سینیٹر طاہر مشہدی کیس میں فیصلہ 15 جنوری تک محفوظ کرلیاگیا

سینیٹر طاہر مشہدی کیس میں فیصلہ 15 جنوری تک محفوظ کرلیاگیا

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)کراچی کی انسداد دہشتگردی کی عدالت نے ایم کیو ایم کے سینیٹر طاہر مشہدی کیس میں فیصلہ 15 جنوری تک محفوظ کرلیاہے۔ طاہر مشہدی پر الطاف حسین کی اشتعال انگیز تقریر میں سہولت کاری کا الزام ہے۔ہفتہ کوکراچی کی انسداد دہشتگردی کی عدالت میں کیس کی سماعت ہوئی ایم کیو ایم کے سینیٹر طاہر مشہدی اپنے وکیل فاروق ایچ نائیک کے ہمراہ عدالت پہنچے، عدالت میں پولیس کی جانب سے رپورٹ پیش کی گئی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ طاہر مشہدی پر الزام ثابت نہیں ہوا ، وہ بے گناہ ہیں، پولیس رپورٹ کے مطابق الطاف حسین کی تقریر کے وقت طاہر مشہدی موقع پر موجود نہیں تھے، عدالت نے کیس کا فیصلہ 15 جنوری تک محفوظ کرلیا، طاہر مشہدی کیخلاف مقدمہ نیوٹان تھانے میں درج کیا گیا تھا، پیشی کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سینیٹر طاہر مشہدی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ طاہر مشہدی کو بے گناہ قرار دیا گیا ہے، پولیس نے اپنی رپورٹ پیش کردی ہے، انہوں نے کہا کہ فیصلہ محفوظ کرلیا گیا ہے جو 15 جنوری کو سنایا جائے گا، انہوں نے کہا کہ رینجرز کو قانون کے مطابق کارروائی کرنے چاہیے، معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کیا جائے تو اس کے مثبت نتائج نکلتے ہیں، رینجرز کے قانون سے بالاتر اقدامات کرے گی تو اس کا فائدہ جرائم پیشہ عناصر کو ہوگا، وفاقی حکومت کو بھی اس سلسلے میں اپنی ذمے داری نبھانا ہوگی، وزیراعلی سندھ کو جب کراچی آپریشن کا کپتان بنایا گیا تو ان سے ہدایات کیوں نہیں لی جا رہیں، اگر رینجرز ان کی ہدایات کے بعد کارروائی کرے تو بہتر ہوگا۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -