایا گیا 16 ستمبر کو عمران فاروق کے قتل کی تاریخ محمد انور کے کہنے پر مقرر ہوئی، محمد انور نے کہاتھاکہ عمران فاروق اپنی ایک الگ پارٹی بنانا چاہتے ہیں ،انور کی ہدایت ملی تو محسن اور کاشف کے ساتھ مل کر منصوبہ بنایا،کام ہوگیا تو محمد انور نے ہمارا پتا بھی صاف کرنے کی کوشش کی جبکہ محسن علی نے اپنے بیان میں انکشاف کیا کہ کاشف کو پارٹی کی مرکزی قیادت کی طرف سے حکم ملا کہ عمران فاروق کو مار دو ، لندن پہنچا تو اکبر نامی شخص مجھے لینے آیا ہوا تھا، مجھے ایم کیو ایم لندن سیکرٹریٹ میں ایڈجسٹ کرنے کی پیشکش کی گئی ، کاشف علی لندن پہنچا تو آتے ہی عمران فاروق کی ریکی شروع کردی، واردات کیلئے ون پاؤنڈ شاپ سے چھریوں کا سیٹ خریدا، قتل کی واردات کے بعد رین کوٹ اور چھریاں راستے میں ہی پھینک دیں۔

مزید :

صفحہ اول -