جنگ عظیم دوئم کے دوران جاپانیوں نے 9 میں سے 8 امریکی پائلٹوں کو مارڈالا، صرف ایک زندہ بچا جس نے آج دنیا کو تباہی کے دہانے پر پہنچادیا

جنگ عظیم دوئم کے دوران جاپانیوں نے 9 میں سے 8 امریکی پائلٹوں کو مارڈالا، صرف ...
جنگ عظیم دوئم کے دوران جاپانیوں نے 9 میں سے 8 امریکی پائلٹوں کو مارڈالا، صرف ایک زندہ بچا جس نے آج دنیا کو تباہی کے دہانے پر پہنچادیا

  

نیویارک(نیوزڈیسک)مشرق وسطیٰ کی موجودہ بے چینی چند سالوں کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ یہ اس وقت شروع ہوئی جب امریکہ نے صدام حسین کے بہانے اور عراق کوکنٹرول کرنے کی غرض سے یہاں اپنے اڈے 1990ءکی خلیجی جنگ میں قائم کئے اور اس کے پیچھے سب سے نمایا ں ہاتھ اس وقت کے امریکی صدر جارج بش سینئر کا ہے جس نے ’نیوورلڈآرڈر‘کی اصطلاح دے کر امریکہ کا تسلط پوری دنیا پر قائم کرنے کی کوشش کی اور اس کی وجہ سے پاکستان،مشرق وسطیٰ اور وسطیٰ ایشیاءکے مسلمان ممالک میں کافی بدامنی بھی ہوئی۔بات یہاں تمام نہ ہوئی بلکہ اس کے بیٹے جارج بش نے 11ستمبر کے حملوں کے بعد پوری دنیا کو میدان جنگ بنا دیا۔بظاہر دہشت گردی کے نام پر شروع کی جانے والی جنگ میں تمام مسلم ممالک بالخصوص پاکستان،افغانستان،عراق،شام،لیبیا،مصر اورسعودی عرب کونشانہ بنایا گیا۔

اوپر تمام باتیں بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ آپ کو یہ علم ہوسکے کہ اصل میں جارج بش سینئر نے کس طریقے سے دنیا کی سلامتی کوخطرے میں ڈال رکھا ہے۔یہاں ہم آپ کو تاریخ کی ایک ایسی حقیقت بتائیں گے جسے جان کر آپ حیران ہوں گے۔

یہ دوسری جنگ عظیم کے دن تھے اور 1944ءکا سال اور جارج بش سینئرایک20سال کا نوجوان تھا جو کہ امریکی ایئرفورس میں خدمات انجام دے رہا تھا۔اسے دیگر آٹھ پائلٹوں کے ساتھ ٹوکیوکے جنوب میں 1100کلومیٹر دور ایک جزیرے Chichijimaپر حملے کے لئے بھیجا گیالیکن ان 9میں سے 8پائلٹوں کو جاپانی فوج نے گرفتار کرلیا اور انہیں موت کے گھاٹ اتار دیالیکن یہ جارج بش سینئر کی خوش قسمتی تھی کہ وہ جاپانی فوج کے ہاتھوں بچ نکلا۔کہا جاتا ہے کہ جاپانی فوج نے 8میں سے4افراد کے جسم کے مختلف اعضاءبھی کھالئے تھے۔جارج بش سینئر واپس امریکہ آگیا اور1946ءمیں اس کے ہاں ایک بچے کی پیدائش ہوئی جسے لوگ آج کل جارج والکر بش کے نام سے جانتے ہیں اور یہ بھی امریکی صدر بنا۔

مورخین کہتے ہیں کہ اگر جارج بش سینئر دیگر پائلٹوں کے ساتھ مارا جاتا تو شاید جارج بش پیدا نہ ہوتا اور دنیا کی حالت آج سے کچھ مختلف ضرور ہوتی۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -