چارسدہ میں سودی کاروبار عروج پر ،کھلے عام جاری

چارسدہ میں سودی کاروبار عروج پر ،کھلے عام جاری

  

چارسدہ (ڈسٹرکٹ رپورٹر) چارسدہ میں سودی کاروبار کا بازار گرم ، سود خور کھلے عام خالق کائنات سے میدان جنگ میں لڑنے لگے ۔ مجبور عوام اپنی جمع پونجی مال اسباب اور اپنی جونپڑیوں تک سود کے آگ میں جھونکنے لگے ۔ حکومتی اعلانات برائے نام اقدامات بھی سرد خانے کے نظر ۔ تفصیلات کے مطابق چارسدہ بھر میں سودی کاروبار دھڑلے سے جاری ہے ۔ بااثر افراد معمولی رقوم بڑے بڑے سودی شرخ پر دیکر ضرورت مند اور مجبوروں کے جمع پونجی سمیٹنے لگے ہیں اور خدائی نظام اور قانون کے مد مقابل ریاست اور قانون کو چیلنج کرنے لگے ہیں۔ ماضی قریب میں موجودہ حکومت میں سود خوروں کے خلاف ڈیٹا اکھٹا کرنے کا عمل شروع کرکے ایک قابل ستائش اور امید افزاء ماحول کیلئے راہ ہموار کر دی تھی لیکن نامعلوم وجوہات کے بنا پر تمام مشق بے کار ہو کر سرد خانے کے نظر ہو کر فائلوں میں دھب گیااور سود خور بے دھڑک اپنی پیٹوں کو سود در سود کے منافع سے بھر کر سود میں جھکڑے شہریوں کے گھروں تک میں جھاڑو پھیرنے لگے ہیں۔ ٹرانسپورٹ سے لیکر مویشوں کے کاروبار تک سودی نظام پر منتقل کرنے والے حکومت کیلئے چیلنج بن گئے ہیں تحصیل تنگی کے علاقہ جندی پل میں موٹر سائیکل شورومز بڑے سودی مراکز شمار کئے جاتے ہیں جبکہ ضلع بھر کے دیگر علاقہ جات شبقدر چارسدہ وغیرہ میں سود خور منافع کے نام پر سودی نظام میں معیشت جھکڑ کر ساہوکارانہ نظام کے محور بن گئے ہیں۔ پراپرٹی ڈیلرز سمیت چینی، چاول، گھی اور دیگر اجناس کے کاروباری بھی سودی نظام رائج کرنے کیلئے میدان میں اتر کر اللہ کے احکامات کو پاؤں تلے روند کر اللہ تعالیٰ سے باغی بن گئیں ہیں ۔ چارسدہ میں سودی تجارت کو وسعت ملنے سے اگر ایک طرف مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے تو دوسری طرف کساد بازار ی میں عروج پر ہے ۔ صوبائی محلوط حکومت میں شامل مذہب کے نام پر سیاست کرنے والے جماعتوں کے ایم پی ایز اور وزراء بھی خاموش رہ کر خدائی نظام کے خلاف آنے والوں کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ اس سلسلے میں شبقد ر کے رہائشیوں نے جہانگیر امیر حاجی جمشید امیر قاری حامد ۔شاد علی اور دیگر نے شبقدر میڈیا سنٹر اور چارسدہ پریس کلب کے اخباری نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے سودی کاروبار کے خاتمے کے لیے بہت بڑے وعدے کیے تھے اور وزیر اعلیٰ نے احکامات بھی جاری کیے تھے لیکن افسوس کی بات ہے کہ سودی کاروبار کے خاتمے میں حکومت کے ساتھ ساتھ کوئی بھی سیاسی اور مذہبی جماعت سنجیدہ نہیں۔ مذہبی جماعتیں بھی صرف اخباری بیانات جاری کرکے ، فوٹو سیشن تک محدود ہے ۔

مزید :

پشاورصفحہ اول -